سعودی عرب میں سائبر قانون کی خلاف ورزی سے بچیں -
The news is by your side.

Advertisement

سعودی عرب میں سائبر قانون کی خلاف ورزی سے بچیں

کیا آپ جانتے ہیں کہ جس قدر آزادی سے آپ سوشل میڈیا پاکستان میں استعمال کرسکتے ہیں سعودی عرب میں نہیں کرسکتے‘ لہذا اگر آپ سعودی عرب کا سفر کررہے ہیں یا وہاں قیام پذیر ہیں تو یہ خبر آپ کے لیے ہے۔

پاکستان کے لگ بھگ 15 لاکھ شہری برادر ملک سعودی عرب میں روزگار کی غرض سے رہائش پذیر ہیں اور ان کے پاس پاکستان سے جڑے رہنے کا سب سے آسان اور سستا ذریعہ سوشل میڈیا ہے۔

لیکن اگر آپ سعودی عرب میں رہائش پذیر ہیں تو وہاں سائبر کرائم کا قانون انتہائی سخت ہے اور آپ کے بعض ایسے کاموں پر وہاں آپ کو سخت سزا کا سامنا کرسکتا ہے جو کہ شاید پاکستان میں آپ کے لیے شرارت سے زیادہ نہ ہوں۔

دلہن کی تصویر کھینچنا

saudi-post-1

سعودی عرب میں کسی شادی یا تقریب میں دلہن یا کسی خاتون کی تصویر لینے اور ویڈیو بنانے پر کم از کم 12 مہینے قید اور پانچ لاکھ سعودی ریال کی سزا مقرر ہے ۔ وہاں اسے خواتین کی ذاتیات میں دخل دراندازی تصور کیا جاتا ہے۔

اس سزا کا مقصد غیر محرموں تک خواتین کی تصویروں اور ویڈیوز تک رسائی کو روکنا ہے۔

حادثے کی تصاویر کھینچنا

saudi-post-2

سعودی عرب میں کسی بھی حادثے کی تصویر کھینچنا یا ویڈیو بنانا خلافِ قانون ہے اور اس کی سزا کم از کم پانچ سال اور ساتھ میں پانچ لاکھ سعودی ریال کا جرمانہ بھی کیا جاسکتا ہے۔

اس قانون کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ حادثہ ایک اضطراری کیفیت ہے جو باقاعدہ منصوبے کے تحت نہیں پیش آتا اور ایسے میں اکثر اوقات یہ ہوتا ہے کہ لوگ زخمی کی مدد کرنے کے بجائے ویڈیو بنانے میں مصروف ہوجاتے ہیں، جس سے زخمی کی جان بچنے کا ایک امکان کم ہوجاتا ہے۔

سوشل میڈیا پر جعلی اکاؤنٹ رکھنا

saudi-post-3

اگر آپ سعودی عرب میں رہتے ہوئے کسی خاتون کے نام سے جعلی سوشل میڈیا آئی ڈی چلا رہے اور اس کے ذریعے سے دوسرے شہریوں کو معاشی نقصان پہنچا رہے ہیں تو آپ کو ایک سال قید اور کوڑوں کی سزا ہوسکتی ہے۔

ایسے ہی کیس میں کہ جس میں ایک شخص خاتون کی تصویر لگا کر اور آواز بنا کر لوگوں سے تحفے وصول کررہا تھا‘ پولیس نے اس کے گھر پر ریڈ کی اور 13 ہزار سعودی ریال مالیت کی اشیا جن میں پرفیوم ‘ میک اپ کٹس وغیرہ شامل ہیں بازیاب کیے۔ مذکورہ کیس میں ملزم کو ایک سال قید اور آٹھ سو کوڑوں کی سزا سنائی گئی۔

غیر متعلقہ شخص کی ویڈیو اپ لوڈ کرنا

saudi-post-4

جیسے جیسے ٹیکنالوجی میں ترقی آرہی ہے اور اسمارٹ فون اور سوشل میڈیا ویب سائٹس کا استعمال بڑھتا جارہاہے اور اب چاہے کسی بھی شخص کی کرپشن ہو غفلت ہو یا جرم‘ موبائل کیمرے سے اس کی ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کر کے اس دنیا بھر تک پہنچا دینا انتہائی آسان ہے۔

لیکن اگر آپ سعودی عرب میں ہیں تو خبردار! آپ ایسے ہی کسی کی ویڈیو کہیں بھی اپ لوڈ نہیں کرسکتے اور اگر آپ نے ایسی حرکت کی تو آپ پر پانچ لاکھ سعودی ریال تک کا جرمانہ ہوسکتا ہے۔

سعودی شہری کی توہین

saudi-post-5

ویسے تو دنیا کے کسی بھی ملک میں شہریوں کی توہین کرنا اچھا نہیں سمجھا جاتا لیکن اگر آپ سعودی عرب میں ہیں اور کسی شخص کی توہین کررہے ہیں تو خیال رکھئے یہ عمل آپ کو مشکل میں ڈال سکتا ہے۔

گزشتہ دنوں ایک 32 سالہ خاتون کو 20 ہزار سعودی ریا ل اور 70 کوڑوں کی سزا سنائی گئی ۔ خاتون کا جرم یہ تھا کہ اس نے واٹس ایپ پر ایک سعودی شہری کی توہین کی تھی ۔ خاتون نے عدالت میں اپنا جرم قبول کیا لیکن عدالت کی سزا کو قبول کرنے سے انکار کیا۔ خاتون کی شہریت اور توہین کا نشانہ بننے والے شہری کی شناخت مخفی رکھی گئی ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں