The news is by your side.

Advertisement

دہشت گرد کونسے راستے سے اسٹاک ایکسچینج پہنچے اور اصل مقصد کیا تھا؟ اہم انکشافات سامنے آگئے

کراچی :  پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر حملے کی تحقیقات میں اہم انکشافات سامنے آئے،  سی ٹی ڈی نےبتایا کہ دہشت گردوں نے اسٹاک ایکسچینج پہنچنے کیلئے لیاری ایکسپریس وےاستعمال کیا، ان کا مقصد عمارت کے اندرگھس کرزیادہ ہلاکتیں تھی۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر دہشت گردوں کے حملے کی تحقیقات میں اہم پیشرفت سامنے آئی ، سی ٹی ڈی نے دہشت گردوں کے عزائم اور کونسا راستے اختیار کرکے اسٹاک ایکسچینج پہنچنے سے متعلق حقائق کا پتہ لگا لیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں نےاسٹاک ایکسچینج پہنچنےکیلئےلیاری ایکسپریس وےاستعمال کیا، دہشت گرد لیاری ایکسپریس وے غریب آباد انٹر ایکسچینج سے چڑھے اور لیاری ایکسپریس وے ماڑی پورانٹر چینج سے ٹاور پہنچے۔

ذرائع کے مطابق کسٹم ہاؤس کی جانب سے ہوتے ہوئے براہ راست اسٹاک ایکسچینج تک آئے، دہشت گردوں نے لیاری ایکسپریس وے کا راستہ روٹ سیکیورٹی سے بچنے کیلئے استعمال کیا۔

حکام نے انکشاف کیا کہ دہشت گردوں کا منصوبہ اسٹاک ایکسچینج کے عملے کو یرغمال بنانا نہیں تھا، وہ گاڑی سمیت اسٹاک ایکسچینج کے اندر داخل ہونا چاہتے تھے، پہلے 2دہشت گرد اسٹاک ایکسچینج کا بیریئرگیٹ کھولنے کے لیے اترے تھے۔

حکام کا کہنا تھا کہ دہشت گرد اندر داخل ہوکر ممکنہ طور پر ہلاکتیں چاہتے تھے، ہلاکتوں کا مقصد معیشت اور بین الاقوامی سرمایہ کاری کو نقصان پہنچانا تھا۔

ذرائع کے مطاقب تفتیشی حکام نے غریب آباد سےلیکراسٹاک ایکسچینج تک جیوفینسگ کرلی، تفتیشی حکام مختلف مقامات سےبھی سی سی ٹی وی فوٹیجز حاصل کر رہےہیں۔

یاد رہے حملے کا مقدمہ ایس ایچ اومیٹھا درکی مدعیت میں کاؤنٹرٹیریرازم ڈیپارٹمنٹ سول لائنزمیں درج کرلیا گیا ہے ، مقدمے میں دہشت گردی، قتل، اقدام قتل، پولیس مقابلے، ایکسپلوزیو ایکٹ اور سندھ آرمرزایکٹ کی دفعات شامل ہیں۔

ایڈیشنل آئی جی کراچی غلام نبی میمن نے اےآروائی نیوزسے خصوصی گفتگو میں بتایا تھا کہ کارروائی تنہا بی ایل اے کی نہیں ہو سکتی،اس میں مقامی دہشت گرد تنظمیں بھی شامل ہوسکتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں سے پچاس سے زائددستی بم چار کلاشنکوف اورگولیوں کےمتعدد ڈبےملے اور تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ دہشت گرد جس گاڑی میں آئے تھے وہ ہلاک دہشت گرد سلمان کے نام پر تھی، جواس نے طارق روڈ کے ایک شورم سے خریدی تھی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں