The news is by your side.

Advertisement

ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کی وینٹ انتظامات نہ ہونے پر سندھ حکومت پر تنقید

کراچی: ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن سندھ نے اسپتالوں میں وینٹی لیٹرز کے انتظامات نہ ہونے پر سندھ حکومت پر شدید تنقید کی ہے۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق چیئرمین وائی ڈے اے ڈاکٹر عمر سلطان نے کہا ہے کہ سندھ حکومت کے دعوے بے بنیاد ثابت ہو گئے ہیں، 26 فروری کو پہلے کیس کے رپورٹ ہونے کے بعد وینٹی لیٹرز کے انتظامات نہ کیے جا سکے۔

ڈاکٹر عمر سلطان کا کہنا تھا کہ کرونا وائرس پاکستان میں تیسرے اسپل میں موجود ہے، وائرس کے مقامی منتقلی کے کیسز میں اضافے کا سلسلہ جاری ہے، وزرا کی جانب سے 2 سے 3 دن پریس کانفرنس کا سلسلہ بھی جاری ہے، اور وہ شکوہ کر رہے ہیں کہ وفاق کی جانب سے تاحال کوئی وینٹی لیٹر فراہم نہیں کیا گیا۔

کرونا سے متاثرہ ڈاکٹر کو وینٹی لیٹر نہ ملا، بے بسی کی حالت میں جان دے دی

واضح رہے کہ گزشتہ رات کرونا وائرس سے متاثر ہونے والے فرنٹ لائن سولجر ڈاکٹر فرقان نے وینٹی لیٹر نہ ملنے کی وجہ سے بے بسی کی حالت میں جان دے دی تھی، ڈاکٹر فرقان کئی دنوں سے گھر میں آئسولیٹ تھے، وہ کراچی انسٹی ٹیوٹ آف ہارٹ ڈیزیز سے ریٹائرڈ تھے۔

ڈاکٹر کے اہل خانہ کا کہنا تھا کہ طبیعت بگڑنے پر انھیں پہلے ایس آئی یو ٹی اور پھر انڈس اسپتال لے جایا گیا، مگر کہیں آئی سی یو اور وینٹی لیٹر خالی نہیں تھا، سرکاری اسپتال کے کئی وینٹی لیٹرز خراب پڑے ہیں، کوئی ایک ٹھیک ہوتا تو ڈاکٹر فرقان کی جان بچائی جا سکتی تھی۔

سندھ حکومت کرونا کے نام پر 2 ارب سے زائد کی رقم خرچ کر چکی ہے لیکن نتیجہ صفر نظر آ رہا ہے، ذرایع کا کہنا ہے کہ سندھ میں تقریباً 350 کے قریب وینٹی لیٹرز موجود ہیں جن میں سے 70 سے زائد خراب ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں