The news is by your side.

Advertisement

کرنسی اسمگلنگ کیس: ایان علی کو اشتہاری قرار دینے کی کارروائی کا آغاز

راولپنڈی: کرنسی اسمگنگ کیس میں نامزد ملزمہ اور ماڈل ایان علی کو مسلسل غیر حاضری پر انہیں اشتہاری قرار دینے کی کارروائی کا آغاز کردیا۔

تفصیلات کے مطابق راولپنڈی کی کسٹم عدالت میں کرنسی اسمگلنگ کیس کی سماعت جج ارشد حسین بھٹہ نے کی جس میں ایان علی کے وکیل آفتاب باجوہ اور بیرسٹر سرفراز علی پیش ہوئے۔ دورانِ سماعت اسپیشل پراسیکیوٹر امین فیروز بھی عدالت میں پیش ہوئے۔

ملزمہ کے وکیل نے بتایا کہ ایان علی بیماری کی وجہ سے سماعت میں پیش نہیں ہوسکیں، وہ اپنا علاج مکمل کرا کے ضرور پاکستان آئیں گی اور مقدمات کا سامنا بھی کریں گی۔ جج نے عدم پیشی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ ملزمہ ایک ملک سے دوسرے ملک چلی جاتی ہیں مگر عدالت میں پیش نہیں ہوتیں، تین سال سے مسلسل وہ غیر حاضر ہیں۔

مزید پڑھیں: کرنسی سمگلنگ کیس: ایان علی پیش نہ ہوئیں تو اشتہاری قرار دے دیں گے، عدالت

ایان علی کی مسلسل غیر حاضری پر عدالت نے ملزمہ کے اثاثہ جات کی تفصیلات طلب کرلیں جبکہ تفتیشی افسر نے اشتہار کی رپورٹ بھی عدالت میں جمع کرائی جس پر جج نے ریمارکس دیے کہ اگر ملزمہ پیش نہ ہوئیں تو عدالت کی طرف سے اشتہاری قرار دیا جائے گا۔

ماڈل ایان علی کے ایک ضامن محمد نواز عدالت میں پیش ہوئے جبکہ دوسرے کو جج نے طلبی کا نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت 9 مارچ تک ملتوی کردی۔

ملزمہ کے وکیل کی استدعا پر عدالت نے سماعت کی تاریخ مارچ تک ملتوی کرتے ہوئے کہا کہ بار بار تاریخ لینے سے بہتر ہے عدالت اور قانون کا احترام کیا جائے۔ ملزمہ کے وکیل نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ ہم عدالتوں کا احترام کرتے ہیں اور مؤکلہ کو بھی عدالت میں پیش کرنا ہے تاہم ابھی وہ زیر علاج ہیں جیسے ہی روبہ صحت ہوں گی وہ پیش ہوجائیں گی۔

یاد رہے کہ ایان علی کو 14 مارچ 2015 کو اسلام آباد کے ایئرپورٹ سے دبئی جاتے ہوئے گرفتار کیا گیا تھا، کسٹم حکام نے جب اُن کا سامان چیک کیا تو پانچ لاکھ امریکی ڈالرز برآمد ہوئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: کیس میں پیش ہونا چاہتی ہوں لیکن طبیعت خراب ہے، ماڈل ایان علی

ملزمہ کو مقدمہ درج کرنے کے بعد اڈیالہ جیل منتقل کردیا گیا تھا، جس کے بعد اُن کے کیس کی سماعت کسٹم عدالت میں ہوئی اور عبوری چالان میں ملزمہ کو قصور وار قرار دیا گیا۔ بعد ازاں ایان علی نے لاہور ہائی کورٹ میں ضمانت کی درخواست دائر کی جس پر عدالت نے اُن کے حکم میں فیصلہ سنایا اور بیرونِ ملک جانے کی اجازت بھی دی تھی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں