The news is by your side.

Advertisement

مزے دار ڈش "کڑی” جسے انگریزوں نے بھی الگ نام دیا

کڑی بہت ہی زیادہ مزے دار اور لذیذ ڈش ہے جسے آسانی سے بنایا جا سکتا ہے، یہ برصغیر پاک و ہند میں بے حد پسندیدہ کھانوں میں سرفہرست ہے، اس ڈش کو سب سے زیادہ چاولوں کے ساتھ تناول کیا جاتا ہے۔

لفظ کڑی کا تعلق کڑھتے ہوئے بنائی جانے والی چیز سے ہے نہ کہ لفظ کری سے جو بہرحال انگریزوں کی ایجاد کردہ اصطلاح ہے۔ برِصغیر کے وہ مذاہب جو گوشت خوری کو اچھا نہیں سمجھتے اُن کی کِتابوں میں کڑی کا ذکر پایا جاتا ہے اور یہ اِس کھانے کے قدیم ہونے کی واضح دلیل بھی ہے۔

یہ ڈش پہلی مرتبہ کب اور کیسے بنائی گئی اس حوالے سے جنوبی ایشیائی امریکی فوڈ بلاگر نے اپنی انسٹا گرام پوسٹ پر ان معلومات کو شیئر کیا ہے۔

جنوبی ایشیائی امریکی فوڈ بلاگر نے لوگوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مختلف کھانوں کیلئے استعمال ہونے والا ایک ہی لفظ ” کڑی” کا استعمال ترک کردیں کیونکہ اس کا تعلق برطانوی راج سے ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ مختلف علاقوں کے مختلف کھانوں کیلئے ایک ہی لفظ "کری” استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ لفظ جنوبی ایشیائی ممالک میں باقاعدگی سے استعمال ہوتا ہے۔

 

View this post on Instagram

 

A post shared by Chaheti (@rootedinspice)

کیلیفورنیا کی فوڈ بلاگر چاہیتائی بنسل نے کھانا بنانے کی ایک ویڈیو شیئر کی جس میں انہوں نے لوگوں کو لفظ "کری” کا استعمال ترک کرنے کو کہا۔ اس ویڈیو کو30 لاکھ 60 ہزار بار دیکھا جا چکا ہے۔

ستائیس سالا فوڈ بلاگر نے کہا کہ خاص طور پر ہندوستانی کھانوں کیلئے لفظ "کری” کا استعمال کرنا سمجھ سے بالاتر ہے۔ بنسل نے کہا کہ ایک کہاوت ہے کہ ہندوستان میں ہر100 کلومیٹر کے بعد کھانے بدل جاتے ہیں لیکن پھر بھی ہم انگریزوں کا دیا ہوا ایک ہی لفظ استعمال کرتے ہیں جنہوں نے کھانوں کے مختلف نام سیکھنے کی زحمت تک نہیں کی۔

فوڈ بلاگر نے کہا کہ میں اس کو مکمل ترک کرنے کا نہیں کہہ رہی بلکہ صرف اتنا چاہتی ہوں کہ جن کو اس کا مطلب نہیں معلوم وہ استعمال نہ کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہندوستان میں ایک بالکل مختلف زبان اور ایک مختلف ثقافت ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے ہمارے (ہندوستانی) کھانے میں بہت زیادہ ورائٹی ہے جس کو ابھی شہرت نہیں ملی۔

لفظ "کری” کہاں سے آیا اس کی مختلف اور بہت ساری وضاحتیں ہیں۔ سب سے زیادہ مشہور یہ ہے کہ اس لفظ کو انگریزوں نے ایجاد کیا تھا جنہوں نے تامل لفظ "کیری” کا غلط مطلب لیا جس کا مطلب "چٹنی” ہے۔

اس لفظ کا پہلا استعمال اٹھارہویں صدی کے وسط میں ملتا ہےجب برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی کے رکن جنوبی مشرقی ہندوستان میں تامل تاجروں کے ساتھ تجارت کرتے تھے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں