اسلام آباد : نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے پی ٹی آئی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا افغانستان میں چائے کا کپ ہمیں بہت مہنگا پڑا، چائے کے کپ نے دوبارہ بارڈرز کو کھولا، جس سے مفرورطالبان واپس آئے جبکہ مجرموں کو رہا کیا۔
تفصیلات کے مطابق نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے سینیٹ میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ روز افغان وزیرِ خارجہ امیر متقی کی چھ کالز موصول ہوئیں۔ میں نے افغان وزیرِ خارجہ سے کہا کہ آپ کی سرزمین سے پاکستان کے خلاف دہشتگردی نہیں ہونی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ افغان عبوری حکومت سے بہت اچھی ملاقاتیں ہوئی تھیں اور میں نے واپس آکر دو مہینوں میں تمام فیصلوں پر عملدرآمد کرایا۔ تاہم، ہمارا نظام فیصلوں پر مکمل عملدرآمد کی راہ میں رکاوٹ بنتا ہے۔
وزیر خارجہ نے سابقہ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا افغانستان میں چائے کا کپ ہمیں بہت مہنگا پڑا، اس چائے کے کپ نے دوبارہ بارڈرز کو کھولا اور پاکستان سے بھاگے طالبان واپس آگئے، اُس وقت کی حکومت نے سو سے زائد خطرناک مجرموں کو رہا کیا، جو سب سے بڑی غلطی تھی، ہماری حکومت ہو یا کوئی اور، ایسی غلطیاں نہیں دہرانی چاہئیں بلکہ ان سے سبق سیکھنا چاہیے۔
نائب وزیراعظم کا کہنا تھا کہ افغانستان ہمارا ہمسایہ ملک ہے، اور ہمیں تعلقات بہتر سمت میں آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔ قطر کے وزیرِ خارجہ افغان معاملے پر مسلسل رابطے میں تھے تاہم اب افغانستان کی سرزمین سے پاکستان میں دہشتگردی کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔ ماضی کی حکومتوں کی غلط پالیسیوں کا خمیازہ آج ملک بھگت رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سیکیورٹی فورسز کے جوان دہشتگردی کے خلاف اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں، شہدا کے اہلخانہ کو سلام پیش کرتے ہیں۔
اسحاق ڈار نے بتایا کہ جعفر ایکسپریس واقعے میں ملوث دہشتگرد بھارت سے رابطے میں تھے، جبکہ بھارت کے خلاف جوابی کارروائی پوری دنیا نے دیکھی۔
نائب وزیراعظم نے مزید بتایا کہ پاکستان نے اقوام متحدہ کے آرٹیکل کے تحت اپنے دفاع کا حق استعمال کیا، اور ہماری افواج نے دشمن کی جارحیت کا بھرپور جواب دیا ، پاکستان نےجوابی کارروائی میں صرف عسکری تنصیبات کونشانہ بنایا۔
ان کا کہنا تھا کہ بھارت سے کشیدگی کے دوران امریکا، برطانیہ، سعودی عرب، قطر کی قیادت رابطے میں تھی، دوست ملکوں سے رابطے میں پاکستان کا مؤقف پیش کیا، ہمارے شاہینوں نے بھارت کے 7 طیارے مار گرائے، بھارت نے جنگی طیارے گرنے کے بعد بوکھلاہٹ میں پروپیگنڈا کیا۔
اسحاق ڈار نے امید ظاہر کی کہ افغانستان کے ساتھ 6 نومبر کو معاملات مثبت سمت میں آگے بڑھیں گے۔


