The news is by your side.

Advertisement

سائبر کرائم ایکٹ کے خلاف درخواست، حکومت کو نوٹس جاری

لاہور: ہائی کورٹ میں سائبر کرائم ایکٹ کے خلاف دائر درخواست کی سماعت ہوئی جس کے بعد عدالت نے وفاقی حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا۔

تفصیلات کے مطابق لاہور ہائی کورٹ میں سائبر کرائم ایکٹ کے خلاف درخواست پر جسٹس عائشہ اے ملک کی سربراہی میں سماعت ہوئی جس میں درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ سائبر کرائم ایکٹ کے قانون کی کابینہ کی طرف سے منظوری نہیں دی گئی۔

درخواست گزار نے عدالت میں مؤقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’’سائبر کرائم ایکٹ آئین پاکستان کے آرٹیکل 19 کی واضح خلاف ورزی ہے کیونکہ اس کے اطلاق کا مقصد عوام کی آزادی اظہار رائے پر پابندی عائد کرنا ہے‘‘۔


پڑھیں: ’’ سائبر کرائم ایکٹ: لاہور ہائیکورٹ نے وفاقی حکومت کو نوٹس جاری کردیا ‘‘


درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ ایکٹ میں حکومت اور اداروں سے متعلق بات کرنے پر پابندی عائد کی گئی ہے لہذا سائبر کرائم ایکٹ کو فوری طور پرغیر آئینی قرار دے کر کالعدم قرار دیا جائے۔ عدالت نے ابتدائی سماعت کے بعد وزاتِ داخلہ‘ وزارتِ اطلاعات و نشریات اور وفاقی حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے دو ہفتوں میں جواب طلب کرلیا۔


مزید پڑھیں: ’’ سائبر کرائم بل سینیٹ میں متفقہ طور پر منظور ‘‘


خیال رہے کہ  رواں سال جولائی میں انٹرنیٹ کے غلط استعمال اوراس کے ذریعے ہونے والے جرائم کی روک تھام کے لیے حکومت کی جانب سے وفاقی وزیر برائے ٹیکنالوجی نے سینیٹ میں سائبر کرائم بل برائے 2016 پیش کیا تھا جو اکثریتی رائے کے ساتھ متفقہ طور پر منظور ہوگیا تھا۔

قانون نافذ ہونے کے بعد ملک کے مختلف علاقوں میں سائبر کرائم ایکٹ کے تحت ملزمان کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں