کسٹم انسپکٹر قتل کیس، ایان علی کے وارنٹ گرفتاری جاری -
The news is by your side.

Advertisement

کسٹم انسپکٹر قتل کیس، ایان علی کے وارنٹ گرفتاری جاری

راولپنڈی : کسٹم انسپکٹر قتل کیس میں غیر حاضری پر مقامی عدالت نے ماڈل ایان کے وارنٹ گرفتاری جاری کردییے۔

تفصیلات کے مطابق مقتول انسپکٹر اعجاز کی اہلیہ کی مدعیت میں درج کیس میں مسلسل غیر حاضری پر  سول جج نے ملزمہ ماڈل ایان علی کے وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے پولیس کو احکامات دیے اگلی سماعت پر ماڈل گرل کو عدالت میں پیش کیا جائے۔

گزشتہ سماعت پر سول جج نے پولیس کو ملزمہ سے تفتیش کے لیے احکامات جاری کیے تھے تاہم ملزمہ کی غیر حاضری پر مقامی پولیس نے عدالت سے رجوع کیا، جس کی روشنی میں عدالت وارنٹ گرفتاری جاری کیے، عدالتی احکامات کی روشنی میں پولیس کو ملک کے کسی بھی حصے میں چھاپہ مار کر ملزمہ کو گرفتار کرنے کا اختیار مل گیا ہے۔

مقتول انسپکٹر اعجاز چوہدری کی اہلیہ نے روالپنڈی کی عدالت میں درخواست دائر کی ہے، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ’’ملزمہ کسٹم انسپکٹر کے قتل میں ملوث ہے اگر ایان علی کو بیرون ملک جانے کی اجازت دے دی گئی تو اُن کو انصاف نہیں مل سکے گا‘‘۔

مزید پڑھیں : اب کسی نئے کیس میں ایان علی کا نام ای سی ایل میں نہ ڈالا جائے، عدالت کا حکم

 مقتول کی اہلیہ نے درخواست میں مزید درج کیا ہے کہ ’’میرے شوہر کے قتل کے بعد اعلیٰ حکام کی جانب سے کیس سے دستبردار ہونے کے لیے اہل خانہ پر دباؤ ڈالا گیا اور پولیس سمیت کسی بھی ادارے نے بیان ریکارڈ کرنے کے لیے طلب نہیں کیا۔ اس ساری صورتحال کے باوجود میں اپنے شوہر کے انصاف کے لیے کھڑی ہوں‘‘۔

یاد رہے ایان علی کی جانب ای سی ایل سے نام خارج کرنے اور بیرون ملک سفر کی اجازت کے حوالے سے سے سندھ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی گئی تھی، جس پر عدالت نے فیصلہ کرتے ہوئے ماڈل گرل کو بیرون ملک سفر کی اجازت دے دی تھی مگر ایان علی کو امیگریشن حکام نے ایان علی کو بیرون ملک روانگی کے حوالے روکتے ہوئے کہا تھا کہ اس حوالے سے وزارتِ داخلہ سے کوئی احکامات موصول نہیں ہوئے۔

جس کے بعد ملزمہ کی جانب سے وفاقی وزیر داخلہ سمیت ائیرپورٹ حکام کے خلاف عدالتی احکامات نہ ماننے پر درخواست دائر کی گئی تھی ، سندھ ہائی کورٹ کے جج نے سیکریٹری داخلہ سمیت تمام فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے احکامات دئیے تھے کہ ’’کسی اور کیس میں ایان علی کا نام ہر گز ای سی ایل میں شامل نہ کیا جائے اور معاملے کو 10 روز کے اندر حل کر کے بیرونِ ملک سفر کی اجازت دی جائے‘‘۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں