The news is by your side.

Advertisement

مقبوضہ کشمیرمیں کرفیوکا 68 واں روز، نظام زندگی مفلوج

سری نگر: آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کا 68 واں روز ہے، وادی میں اسکول کالج تجارتی مراکز بند ہیں، مقبوضہ وادی میں نظام زندگی مفلوج ہے۔

تفصیلات کے مطابق فاشسٹ مودی حکومت نے جنت نظیر وادی کشمیر کو جیل میں بدل دیا ہے، کشمیریوں کی زندگی بد سے بدتر ہوتی جا رہی ہے، بزدل قابض فوج نے کشمیریوں کو 68 روز سے گھروں میں بند کررکھا ہے۔

مقبوضہ وادی میں اسکول، کالج، تجارتی مراکز بند، ٹرانسپورٹ سروس معطل ہے، نظام زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی ہے، لاکھوں کشمیری گھروں میں محصور ہیں۔

غدا کی قلت، بھوک سے بلکتے بچوں اور مریضوں کی اکھڑتی سانسوں سے مجبور کشمیری باہر نکلیں تو ان پر پیلٹ گنز کا استعمال کیا جاتا ہے جس سے کشمیری نوجوان بینائی سے محروم ہو رہے ہیں۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق کشمیری رہنماؤں، نوجوانوں سمیت بچے بھی جیلوں میں قید ہیں، 2 ماہ سے کشمیریوں کو نمازجمعہ مساجد میں ادا کرنے نہیں د ی جا رہی۔

مقبوضہ کشمیر کی حریت قیادت کی جانب سے بھارتی فورسز کے مظالم کے خلاف نماز جمعہ کے بعد احتجاج کی کال دی گئی ہے۔

حیران ہوں عالمی میڈیا ہانگ کانگ احتجاج کی کوریج کر رہا ہے کشمیرکی نہیں، عمران خان

دوسری جانب سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر وزیراعظم عمران خان نے اپنے پیغام میں کہا کہ حیران ہوں عالمی میڈیا ہانگ کانگ احتجاج کی کوریج کر رہا ہے کشمیرکی نہیں۔

انہوں نے کہا کہ 2 ماہ سے کشمیرمیں مواصلاتی نظام کا مکمل بلیک آؤٹ ہے، کشمیری رہنماؤں ، بچوں سمیت ہزاروں کشمیری جیلوں میں ہیں۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی تیسری کمیٹی کے اجلاس میں ملیحہ لودھی کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں رات میں چھاپوں کے دوران بڑی تعداد میں بچوں کو اٹھایا جا رہا ہے.

ملیحہ لودھی نے امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی حالیہ رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں بند کیے گئے مواصلاتی نظام کی قیمت بیماروں کو کس طرح ادا کرنا پڑ رہی ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں