The news is by your side.

Advertisement

کسٹم انٹیلی جنس کی کارکردگی پر سوالیہ نشان

کراچی : حالیہ ہفتے شدید چھان بین کرنے والی وفاقی حکومت کی بنیادی ایجنسیوں میں سے ایک ایجنسی کسٹم انٹیلی جنس کی کارکردگی پر سوال اٹھ گئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق متعدد واقعات میں کسٹم انٹیلی جنس اپنی قانونی ذمہ داریوں کو بہتر طریقے سے ادا نہیں کر سکا، جس کے باعث کسٹم اور درآمدی ڈیوٹی کی مد میں ملک کو مالی تقصان کا سامنا کرنا پڑا ۔

ملک کے مالیاتی اور تجارتی دارالحکومت کراچی میں کاروباری اور تجارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ ایسے کئی واقعات دیکھینے میں آئے ہیں کہ جس میں افسران نے ممنوعہ یا غیر قانونی اشیاء کی درآمد کی اجازت دی یا پھر درآمد کنندہ سے کوئی ڈیوٹی وصول نہیں کی۔

متعدد بار بڑے تاجروں کا یہ بھی تجربہ رہا ہے کہ ان کی درآمدی اشیاء اور سامان کو روک دیا گیا اور ان سے پیسے طلب کئے گئے جبکہ انٹیلی جنس افسران نے بلیک مارکیٹ سامان کو آزادانہ طور پر جانے دیا۔

تاجروں کا کہنا تھا کہ ایسے واقعات کے سبب قومی خزانے کو نقصان پہنچا اور اس پر ستم ضریفی یہ کہ کسٹم انٹیلی جنس فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے ماتحت کام کرتا ہے اور اس کا بنیادی کام ٹیکس اور ڈیوٹی کی وصولی ہے ۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایسے بھی واقعات ہوئے ہیں جس میں کسٹم انٹیلی جنس کی جانب سے ان کی شپمنٹس کو روکا گیا باوجود اس کے کہ اس ضمن میں انہوں نے تمام قانونی اور مالیاتی تقاضوں کو پورا کیا تھا ۔

ان کے مطابق ایسا کرنا ملکی تجارتی سرگرمیوں کو متاثر کرنے اور قانونی تقاضوں کو پورا کرنے والی کمپنیز کو سزا دینے کے مترادف ہے جو کہ در حقیقت اس سامان کی درآمد کررہی ہوتی ہیں جس کی کہ اس ملک کو صنعتی و معاشی ترقی کے لئے ضرورت ہے ۔

تجارتی اور کاروباری حلقوں کا کہنا تھا کہ یہ جانتے ہوئے کہ کسٹم انٹیلی جنس فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے ٹیکس اور ڈیوٹی وصول کرنے کے نظام کا اہم حصہ ہے، اس لئے وفاقی محکمہ خزانہ کی جانب سے اس پر باقاعدہ نظر رکھنا ضروری ہے ، تاکہ اس طرح کی واقعات کی روک تھام کی جاسکے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں