site
stats
پاکستان

سائبر کرائم لاء کے خلاف سندھ ہائی کورٹ میں درخواست دائر

Cyber crime law

کراچی: سندھ ہائی کورٹ میں قومی اسمبلی میں منظور کیے گئے ’سائبر کرائم لاء‘ کی قانونی حیثیت کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی،عدالت نے درخواست گزار کو ترمیمی درخواست دائر کرنے کیلئے نومبر تک مہلت دے دی۔

تفصیلات کے مطابق شہری کی جانب سے دائر کردہ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل سے منظوری کے بغیرلاء غیرقانونی ہے۔

درخواست کے مطابق آئین کے آرٹیکل 19 کے تحت ملک کے ہر شہری کو اظہار رائے کی مکمل آزادی ہے،آزادی اظہار رائے کا غلط استعمال کرنے والوں کے خلاف کارروائی کے لیے مکمل قوانین موجود ہیں،حکومتی اداروں نے اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کیں جس سے مشال خان جیسا واقعہ رونما ہوا۔

سائبر کرائم بل پرصحافی برادری/سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ کا اظہارتشویش*

عدالت میں درخوات گزار کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا ہے کہ مشال خان کا واقع اسلام اور پاکستان کو دنیا بھر میں بدنام کرنے کا سبب بنا،ملک میں توہینِ رسالت کے قوانین زیر دفعہ سی 295موجود ہیں،توہینِ رسالت کے قوانین کو حکومت لاگو کرنے میں ناکام ہوئی ہے۔،

قومی اسمبلی سے منظور ہونے والے بل کو اسلامی نظریاتی کونسل کے سامنے بھی پیش نہیں کیا گیا،اسلامی نظریاتی کونسل کی منظوری کے بغیر سائبر کرائم لاء غیرقانونی ہے اسے روکا جائے۔

سائبر کرائم بل سینیٹ میں متفقہ طورپرمنظور*

 عدالت نے درخواست گزار کو ترمیمی درخواست دائر کرنے کے لیے نومبر تک کی مہلت دے کر عدالت برخواست کردی۔

یاد رہے کہ انٹرنیٹ کے غلط استعمال اور اس کے ذریعے ہونے والے جرائم کی روک تھام کے لیے وفاقی وزیر برائے ٹیکنالوجی کی جانب سے پیش کیا گیا سائبر کرائم بل سنہ 2016 کے وسط میں سینیٹ میں تحفظات کی یقین دہانی کے بعد منظور کرلیا گیا تھا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top