(15 اپریل 2026): دنیا کا ہر ملک کرنسی رکھتا ہے اور بڑی مالیت کی کرنسی نوٹوں کی شکل میں ہوتی ہے جو کاغذ کے بنے ہوتے ہیں۔
موجودہ ڈیجیٹل دور میں بھی انسان کا کرنسی کے بغیر گزارا نہیں اور اس کو کسی بھی شے کو آسانی سے حاصل کرنے کے لیے کرنسی نوٹوں کی ضرورت ہوتی ہے۔
دنیا بھر میں کرنسی نوٹوں کا استعمال ہوتا ہے اور یہ کرنسی نوٹ کاغذ کے بنے ہوتے ہیں، جو بینک سے نکلتے ہیں تو کاپی کے کاغذ کی طرح کڑک ہوتے ہیں لیکن جیسے جیسے استعمال ہوتے رہتے ہیں نرم ہوتے جاتے ہیں۔
سب کا یہ خیال ہے کہ کرنسی نوٹ کاغذ کے بنے ہوتے ہیں۔ اگر آپ بھی یہ سمجھتے ہیں کہ کرنسی نوٹ کاغذ سے بنے ہوتے ہیں تو آپ یقیناً درست نہیں ہیں، کیونکہ آپ کی جیب میں موجود کرارا نوٹ کاغذ کا نہیں ہوتا۔
بھارتی میڈیا نے ریزرو بینک آف انڈیا کے حوالے سے خبر دی ہے کی انڈیا کا مرکزی بینک کرنسی نوٹ کسی عام کاغذ سے نہیں بلکہ 100 فیصد کاٹن فائبر سے بناتا ہے۔
یہ کاٹن پیپر لکڑی کے گودے سے بنے عام کاغذ سے بالکل مختلف ہوتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اس سے بنے نوٹ مضبوط، لچکدار اور دیرپا ہوتے ہیں
کرنسی نوٹ بنانے کے لیے استعمال ہونے والا کاغذ کاٹن لنٹرز یا باریک روئی کے ریشوں سے بنایا جاتا ہے۔ کچھ ذرائع 75 فیصد کاٹن اور 25 فیصد لینن کا مرکب تجویز کرتے ہیں، لیکن آر بی آئی سرکاری طور پر 100 فیصد کاٹن بتاتا ہے۔
اس خاص مرکب کو جیلیٹن جیسے چپکنے والی چیز کے ساتھ ملایا جاتا ہے، جو نوٹوں کو مزید مضبوط بناتا ہے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


