The news is by your side.

Advertisement

کراچی 2018: دہشت گردی کا ایک بھی کیس حل نہ ہو سکا

کراچی: رواں سال پولیس کے انسدادِ دہشت گردی سیل کی کارکردگی مایوس کن رہی، 2018 میں ہونے والی دہشت گردی کا کوئی ایک بھی کیس حل نہ ہو سکا۔

تفصیلات کے مطابق سال 2018 میں دہشت گردی کے متعدد واقعات رونما ہوئے تاہم پولیس کا انسدادِ دہشت گردی سیل کوئی ایک بھی کیس حل نہ کر سکا۔

دہشت گردی کے 10 بڑے واقعات پیش آئے۔

سال کے دوران شہر میں دہشت گردی کے 10 بڑے واقعات پیش آئے، تفتیش جوں کی توں رہی۔

5 فروری کو کلفٹن میں گاڑی پر فائرنگ سے چینی باشندہ قتل کیا گیا تھا، 5 ماہ بعد چینی باشندے کے قتل میں سی ٹی ڈی کے گرفتار 2 ملزم عدم ثبوت پر بری کیے گئے۔

رواں برس دہشت گردوں کی فائرنگ سے 6 پولیس اہل کار شہید ہوئے، پولیس اہل کاروں کے قتل کی تفتیش سی ٹی ڈی کے پاس گئی، تاہم کوئی قاتل نہ پکڑا جا سکا۔

قائد آباد پل کے قریب دھماکے کا مقدمہ کاؤنٹر ٹیرر ازم ڈیپارٹمنٹ میں درج ہوا، اس دھماکے کی تفتیش کا بھی کوئی نتیجہ نہیں نکل سکا۔

چینی قونصلیٹ حملے میں سی ٹی ڈی نے سہولت کاروں کی گرفتاری کا دعویٰ کیا لیکن عدالت میں جمع کیس رپورٹ میں کسی سہولت کار کی گرفتاری ظاہر نہیں کی گئی۔


یہ بھی پڑھیں:  کراچی: نئے سال کے آغاز پر دہشت گردی کا منصوبہ ناکام


ڈیفنس کار دھماکے کی تفتیش میں بھی ملوث عناصر کے نام تک سامنے نہیں آئے، دوسری طرف سابق رکن قومی اسمبلی علی رضا عابدی قتل کیس میں بھی سی ٹی ڈی کی مختلف ٹیموں کی تحقیقات جاری ہیں۔

خیال رہے کہ آج کراچی کے علاقے پی آئی بی کالونی میں پولیس نے دہشت گردی کا منصوبہ ناکام بناتے ہوئے دو دستی بم اور بارود سے بھری موٹرسائیکل برآمد کی، جب کہ پانچ مشکوک افراد بھی گرفتار ہوئے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں