The news is by your side.

Advertisement

کوے سے دشمنی مول لینا مہنگا پڑ سکتا ہے!

کیا کبھی آپ نے کسی کوے سے دشمنی کی ہے؟ اگر ہاں تو جان لیں کہ یہ دشمنی آپ کو بہت مہنگی پڑ سکتی ہے۔

گھر کی چھتوں، بالکونیوں، کھڑکیوں اور لانز میں کئی اقسام کے پرندے آتے جاتے رہتے ہیں جن کی چہچہاہٹ سے ماحول خوشگوار ہوجاتا ہے تاہم اگر کوا آجائے تو اس کی کائیں کائیں بہت ناگوار گزرتی ہے۔

ایسے میں کچھ افراد کووں کو مار بھگانے کی کوشش کرتے ہیں اور یہیں سے ان کی کووں سے باقاعدہ دشمنی شروع ہوجاتی ہے۔

وہ جس کوے کو مار بھگاتے ہیں وہی کوا ان کی جان کا دشمن بن جاتا ہے اور وہ ہر روز وہاں آ کر ان پر جھپٹنے، حملہ کرنے یا چونچ مارنے کی کوشش کرتا ہے۔

ایسے ہی تجربے سے گزرنے والے بعض افراد کا کہنا ہے کہ جب انہوں نے کسی کوے مار بھگایا تو اس کے بعد وہ کسی بھی وقت اس جگہ پر آئیں تو اچانک کہیں سے وہی کوا نمودار ہوتا ہے اور ان پر حملہ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

کینہ پروری کی یہ فطرت کوے کے علاوہ کم ہی کسی پرندے میں دیکھنے کو ملتی ہے۔

تاہم اب ماہرین نے کوے کی اس حرکت کی وضاحت کی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کوے دراصل ایک بار جو چہرہ دیکھ لیں وہ اسے کبھی نہیں بھولتے، چنانچہ جب کبھی کوئی شخص ان سے خراب برتاؤ کرتا ہے تو وہ اسے اپنے لیے خطرہ سمجھ لیتے ہیں اور اسے دیکھتے ہی اپنے دفاع میں پہلے حملہ کردیتے ہیں۔

اب تک دنیا بھر میں کئی تحقیقات کی گئی ہیں جن سے ثابت ہوا ہے کہ کوے کا دماغ دیگر پرندوں سے مختلف اور زیادہ فعال ہوتا ہے۔

ایک تحقیق کے مطابق کووں کی جسمانی اور معاشرتی صلاحیتوں کا موازنہ بندروں کی بڑی نسل اورنگٹن سے کیا جاسکتا ہے۔ تحقیق میں ثابت ہوا کہ چار ماہ کے کوے کی پہچاننے کی صلاحیت بالغ بندر کی طرح ہوتی ہے۔

سائنٹفک ریسرچ میں شائع ہونے والی اس تحقیق کے مطابق 4 ماہ کے کوے میں پہچاننے کی وہ تمام صلاحیتیں پائی جاتی ہیں جو ایک بالغ بندر میں ہوتی ہیں۔

کوے خوراک کے حصول کے لیے بھی نہایت ذہانت کا استعمال کرتے ہیں اور ایک تحقیق کے مطابق کوے نئی حاصل ہونے والی معلومات کو دیگر کووں کے ساتھ شیئر بھی کرتے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں