سدرہ ایاز
میری بیٹی اب اس قابل ہوگئی ہے کہ وہ کمرے میں ترتیب سے رکھی ہر چیز کو الٹ پلٹ کر رکھ دے، بیڈ شیٹ اور تکیے اپنی جگہ پر نہ رہنے دے، سائڈ ٹیبل پر دھرا گل دان، سنگھار میز سے ہیئر بینڈ، کلپس، کنگھی اور دوسری اشیاء کھیلنے کے لیے اٹھا لے، جوتوں کے ریک سے اپنی چپل اور شوز اٹھا کر کہیں بھی رکھ دے۔ اپنے کھلونوں پر تو اس کا مکمل حق ہے ہی۔ وہ صبح بیدار ہوتے ہی کھیلنے بیٹھ جائے اور جہاں چاہے پھینک دے۔ گھر میں من مانی، رونا دھونا اور ہنگامہ کرنا میری ساڑھے تین سالہ بیٹی کا معمول ہے۔
مجھے زنیرہ کی وجہ سے کئی مرتبہ کمرہ سدھارنا پڑتا ہے۔ اِدھر اُدھر بکھرے ہوئے کھلونے اور دوسری اشیاء سمیٹنا اور اپنی جگہ پر رکھنا پڑتی ہیں اور بلاشبہ اس میں میرا بہت سا وقت ضایع ہوجاتا ہے۔ یقیناً اس کے ساتھ ساتھ مجھے امورِ خانہ داری اور کئی دوسری ذمہ داریاں بھی نبھانا پڑتی ہیں جو کہ اکثر مشکل بلکہ بوجھ لگتی ہیں، لیکن بحیثیت عورت میں زنیرہ کی ان حرکتوں یا شرارتوں کو گھر میں بکھری ہوئی چیزوں اور بے ترتیبی کے جواز کے طور پر دوسروں کے سامنے شکایتی لہجے میں بیان کرنا پسند نہیں کرتی۔ کیوں کہ یہ میری بیٹی کی زندگی کا حسین اور وہ سہانا دور ہے جس سے میں بحیثیت ایک ماں میں لطف اندوز ہونا چاہتی ہوں۔ مجھے اپنے گھر میں اپنی بیٹی کی یہ اچھل کود اور شوخیاں عزیز ہیں۔
میری اس تحریر کا سبب وہ والدین، خصوصاً مائیں ہیں جو اپنے نو عمر یا کم سن بچّوں کا مہمانوں سے اس طرح تعارف کرواتی ہیں: "میرا بچّہ بہت شرارتی ہے، مجال ہے جو ایک جگہ ٹک کر بیٹھ جائے۔ اس کے تو پیچھے پیچھے رہنا پڑتا ہے۔ ان کا لہجہ بھی شکایتی ہوتا ہے۔ یہی بات پچھلے دنوں میری ایک رشتے دار اور ایک سہیلی نے بھی کی۔ وہ مجھے بتا رہی تھیں کہ ان کی بیٹی نے انھیں بہت تنگ کر رکھا ہے، بچّی ٹک کر بیٹھتی ہی نہیں، وہ دونوں پریشان تھیں کہ گھر کے کام کریں یا بچّی کے پیچھے بھاگتی رہیں!
اگر یہ باتیں محض وقت گزاری کے لیے ہیں تو شوق سے کیجیے، مگر جو مائیں دراصل مہمان خواتین کو اس بات پر مطئمن کرنا چاہتی ہیں کہ ان کا کمرہ بے ترتیب کیوں ہے، یا ان کے گھر میں ہر طرف کھلونے اور کپڑے کیوں پھیلے ہوئے ہیں، ان کو ضرور سوچنا ہوگاکہ وہ اپنے کم سن بیٹے یا بیٹی کو دوسروں کے سامنے کس طرح پیش کررہی ہیں۔
یہ درست ہے کہ ایک خاتون خانہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ گھر کی صفائی ستھرائی، سجاوٹ اور ترتیب کا خیال رکھے کیوں کہ اس کا شوہر، دیگر اہلِ خانہ بھی اس سے یہی امید رکھتے ہیں۔ خود وہ عورت بھی اگر پھوہڑ اور سست نہیں ہے تو یقیناََ اپنی گھریلو ذمہ داریاں خوب جانتی ہے۔ مگر جب وہ ماں بنتی ہے تو اس کا کام اس قدر بڑھ جاتا ہے کہ کبھی کبھی وہ کمی، کوتاہی، اور سستی کا مظاہرہ کر جاتی ہے۔ مگر وہ اس بات کو دوسرے کے سامنے قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتی اور ہچکچاہٹ محسوس کرتی ہے۔ پچھلے دنوں مجھ پر یہ انکشاف ہوا کہ میری واقف کار ماؤں کی طرح اب بھی کئی لڑکیاں رشتے داروں کی نکتہ چینی یا چبھتی ہوئی نظروں سے گھبرا کر ان کے سامنے نوعمر بچوں کی شکایتیں شروع کر دیتی ہیں۔ یہ بات مجھے بہت عجیب لگی۔ کیا یہ سمجھنا بہت مشکل ہے کہ ’آپ کا بچہ ایک مشق نہیں جسے آپ جلدی جلدی نمٹا دیں۔ نہ ہی یہ ایک پراجیکٹ ہے جسے آپ بہترین انداز میں مکمل کر سکیں۔‘ پھر جب آپ پھوہڑ اور کاہل نہیں ہیں تو ماں بننے کے بعد اپنے معمولات اور کام کاج سے متعلق دوسروں کو کچھ جتانے بتانے کی غیر ضروری کوشش کیوں کی جائے؟
شاید ایسی باتیں آج سے تین دہائی پہلے تک کوئی معنی رکھتی تھیں۔ اس وقت بھی یہ تو نہیں تھا کہ ہر نوجوان ماں کو اس حوالے سے اپنی رشتے دار خواتین سے باتیں سننا پڑتی تھیں، مگر شاید اس وقت سلیقہ شعاری اور گھر گرہستی سے متعلق یہ ایک رویہ مستحکم رہا ہو، مگر آج سوچ بدل رہی ہے۔ پہلے بھی یہ اس وقت ہوتا تھا جب بڑی عمر کی رشتے دار عورتیں یا کزنز وغیرہ اچانک گھر آجاتیں اور نوجوان ماں ان کے سامنے وضاحت کرنا ضروری سمجھتی کہ گھر کیوں پھیلا ہوا ہے۔ شاید آج بھی کچھ عورتوں کے لیے یہ سمجھنا مشکل ہے کہ جب ایک بچہ اپنے پیروں پر چلنا شروع کرتا ہے اور ٹوٹے پھوٹے جملے ادا کرنے کے قابل ہوتا ہے تو گھر کا یہی حال ہوتا ہے۔ اور ماں کوئی مشین نہیں ہوتی کہ ہر وقت گھر اور کمرہ سدھارتی رہے۔
خدا نے آپ کو بیٹا عطا کیا ہو یا بیٹی ایک ماں کی حیثیت سے جدید دنیا اور اس ڈیجیٹل دور میں بچّوں کی پرورش اور ان کے ساتھ برتاؤ کے فرسودہ یا روایتی طریقے کو ترک کرکے نئے تصوارت اور مفید باتوں کو اپنائیں۔ اپنی زندگی آسان بنائیں۔ ترقی یافتہ ممالک کو دیکھیں تو والدین بچوں کو ان کے کھیل کود کی عمر سے لے کر تعلیم و تربیت کے مراحل تک ہم سے بہت مختلف انداز میں سنبھالتے ہیں۔ وہ سنجیدگی سے اس موضوع پر مستند کتاب پڑھتے ہیں یا پیرنٹنگ پر آن لائن لیکچرز سنتے اور ان سے بہت کچھ سیکھتے ہیں۔ وہ جان لیتے ہیں کہ انھیں بچّوں سے بچپنے کی توقع رکھنا ہوگی۔ ان کو معلوم ہوتا ہے کہ بچّے بے ضرر شرارت بھی کرسکتے ہیں اور کبھی کسی چیز کا نقصان بھی۔ اس کے علاوہ ان معاشروں میں دوسروں کے گھروں میں بے جا مداخلت اور ذاتی زندگی پر تنقید کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی، اس لیے بھی وہاں مائیں اس قسم کے دباؤ سے آزاد ہوتی ہیں جس کا سامنا ایک پاکستانی عورت غیر ضروری طور پر کرتی سکتی ہے۔
میرے نزدیک یہ غلط ہے کہ ایک ماں دوسروں کو کچھ باور کروانے یا جتانے کے لیے اپنے بچّوں کو چلبلا بلکہ بدتمیز ثابت کرے۔ دوسری خواتین کو بھی چاہیے کہ وہ کسی کے گھر جائیں تو نکتہ چینی سے باز رہیں اور گھر سے متعلق اپنی رائے کا اظہار بالکل نہ کریں۔
ہر عورت کو گھر میں قرینہ، ترتیب اور صفائی ستھرائی پسند ہوتی مگر چھوٹے بچّوں کے ساتھ وہ یہ کام مکمل طور پر انجام نہیں دے پاتی۔ نوجوان مائیں ذرا سی توجہ دیں اور کوشش کریں تو بچّے کو نرمی کے ساتھ اس بات کا عادی بناسکتی کہ وہ ایک مخصوص وقت تک تو کمرے میں آزادی سے کھیل کود جاری رکھے، مگر پھر چیزوں کو ترتیب سے رکھ دے۔ اگر وہ اس کا عادی نہیں بنتا تو اس پر سختی نہ کریں مگر اس کو کہا جاسکتا ہے کہ جب اس کے بابا کے گھر آنے کا وقت ہو تو وہ آپ کے ساتھ مل کر کمرہ سدھارنے میں مدد کرے اور پھر کوئی چیز ادھر ادھر نہ کرے۔ اس طرح بچّے میں ذمہ داری کا احساس اجاگر ہوگا۔ اسے بتائیے کہ کھیل کا مطلب ہنگامہ یا بدتمیزی کرنا نہیں ہے۔ مائیں اگر بچّے کو نرمی سے یہ سمجھائیں تو اس بات کا امکان بڑھ جاتا ہے کہ وہ اپنی پھیلائی ہوئی چیزیں سمیٹ کر مخصوص جگہ پر رکھنے کی کوشش بھی کرے۔
بچّوں کی جسمانی صحت اور بہتر نشو و نما بھی کھیل کود اور جسمانی سرگرمیوں کی بدولت ممکن ہے۔ اگر آپ کا بچّہ تین سال کا ہے تو جان لیں کہ وہ ہر وقت کچھ نہ کچھ سوچتا رہتا ہے اور کوئی سرگرمی انجام دینا چاہتا ہے۔ متحرک دماغ اس کا جسم بھی متحرک رکھتا ہے اور وہ طرح طرح کے کھیل اور شرارتیں کر کے خوش رہ سکتا ہے۔ اس لیے آپ کو فکر مند نہیں ہونا چاہیے۔
آج کے دور میں بچوں کی تربیت ایک اہم موضوع بن چکا ہے۔ معاشرتی تبدیلیوں کے ساتھ دنیا میں بحیثیت والدین لوگوں کے رویے اور پرورش کے طریقے بھی زیر بحث ہیں جن کو اہمیت دینا ہوگی۔ البتہ پانچ سے سات سال کی عمر کے بعد بچّوں کو عادی بنانا شروع کریں کہ وہ اپنے چھوٹے موٹے کام خود انجام دیں۔ اس طرح وہ زندگی گزارنے کا قرینہ اور اشیا کو برتنے کا سلیقہ بھی سیکھتے ہیں۔ لیکن اس سے چھوٹی عمر کے بچّوں کو اس پر ڈانٹنا اور جھڑکنا درست نہیں ہے۔ کم سنی میں بچّوں کو اپنے جذبات اور خیالات کا اظہار کرنا زیادہ پسند ہوتا ہے اور ماؤں کو انھیں اس کا موقع دینا چاہیے۔ یہ سوچے بغیر کہ کمرے کا کیا حشر ہوگا اور اگر کوئی مہمان آگیا تو مجھے کتنی شرمندگی اٹھانا پڑے گی۔
سدرہ ایاز صحافتی اداروں اور مارکیٹنگ کمپنیوں سے وابستہ رہی ہیں، سیر و سیاحت، دوستوں کے ساتھ گھومنا پھرنا ان کا وہ شوق ہے، جو ان کے نزدیک زندگی کو قریب سے دیکھنے، بہت کچھ سیکھنے اور سمجھنے کا موقع دیتا ہے۔ شاعری کرتی ہیں اور مختلف موضوعات پر مضامین اور بلاگ لکھتی ہیں۔


