منگل, اپریل 21, 2026
اشتہار

ڈی ایچ لارنس:‌ عالمی شہرت یافتہ ناول نگار جسے خود ساختہ جلاوطنی گزارنا پڑی

اشتہار

حیرت انگیز

ڈی ایچ لارنس نے اپنے ناولوں، افسانوں، ڈراموں، نظموں، سفر نامے اور خطوط کی شکل میں بڑا ادبی اثاثہ یادگار چھوڑا۔ دنیا کی متعدد زبانوں میں اس کی کتابوں کا ترجمہ کیا گیا۔ 2 مارچ 1930ء کو یہ قلم کار اس جہانِ فانی سے کوچ کر گیا تھا۔

لیڈی چیٹرلی کا عاشق وہ ناول تھا جس پر برطانوی مصنف ڈی ایچ لارنس کو فحش نگار کہا گیا۔ اس ناول پر پابندی عائد کردی گئی اور قدامت پسندوں نے اس کے خلاف مہم چلائی جس میں اس پر مقدمات بھی کیے گئے، لیکن بعد میں یہی ناول دنیا بھر میں خوب فروخت ہوا اور لارنس کی بہترین تصنیف کہلایا۔ ناقدین کے مطابق ڈی ایچ لارنس کے ناول اور نظمیں پیچیدہ انسانی جذبات اور بعض حساس سماجی موضوعات کا احاطہ کرتی ہیں۔

فکشن رائٹر، شاعر اور نقّاد ڈی ایچ لارنس کے متنازع ناول نے بیسویں صدی کے وسط میں عالمی ادب میں تہلکہ مچا دیا تھا۔ برطانیہ میں مذہبی اور اخلاقی قدروں کی پامالی اور فحاشی تصور کرتے ہوئے اس پر پابندی کا مطالبہ کیا گیا اور یہ پابندی صرف برطانیہ میں نہیں‌ لگی بلکہ امریکہ، کینیڈا، آسٹریلیا، جاپان اور ہندوستان میں بھی اس ناول کی طباعت اور فروخت ممنوع قرار دے دی گئی۔ مصنف کو عدالت کا سامنا کرنا پڑا مگر وقت گزرا تو دنیا نے اسے انسانی نفسیات، اور اس کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کرتا ایک بہترین ناول تسلیم کیا۔ یہ ناول جنگل کے ایک معمولی رکھوالے اور اعلیٰ طبقے کی ایک مہذب عورت میں تعلقات کو اجاگر کرتا ہے۔ اپنے دور کے کئی بڑے ادیبوں کا کہنا تھا کہ اس ناول میں جنسیت کے پہلو کو جس خوبی سے بیان کیا گیا ہے وہ حقیقت افروز ہے۔ مصنف نے ہوس ناکی اور شہوت انگیزی کے بجائے ان جذبات کو پیش کیا ہے جن سے سوسائٹی کو دھچکا لگا ہے اور یہ اونچے طبقے کی مروجہ نام نہاد قدروں کی بنیادوں کو ہلا دیتے ہیں۔

انگریز ناول نگار ڈیوڈ ہربرٹ لارنس المعروف ڈی ایچ لارنس انگلستان کے صنعتی علاقے نوٹنگھم شائر میں 1885ء کو پیدا ہوا تھا۔ والد ان پڑھ تھے اور ایک کان کن کی حیثیت سے کام کرتے تھے جن کی معمولی تنخواہ میں گزر بسر مشکل تھی۔ والدہ اپنی شادی سے پہلے ایک اسکول ٹیچر رہی تھیں۔ انھوں نے اپنے بیٹے لارنس کو تعلیم دلانے کا فیصلہ کیا اور اس کی حوصلہ افزائی کرتی تھیں۔ لارنس نے کم عمری میں ادب سے لگاؤ کے بعد شاعری شروع کردی اور پھر فکشن کی طرف راغب ہوا۔ اس کا پہلا ناول 1911ء میں شائع ہوا۔ لارنس نے محکمۂ تعلیم میں ملازمت اختیار کرلی تھی مگر اس ناول کی اشاعت کے بعد ٹی بی کا شکار ہوجانے پر اسے نوکری سے استعفیٰ دینا پڑا۔ اسی دور میں لارنس نے لکھنے لکھانے کو اپنا وظیفہ بنا لیا۔ دو برس بعد اس کا ایک اور ناول منظر عام پر آیا اور پھر اپنی پذیرائی دیکھتے ہوئے وہ کہانیاں تخلیق کرنے لگا۔ لارنس کی شادی ایک جرمن عورت سے ہوئی اور 1928ء میں اس کا متنازع ناول سامنے آیا۔ ڈی ایچ لارنس نے مختصر کہانیوں کے بھی مجموعے شائع کروائے جو بہت پسند کی گئیں۔ یہ کہانیاں، جذبات و ذہانت اور تخلیقی ہنر مندی کا شاہکار سمجھی جاتی ہیں۔ ان میں مصنف نے زیادہ تر نفسیاتی پیچیدگیوں اور ورکنگ کلاس کو موضوع بنایا ہے۔ ڈی ایچ لارنس نے ادبی تنقید بھی لکھی، ڈرامے بھی تحریر کیے اور مکتوب نگاری کے ساتھ مختلف شخصیات پر مضامین بھی تحریر کیے۔ لارنس کی تحریریں جنسیت، جذباتی صحت، بے ساختگی اور جبلت جیسے مسائل کا احاطہ کرتی ہیں، جو اس دور میں قدامت پسند سوچ کی وجہ سے ناگفتہ بہ موضوع سمجھتے جاتے۔ اسے اپنے افکار و خیالات کی وجہ سے معاشرے میں ناپسندیدگی اور سخت تنقید سہنا پڑی۔ یہاں تک کہ سرکاری سنسر شپ اور اپنے تخلیقی کام کی غلط تشریحات کے بعد ڈی ایچ لارنس کو خود ساختہ جلا وطنی بھی گزارنا پڑی۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں