کراچی (17 فروری 2026): اسمگلروں کے خلاف ایک مبینہ کارروائی کے دوران کسٹمز کی گاڑی خوفناک حادثے میں تباہ ہو گئی ہے، جس میں بیٹھے ہوئے اہلکار بھی شدید زخمی ہو گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق ہمدرد چیک پوسٹ پر کسٹمز اہلکاروں نے اسمگلرز کی گاڑی مبینہ طور پر روکنے کی کوشش کی تھی، تاہم اسمگلرز فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے، تعاقب کے دوران اسمگلرز کی گاڑی نے کسٹم کی گاڑی کو زبردست ٹکر ماری اور فرار ہو گئے۔
اس حادثے میں کسٹمز کی گاڑی مکمل طور پر تباہ ہو گئی ہے، ذرائع کے مطابق اس کارروائی کے دوران کسٹم قوانین کے برعکس کسٹم کی گاڑی میں کوئی افسر موجود نہ تھا، جب کہ کسٹم قانون کے تحت خفیہ اطلاع پر کی جانے والی کارروائی میں افسر کی موجودگی ضروری ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اسمگلنگ کے خلاف کارروائیوں میں کمی کے بعد کسٹمز انفورسمنٹ میں اہلکاروں پر افسران کا دباؤ بڑھ گیا ہے، بتایا جا رہا ہے کہ ہمدرد چیک پوسٹ پر کسٹمز اہلکاروں کی گاڑی کو حادثہ کسٹمز افسران کے مبینہ دباؤ کا نتیجہ ہے۔
اس حادثے میں گاڑی میں موجود 4 اہلکار شدید زخمی ہو گئے ہیں جنھیں اسپتال منتقل کیا گیا ہے، ایک کسٹمز سپاہی حادثے میں شدید زخمی ہوا ہے جسے وینٹیلیٹر پر ڈال دیا گیا ہے، ایک سپاہی کی پسلی اور ہڈیاں ٹوٹ گئی ہیں۔ حادثے کے وقت گاڑی میں ڈرائیور سمیت 4 اہلکار موجود تھے۔
خیال رہے کہ ہمدرد چیک پوسٹ پر افسران کی جانب سے کارروائیاں تیز کرنے کے لیے کئی افسران اور سپاہیوں کا تبادلہ بھی کیا گیا ہے۔ ہمدرد چیک پوسٹ پر چھالیہ اور ڈیزل کی اسمگلنگ میں اضافے کے باعث کسٹمز انفورسمنٹ کی کارکردگی پر اعلیٰ افسران پریشانی کا شکار ہیں۔
کسٹم حکام کا کہنا ہے کہ اسمگلرز کے خلاف کارروائی مصدقہ اطلاع پر کئی گئی تھی، حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ اسمگلرز کے تعاقب اور حادثے کے وقت کسٹمز افسر دوسری گاڑی میں موجود تھا۔
انجم وہاب اے آر وائی نیوز سے وابستہ ہیں اور تجارت، صنعت و حرفت اور دیگر کاروباری خبریں دیتے ہیں


