The news is by your side.

Advertisement

تہوار، عبادت، ناچ رنگ، میلے اور حسنِ بنگال

بنگال ہمیشہ ہی سے لوگوں کی توجہ کا مرکز رہا ہے۔ اس لیے ہم دیکھتے ہیں کہ ہندوستان کے بڑے لوگوں نے اس شہر کی سیر کی۔

قدیم روایت کا یہ شہر اپنی تہذیب و تمدن کا بہترین عکاس ہے۔ ندی، نالے، پوکھر، پھل، پھول، سبزی، کھیتی، فصل، کھان پان، قدرتی مناظر، آب و ہوا، تہوار، عبادت، ناچ رنگ، میلے اور حسنِ بنگال دنیا بھر میں مشہور ہیں۔

بنگالی بہت جذباتی اور محنت کش ہوتے ہیں۔ شاید اسی لیے ہر موقع پر لوگ سڑک پر اپنا احتجاج درج کرانے آجاتے ہیں۔ یہ ان کے جذباتی ہونے کی سب سے بڑی مثال ہے۔ رقص و موسیقی، ادب لطیف، کھان پان کے علاوہ تجارت و ملازمت کے لیے بھی یہ شہر ہمیشہ ہی سے لوگوں کی توجہ کا خاص مرکز رہا ہے۔ اپنی عظیم شخصیات کا کس طرح سے اعتراف کیا جائے، یہ اہل بنگال سے سیکھنے کی ضرورت ہے۔ ٹیگور کی قدر دانی اس کا بیّن ثبوت ہے۔ اس کے علاوہ بھی بنگال اور اہل بنگال اپنی گونا گوں خصوصیات کی بنا پر عالمی منظر نامے پر جانے اور پہچانے جاتے ہیں۔

صنعتی علاقے ہوں یا پھر شہری علاقے، یہاں کی تہذیب گاؤں دیہات سے مختلف ہوتی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ صنعتی علاقے اور شہروں میں مختلف جگہوں کے لوگ بستے ہیں، اس لیے ان میں اصل تہذیب و تمدن کی جھلک ذرا کم ہی نظر آتی ہے۔ اسی طرح سے بنگلہ تہذیب و تمدن سے اسی وقت آگاہی حاصل کی جا سکتی ہے، جب بنگال کے گاؤں دیہات کا سفر کیا جائے۔ نہ صرف بنگال کا بلکہ پورے ہندوستان میں تہذیب و تمدن کا گہرا تعلق دیہات سے ہے۔ کھان پان، ناٹک اور اس طرح کی دیگر چیزوں کو اصل روپ میں دیہات میں ہی ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔

بنگال کے مناظر، ندی نالے، چرند پرند، دھان اور پاٹ کے کھیت، اسٹیمر، لانچ اور ناؤ میں سفر، مانجھی کی زندگی اور اس کے پُرسوز بھاٹیالی نغموں کا ذکر اور دیہات کی صبح و شام، شب و روز کو ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔ ذیل میں چند اہم خصوصیات کا ذکر کیا جا رہا ہے۔

ندی، نالے اور پوکھر:
بنگال میں ندی، نالے اور پوکھر انسانی زندگیوں کے لیے ناگزیر ہیں۔ بنگالیوں کا اصل کھان پان کا تصور پانی کے بغیر ہے ہی نہیں۔ کیوں کہ ان کا اصل کھان پان مچھلی اور بھات ہے۔ مچھلی اور چاول کا پورا دار و مدار پانی سے ہے۔ اس لیے ہم دیکھتے ہیں کہ ان کے یہاں ندی، نالے اور پوکھر کی بہت اہمیت ہے۔ شہر سے دور کے علاقے میں سڑک کے کنارے چھوٹے چھوٹے مکانات کے آگے یا پیچھے، دائیں یا بائیں جہاں بھی مناسب جگہ ہو، ایک چھوٹا سا پوکھر ضرور ہوتا ہے۔ جس میں مچھلیاں پالی جاتی ہیں۔ بنگالی اس کا بہت اہتمام کرتے ہیں۔ اسی لیے یہ لوگ مہمانوں کے سامنے تازہ مچھلی پیش کرتے ہیں۔ جہاں یہ ان کی پسندیدہ غذا ہے، وہیں آسانی سے دستیاب بھی ہو جاتی ہے۔ اسی طرح سے پوکھر کے ارد گرد یا جہاں بھی دوچار درخت لگانے کی جگہ ہو، پورے بنگال میں کیلے، آم ، ناریل اور سپاری کے درخت ہوں گے۔ ان میں سے اگر کچھ نہیں ہوگا تو پانس کے جھنڈ ضرور ہوں گے۔ کیلے اس لیے لگاتے ہیں کہ کچے کیلے سے سبزی بنا لیتے ہیں۔ اسی لیے اسے پانی کا دیش بھی کہا جاتا ہے۔

پھل، پھول اور سبزی:
بنگال کے میوے کی کئی بڑے لوگوں نے تعریف کی ہے۔ اس ضمن میں مرزا غالب کو بطور مثال پیش کیا جا سکتا ہے۔ غالب نے بنگال کے میوہ کا اپنے خطوط میں بھی ذکر کیا ہے۔ ڈاب (ناریل کا پانی) اور آم (ہگلی کا آم) کا بہت سے شعرا و ادبا نے اپنی تخلیق میں ذکر کیا ہے۔ یہاں کے باغات اور پھلوں کا بھی ذکر ملتا ہے۔ بنگال کے حسن کو سپاری اور ناریل کے درختوں کے بغیر کیسے مکمل سمجھا جا سکتا ہے۔

کھیتی، فصل اور کھان پان:
بنگال کی پیداوار میں دھان خاص ہے، اس کے علاوہ پاٹ بھی ہے۔ پہاڑی علاقے چائے کے باغات کے لیے جانے جاتے ہیں۔ بنگالیوں کی پسندیدہ غذا بھات (چاول) اور مچھلی ہے، جس کا اوپر ذکر کیا گیا ہے۔ یہاں کا ’رس گلا‘ بہت مشہور ہے۔ اس کے علاوہ بنگالی پان بھی خوب کھاتے ہیں۔ یوں تو پان بنارس (بنارسی پان) کا مشہور ہے۔ لیکن ’بنگلہ پان‘ بھی یوپی، بہار اور ملک کے دوسرے حصے میں مشہور ہے۔ ظاہر ہے کہ بنگلہ تہذیب وتمدن کا ذکر ہو اور ان سب چیزوں کا ذکر نہ کیا جائے تو بنگلہ تمدن مکمل نہیں گردانا جا سکتا ہے۔ اس کی ایک بنیادی وجہ یہ بھی ہے کہ یہاں کے تہواروں، پوجا پاٹ اور رسم و رواج میں ان چیزوں کا خوب استعمال ہوتا ہے، بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ ان سب کے بغیر کسی بھی قسم کی تقریب مکمل نہیں سمجھی جا سکتی۔ اس کو اس طرح سے بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ ’پان، سپاری‘ کے بغیر لکشمی دیوی کی پوجا نہیں ہوتی۔ اسی طرح سے دھان کی بالیاں بھی پوجا کا اہم حصہ ہوتی ہیں، مچھلی ہر تہوار کا اہم حصہ ہے، جب کہ شادی بیاہ کا تصور وہاں کے’رس گلے‘ کے بغیرنہیں کیا جاسکتا۔ یہ عام بات ہے کہ کسی بھی دیش، پردیش کی پیداوار کا تعلق وہاں کے تہذیب و تمدن سے بہت گہرا ہوتا ہے۔

تہوار، عبادت، ناچ رنگ اور میلے:
گاؤں کی’’لیٹو‘‘ ٹولیاں بنگلہ تہذیب و تمدن کی جیتی جاگتی مثال ہے۔’’لیٹو‘‘ (بنگال کے دیہات میںڈراموں کے معنی میں استعمال ہوتا ہے) میں گاؤں دیہات کے چھوٹے چھوٹے بچے بھی اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ فنی خوبیوں کی مہارت بعض حالت میں کم سن کو بھی لیٹو کا قائد بنا دیتی ہے۔ قاضی نذرُالاسلام کم عمر(چودہ برس) میں ہی اپنی ٹولی کے قائد بن گئے تھے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ وہ گیت کار کے ساتھ ساتھ ایک اچھے گائیک بھی تھے۔ اس ضمن میں انہوں نے کتھا بھی تخلیق کی۔ اور انہیں مناسب ’’سُر‘‘ بھی دیا۔ وہ بانسری اور دوسرے آلاتِ موسیقی بڑی آسانی سے بجا لیتے تھے۔

جو ’لیٹو‘ ٹولیاں لوگوں کی توجہ کا خاص مرکز تھیں۔ اب اس میں لوگوں کی دل چسپی بہت کم ہوگئی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ چیزوں کا آسانی سے میسر ہونا ہے۔ ورنہ ایک زمانے میں یہ لیٹو ٹولیاں لوگوں کی دل چسپی کا نہ صرف سامان ہوتی تھیں، بلکہ بنگلہ کے مختلف حصّوں کی بھرپور نمائندگی ہوتی تھی۔ لیکن ترقی نے ان سب کو اس طرح سے نگل لیا کہ اب ان کا ذکر ہی ہوتا ہے یا پھر کبھی کبھی عملی صورت میں کہیں نظر آ جاتا ہے۔

(ڈاکٹر شاہ نواز فیاض،نئی دہلی کے قلم سے)

Comments

یہ بھی پڑھیں