ہفتہ, اپریل 18, 2026
اشتہار

پاکستان کرکٹ کا فیصلہ کن موڑ

اشتہار

حیرت انگیز

پاک بھارت کرکٹ ٹاکرے کا نقّارہ بجتا ہے تو موسم بدل جاتے ہیں۔ گلیوں میں گفتگو کا رنگ گہرا ہو جاتا ہے، چائے خانوں میں بحث کی آنچ تیز ہو جاتی ہے اور گھروں میں دعاؤں کی سرگوشیاں سنائی دینے لگتی ہیں۔ اس معرکے میں صرف کھلاڑی میدان میں نہیں اترتے، کروڑوں دل بھی ان کے ہمراہ اترتے ہیں۔ شائقین کی نظریں اسکرین پر جمی رہتی ہیں، ہر اوور کے ساتھ سانسیں تھمتی ہیں اور ہر شاٹ پر سانس پھولنے لگتا ہے۔

تاریخ کے اوراق سے دھول اُڑائیں تو اب تک دونوں ٹیموں کے درمیان دو سو سے زائد بین الاقوامی سطح کے مقابلے ہو چکے ہیں جن میں پاکستان نے مجموعی طور پر بھارت سے زیادہ فتوحات سمیٹیں، مگر حالیہ برسوں میں پلڑا دوسری سمت جھک چکا ہے۔ ون ڈے کرکٹ میں پاکستان نے طویل عرصہ برتری قائم رکھی، مگر ٹی ٹوئنٹی پر بھارت کا تقریباً مکمل غلبہ دکھائی دیتا ہے۔ یہ وہ حقیقت ہے جو پاکستانی شائقین کے دلوں میں چبھن بھی پیدا کرتی ہے اور سوال بھی کہ آخر کیوں؟ اور کب تک؟

1978ء میں پہلا ایک روزہ مقابلہ ہوا تو شاید کسی نے نہ سوچا تھا کہ یہ سلسلہ ایک عہد ساز رقابت میں ڈھل جائے گا۔ 80 کی دہائی اور اس کے بعد کے برسوں میں پاکستان نے اپنی تیز رفتار بولنگ اور جارحانہ بیٹنگ کے سہارے بھارت پر سبقت حاصل کی۔ شارجہ کے میدانوں میں سبز ہلالی پرچم کی لہراتی ہوئی فتح، آج بھی یادوں میں زندہ ہے۔ 1986ء کے آسٹریلیا ایشیا کپ میں آخری گیند پر چھکا لگانے کا وہ منظر آج برصغیر میں کرکٹ کی تاریخ کا استعارہ ہے۔ انیس سو نوّے کی دہائی میں بھی پاکستان کا پلڑا بھاری رہا۔ 1992ء کے عالمی کپ میں عمران خان کی قیادت میں فتح نے اعتماد کی ایک نئی فضا قائم کی۔ 1996ء کے کوارٹر فائنل میں بنگلور کی رات نے جذبات کو آسمان تک پہنچا دیا۔ ان برسوں میں ایسا محسوس ہوتا تھا کہ بھارت کے خلاف پاکستان کے اعصاب زیادہ مضبوط ہیں، بولرز زیادہ کاٹ دار ہیں اور بلّے باز زیادہ بے باک۔

وقت کا پہیہ رکا نہیں۔ دو ہزار کی دہائی میں مقابلہ نسبتاً متوازن ہوا۔ 2004ء میں بھارت نے پاکستان کا دورہ کیا تو کرکٹ سفارت کاری کی نئی مثال قائم ہوئی۔ سیریز میں سخت مقابلہ ہوا اور دونوں اطراف کے شائقین نے کھیل کو قریب سے دیکھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب محسوس ہوتا تھا کہ رائیولری اگرچہ برقرار ہے، مگر اس میں تلخی کی شدت کچھ کم ہوئی ہے۔ پسِ پردہ ایک بڑی تبدیلی جنم لے رہی تھی۔ بھارت میں کرکٹ کا ڈھانچا مضبوط ہو رہا تھا۔ کرکٹ بورڈ میں مالی استحکام، انفراسٹرکچر اور لیگ سسٹم پر بے مثال سرمایہ کاری کا آغاز ہوا۔ آئی پی ایل وجود میں آئی، جس نے نہ صرف بھارتی بلکہ عالمی کرکٹ کا نقشہ بدل ڈالا بلکہ نوجوان کھلاڑیوں کو بڑا اسٹیج، جدید کوچنگ اور مالی تحفظ بھی میسر آیا۔

2010ء کے بعد منظر نامہ واضح طور پر بدلنے لگا۔ دو طرفہ سیریز تقریباً ختم ہو گئیں اور مقابلے زیادہ تر آئی سی سی ٹورنامنٹس تک محدود ہو گئے۔ انہی عالمی مقابلوں میں بھارت نے نفسیاتی اور فنی برتری حاصل کی۔ 2017ء میں پاکستان نے ایک شاندار لمحہ ضرور تخلیق کیا، آئی سی سی ٹرافی کے فائنل میں تاریخی فتح۔ فخر زمان کی سنچری، محمد عامر کی تباہ کن اسپیل اور سرفراز احمد کی قیادت نے بھارت کو حیران کر دیا۔ یہ جیت پاکستانی شائقین کے لیے اعلان تھا کہ فکر نہ کیجیے پاکستان کرکٹ کے میدان میں ابھی زندہ ہے۔

مگر اس کے بعد داستان نے کروٹ بدلی۔ 2023ء کے ایشیا کپ میں کولمبو کی شکست، جہاں بھارت نے رنز کا پہاڑ کھڑا کر دیا، اور پھر عالمی کپ میں یک طرفہ مقابلہ، یہ سب اس بات کی علامت بن گئے کہ فاصلہ بڑھ چکا ہے۔ 2026ء کے ٹی ٹوئنٹی عالمی کپ میں 61 رنز کی حالیہ شکست نے اس خلیج کو اور نمایاں کر دیا۔ ٹی ٹوئنٹی میں تو بھارت کی برتری تقریباً مکمل دکھائی دیتی ہے۔

یہ سوال اب ناگزیر ہے کہ پاکستان کرکٹ کا ڈاؤن فال کیوں اور کیسے شروع ہوا؟ اس کا جواب جذبات میں آکر نہ دیا جاسکتا ہے نہ ہی سمجھا جا سکتا ہے، کیونکہ اِس کے پس منظر میں ایک مکمل نظام پوشیدہ ہے۔ یہ کوئی ڈھکی چھپی حقیقت نہیں کہ یہاں پر انتظامی عدم استحکام، پاکستان کرکٹ بورڈ میں بار بار تبدیلیاں، سیاسی اثر و رسوخ اور پالیسیوں کا تسلسل نہ ہونا، یہ سب وہ زخم ہیں جو وقت کے ساتھ گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ ہر نیا چیئرمین نئی سمت، ہر نئی حکومت نیا منصوبہ؛ مگر کوئی طویل المدتی حکمتِ عملی نہیں۔ بات یہاں نہیں رکتی، مزید دیکھیں تو ڈومیسٹک ڈھانچے کی کمزوری بھی نظر آتی ہے۔ جہاں بھارت نے اکیڈمیوں، ڈیٹا اینالیسس، فٹنس سائنس اور لیگ کرکٹ کو مضبوط کیا، وہیں پاکستان میں فرسٹ کلاس اسٹرکچر بارہا تبدیل ہوا۔ نوجوان کھلاڑیوں کو مستقل پلیٹ فارم میسر نہ آ سکا۔ ٹیلنٹ تو پیدا ہوا، مگر تراش خراش کا عمل ادھورا رہا۔ یہ پہلو بھی نمایاں ہے کہ بھارت کے خلاف میچ کو "جنگ” کا درجہ دینے سے کھلاڑیوں پر غیر معمولی نفسیاتی دباؤ بڑھا۔ جب کھیل جذبات کی آگ میں جھلسنے لگے تو تکنیک اور حکمت پس منظر میں چلی جاتی ہے۔ملکی ذرایع ابلاغ اور سوشل میڈیا کی تند و تیز تنقید نے اس دباؤ کو دو چند کیا۔ فٹنس اور سائنسی تیاری کے فقدان کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ جدید کرکٹ اب مہارت تک محدود نہیں رہی بلکہ فٹنس، غذائیت اور ڈیٹا اینالیسس کا کھیل بھی بن گئی ہے۔ بھارتی کھلاڑیوں کی جسمانی تیاری اور بینچ اسٹرینتھ قابلِ رشک ہے۔ پاکستان میں انجریز اور عدم تسلسل ایک مستقل مسئلہ رہے۔

لکھنے والے لکھتے جا رہے ہیں، بولنے والے بولتے چلے جارہے ہیں۔ خدارا! بہت ہو گیا اب ہمیں اِس نوحہ خوانی سے نکلنا ہے، میدانِ عمل میں آنا ہے۔ اگر ہمیں دوبارہ سنہری تاریخ رقم کرنی ہے تو اصلاح ناگزیر ہے۔ سب سے پہلے بورڈ کو سیاسی مداخلت سے آزاد کر کے ایک پیشہ ور اور طویل المدتی منصوبہ بندی کا نظام قائم کرنا ہوگا۔ پانچ یا دس سالہ روڈ میپ ترتیب دیا جائے جس میں ڈومیسٹک کرکٹ، یوتھ ڈیولپمنٹ اور کوچنگ کا واضح خاکہ ہو۔ ڈومیسٹک کرکٹ کو مستحکم اور با وقار بنایا جائے۔ اکیڈمیوں کا جال بچھایا جائے جہاں فٹنس، ذہنی مضبوطی اور تکنیکی مہارت پر سائنسی انداز میں کام ہو۔ جدید ڈیٹا اینالیسس اور اسپورٹس سائیکالوجی کو لازمی جزو بنایا جائے۔ بھارت کے خلاف میچ کو قومی وقار یا انا کا مسئلہ بنانے کے بجائے پیشہ ورانہ چیلنج سمجھا جائے۔ ہر شکست کو سبق اور ہر فتح کو سنگِ میل جانا جائے، نہ کہ آخری منزل۔ بھارت سیاسی رنگ دینا چاہے تو دے لاکھ دے مگر اس کے جواب میں ہم کھیل کو کھیل رہنے دیں تو بھارت پر بھی دباؤ بڑھے گا، روایتی حریف کے لیے میدان سے باہر سافٹ کارنر رکھیں، رویہ میں نرمی اسکرین کی زینت بنے۔ علاوہ ازیں نوجوانوں پر سرمایہ کاری کو بھی اہمیت دیں، انڈر 19 اور انڈر 23 سطح پر بھرپور توجہ دی جائے تاکہ اگلی نسل اعتماد اور تیاری کے ساتھ میدان میں اترے۔ لیگ کرکٹ کو معیار اور شفافیت کے ساتھ مضبوط کیا جائے۔ اگر نظام درست ہو، نیت صاف ہو اور منصوبہ واضح ہو تو وہ دن دوبارہ آ سکتا ہے جب یہ رائیولری برابر کی ٹکر بنے گی۔ ورنہ خطرہ یہ ہے کہ تاریخ کی یہ داستان یک طرفہ قصہ بن کر رہ جائے۔

حسیب اعجاز عاشر
+ posts

اہم ترین

مزید خبریں