The news is by your side.

اژدہوں کے ذریعے ڈپریشن کا علاج مگر کیسے؟

فلوریڈا: امریکی ریاست فلوریڈا میں اژدہوں کے شکار سے ڈپریشن کا علاج کیا جانے لگا ہے۔

یہ جان کر آپ کو حیرت ہوگی کہ امریکا جیسے جدید ترین ملک میں ذہنی تناؤ یعنی ڈپریشن کا علاج اژدہوں کا باقاعدہ شکار کر کے کیا جاتا ہے۔

ایک رپورٹ سامنے آئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ فلوریڈا میں جہاں اژدہے جنگلی حیات کے لیے خطرہ ہیں، وہیں یہ ذہنی بیماریوں کے شکار اُن امریکی فوجیوں کے علاج کا بھی ذریعہ ہیں جو عراق یا افغانستان جنگ میں حصہ لے چکے ہیں۔

امریکی شہری ٹام راہل نے پندرہ سال قبل سابق امریکی فوجیوں کے لیے سوامپ ایپس نامی ایسوسی ایشن قائم کی تھی جہاں وہ اژدہوں کے شکار کے ذریعے جنگ کی تکلیف دہ یادوں سے چھٹکارا حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

عراق جنگ میں حصہ لینے والے امریکی فوجی راہم لونسن نے بتایا کہ اژدھوں کے شکار سے انھیں ڈپریشن اور ذہنی دباؤ کا مقابلہ کرنے میں مدد ملی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ رات کو سو نہیں سکتے اور آدھی رات کو بھی اگر کوئی اژدہوں کے شکار پر انھیں ساتھ لے جائے تو انھیں اچھا اور کارآمد محسوس ہوتا ہے۔

دراصل امریکی ریاست فلوریڈا میں سانپوں کے شوقین افراد تقریباً نصف صدی پہلے برما سے کچھ اژدھے لائے تھے جو بعد میں انھوں نے جنگلوں میں چھوڑ دیے جو اب قدرتی حیات کے لیے خطرہ بن گئے ہیں۔

فلوریڈا میں 15 لاکھ ایکڑ رقبے پر محیط قدرتی پارک ایور گلیڈز میں ہزاروں کی تعداد میں 6 سے 9 فٹ کے درمیان طویل اژدھے پائے جاتے ہیں۔ ایف ڈبلیو سی 2000 سے اب تک 17 ہزار سے زائد اژدھوں کا شکار کر کے انھیں ختم کر چکا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں