site
stats
اے آر وائی خصوصی

اے ٹی ایم کارڈ استعمال کرنے والے محتاط ہوجائیں

اسلام آباد : اگر آپ کے اے ٹی ایم کارڈ سے کوئی شاپنگ کرے یا نقد رقم نکلوالے تو ضرور یہ پریشان کن بات ہے تاہم ایسے سائبر کرائم میں ملوث ایک گروہ کی رنگوں ہاتھوں گرفتاری نے ڈھول کا پول کھول دیا ہے۔

اے آر وائی نیوز کے مقبول پروگرام الیونتھ آور میں اس اہم مسئلے کو موضوع بحث بنایا گیا اور سائبر کرائم میں ملوث مجرموں کے طریقہ واردات سے عوام کو آگاہ کیا گیا اور ماہرین کی آراء کو بھی پروگرام کا حصہ بنایا گیا۔


گزشتہ برس پنجاب اور کراچی سے ایسے گروہ گرفتار ہوئے جو جعلی ڈیبٹ کارڈ بنانے کے ماہر تھے ساتھ ہی انٹرنیٹ کے ذریعے بینک صارفین کا ڈیٹا چوری کر کے آنے لائن شاپنگ کیا کرتے تھے اور نقد رقم بھی نکلوالیا کرتے تھے اس اچانک آئی افتاد سے پریشان صارفین نے ایف آئی سے سے رجوع کیا جس کے بعد یہ گروہ پکڑے گئے۔
ATM-fake-keypad
الیونتھ آور کے میزبان وسیم بادامی سے بات کرتے ہوئے ایف آئی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر محمد زعیم نے بتایا کہ حال ہی میں دو رکنی چینی گروہ کو رنگے ہاتھوں گرفتار کیا گیا ہے جو اے ٹی ایم مشین میں کارڈ ریڈر اور مائیکرو کیمرہ نصب کردیا کرتے تھے۔


کراچی میں اے ٹی ایم کا استعمال، انڈونیشیا سے رقم چوری


اے ٹی ایم کارڈ ریڈر مشین میں اس طرح نصب کیا جاتا تھا کہ وہ مشین کا حصہ ہی لگتا تھا اور صارف جب اس میں کارڈ ڈالتے اور اپنے پیسے نکلوا تے بعد ازاں چور اس کارڈ ریکارڈ کو نکال کر لے جاتے اور اس میں سے صارف کا ڈیٹا ڈاؤن لوڈ کر لیتے۔

ATM-post-1

اسی طرح پن کوڈ ڈالنے کے لیے کیز کے اوپر مائیکرو کمیرہ نصب کردیتے جب صارف اپنا پاس ورڈ ڈالنے کے کیز استعمال کرتے تو وہ کیمرے میں محفوظ ہوجاتا جسے چور بعد میں نکال کر اپنے ہمراہ لے جاتے اور صارف کا پاس ورڈ دیکھ لیتے۔


کراچی،جعلی اے ٹی ایم کارڈز بنانے والے 4 ملزمان گرفتار


اس طرح کیمرا کے ذریعے صارف کا ڈیٹا حاصل ہوجاتا اور ایمپوزر مشین سے جعلی کارڈ بنا کر شاپنگ کی جاتی اور نقد رقم نکلوا لی جاتی ہے جب کہ اسکیمر سے حاصل شدہ صارف کا ڈیٹا بین الاقوامی گروہ کو بھی فروخت کردیا جاتا ہے۔skimmer

ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے محمد زعیم نے اے ٹی ایم کے ذریعے صارف کا ڈیٹا چرانے کے عمل کا ناظرین کی معلومات کے لیے مظاہرہ بھی کیا جس کے ذریعے اے ٹی ایم صارفین اس قسم کی دھوکا دہی اور چال بازی سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔

ATM-post-2

ڈارک ویب کیا ہیں؟؟

 واضح رہے کہ اس دنیا بھر کے کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈز، بینکوں کا ڈیٹا اور دیگر خفیہ معلومات انٹرنیٹ پر بنی ڈارک ویب سائٹس پر فروخت کی جاتی ہیں، ان ویب سائٹس پر عام آدمی کی رسائی ممکن نہیں، صرف ہیکر ہی ان ویب سائٹس تک رسائی حاصل کرکے دیگر ہیکرز کو کریڈٹ کارڈز کے پن کوڈز اور دیگر معلومات فروخت کرتے ہیں۔

ایک گروہ صرف معلومات چراتا ہے جسے دوسرے گروہ کو فروخت کردیتا ہے، دوسرا گروہ کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈز کی معلومات اپنے تیار کردہ کارڈز میں فیڈ کرکے کسی بھی ملک سے شاپنگ کرلیتا ہے۔

دنیا بھر کے سائبر کرائمز کے ادارے ان ڈارک ویب کا سراغ لگانے اور ہیکرز کو پکڑنے میں لگے رہتے ہیں تاہم ہیکرز ایسے خفیہ اداروں کی نظر میں آئے بغیر معلومات ایک دوسرے کو فروخت کرنے میں ماہر ہوتے ہیں، ناپختہ ہیکرز پکڑے جاتے ہیں تاہم ماہر اور بین الاقوامی گروہ ایسے معاملات میں ہاتھ بچا کر ڈیٹا خرید اور فروخت کرکے اپنا سراغ مٹانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top