The news is by your side.

Advertisement

پیدائشی بچوں میں "کٹے ہونٹ اور تالو” کا نقص کیوں ہوتا ہے؟

پاکستان میں تقریباً سالانہ گیارہ ہزار سے زائد بچے کٹے ہونٹ یا کٹے تالو کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں، معاشرے میں اس حوالے سے آگاہی کے فقدان کے باعث مریضوں کا بروقت علاج نہیں کروایا جاتا۔

پیدائش کے کچھ عرصے بعد ہی ان بچوں کی ایک بڑی تعداد غذا ٹھیک طرح اندر نہ جانے کی وجہ سے زندگی کی بازی ہار جاتی ہے اور جو بچ جاتے ہیں ان کی زندگی بھی آسودہ نہیں ہوتی۔

ایسے بچے پیدائشی نقص کی وجہ سے مذاق کا نشانہ بنتے ہیں، دل آزاری کی باتیں سنتے یہ بچے احساس کمتری کے گہرے زخم لے کر پروان چڑھتے ہیں۔

اے آر وائی نیوز کے پروگرام باخبر سویرا میں ڈاکٹر محمد اشرف گناترا نے اس مرض کے حوالے سے آگاہی دی ڈاکٹر اشرف13 سال سے ایسے بچوں کا مفت علاج کر رہے ہیں۔

ڈاکٹر محمد اشرف گناترا نے بتایا کہ کٹے ہوئے ہونٹ اور تالو پیدائشی بیماریاں ہیں، یہ اس وقت ہوتا ہے جب حمل کے شروع کے دنوں میں بچے کے ہونٹ یا منہ صحیح طریقے سے نہیں بنتے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ منہ کے نقائص ہیں، اس صورت میں بچوں کے ہونٹوں میں شگاف یا پھٹے ہوئے ہوسکتے ہیں، یہ شگاف ایک طرف یا دونوں طرف کو متاثر کرسکتا ہے۔

کٹے ہوئے ہونٹ اور تالو کے نقائص اس وقت ہوتے ہیں جب منہ یا ہونٹوں کے کافی ٹشوز نہیں ہوتے یا ٹشوز ٹھیک طریقے سے آپس میں نہیں جڑتے، اس وجہ سے بھی ایسا ہوتا ہے۔

ڈاکٹر محمد اشرف گناترا نے اس بات کی سختی سے تردید کی کہ کٹے ہونٹ یا تالو کا تعلق کسی چاند گرہن یا سورج گرہن سے ہوتا ہے، انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی حقیقت نہیں یہ صرف کم علمی اور توہمات ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں