پاکستانی معیشت کے لیے اچھی خبر ہے کہ ستمبر میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ سرپلس ہوگیا۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق ستمبر میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ گیارہ کروڑ ڈالر سرپلس رہا ہے، اگست میں کرنٹ اکاؤنٹ ساڑھے 32 کروڑ ڈالر خسارے میں تھا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ برآمدات نہ بڑھنے کے باوجود کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس ہونا بڑی بات ہے۔ ترسیلات زر میں اضافے سے کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس ہوا ہے۔
ایس بی پی کے اعلامیے کے مطابق ستمبر میں تجارت، خدمات اور آمدن کا خسارہ 3 اعشاریہ 26 ارب ڈالر رہا ہے۔
یہ پڑھیں: اسٹیٹ بینک نے کرنٹ اکاؤنٹ بیلنس سے متعلق بڑی وضاحت جاری کردی
اعلامیے کے مطابق رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں کرنٹ اکاؤنٹ کھاتہ 59 اعشاریہ 4 کروڑ ڈالر خسارے میں رہا جبکہ اس دوران ملکی برآمدات 7 اعشاریہ 90 ارب ڈالر رہیں۔
ایس بی پی اعلامیے کے مطابق جولائی سے ستمبر کے دوران ملکی درآمدات 15 اعشاریہ 43 ارب ڈالر رہیں جبکہ تین ماہ میں تجارتی خسارہ 7 اعشاریہ 53 ارب ڈالر رہا۔
تین مہینوں میں تجارت، خدمات اور آمدن کا خسارہ 10 اعشاریہ 64 ارب ڈالر رہا، رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کی ورکرز ترسیلات 9 اعشاریہ 53 ارب ڈالر رہیں۔
انجم وہاب اے آر وائی نیوز سے وابستہ ہیں اور تجارت، صنعت و حرفت اور دیگر کاروباری خبریں دیتے ہیں


