ہفتہ, اپریل 18, 2026
اشتہار

داغؔ دہلوی حقیقت پسند، حسن پرست اور عاشق بامراد بھی تھے!

اشتہار

حیرت انگیز

جب بھی اردو شاعری پر بات ہوگی میر تقی میر، مرزا غالب اور آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کے استاد ابراہیم ذوق کا نام ضرور لیا جائے گا اور ساتھ ہی ان شعراء سے منسوب واقعات اور بعض لطائف بھی پڑھنے کو ملیں‌ گے۔ اسی طرح اردو ادب میں داغ دہلوی کی شاعری پر بھی بات ہوتی رہے گی اور ان کے عشق کے قصّے بھی سنے اور پڑھے جاتے رہیں‌ گے۔ ان کا نام نواب مرزا خاں اور تخلّص داغ تھا۔ فصیح الملک، نواب ناظم جنگ بہادر کے خطابات سے نوازے گئے۔ داغ دہلوی کے ہندوستان میں کئی شاگرد بھی شعر و سخن کی دنیا میں ممتاز ہوئے۔

حضرت داغ اردو کے ایسے غزل گو شاعر تھے جنھوں نے اپنے زمانہ کی مشہور مغنّیاؤں اور طوائفوں سے نہ صرف دل لگایا بلکہ ان کے نام خط لکھ کر اردو ادب کو اپنی رنگین مزاجی کا سراغ بھی دے گئے۔ داغ کے دل کا حال بیان کرتے یہ خطوط بعد میں کتابی شکل میں شایع ہوئے اور قارئین تک پہنچے۔ کہتے ہیں کہ داغ کے شاگردوں کی تعداد ہزاروں‌ میں‌ تھی۔ ان میں سے کئی شاگردوں نے اردو ادب میں بڑا نام و مرتبہ پایا۔

اردو ادب کے بڑے نقادوں‌ نے لکھا ہے کہ داغ دہلوی کے کلام میں روزمرہ تیکھا پن، محاورے کی چاشنی، شوخی، حلاوت اور نزاکت سبھی کچھ موجود ہے۔ زبان دانی اور محاورہ تو گویا ان کی گھٹی میں پڑا تھا۔

داغل لوہارو کے ایک رئیس شمس الدین خان کے گھر 25 مئی 1831ء کو پیدا ہوئے۔ ان کی جائے پیدائش دلّی کا مشہور محلّہ چاندنی چوک تھا۔ غدر کے ہنگامے میں‌ ان کے والد کو ایک انگریز ایجنٹ کے قتل کے الزام میں پھانسی دے دی گئی۔ تب، داغ اپنے رشتہ دار کے ساتھ رام پور چلے گئے۔ رام پور میں انھوں نے مولوی غیاث الدّین سے فارسی کی تعلیم حاصل کی۔ ان کی والدہ جب بہادر شاہ کے ولی عہد مرزا فخرو سے وابستہ ہوگئیں تو اپنے بیٹے کو بھی ساتھ لے گئیں‌۔ یوں‌ داغ کی تعلیم و تربیت کے اگلے مراحل قلعہ معلّیٰ میں طے پائے۔ فن و ادب کی فضا میں پروان چڑھتے داغ کو مطالعہ کا شوق بھی ہوا اور آسودہ حالی نے انھیں شاعری کی طرف راغب کرلیا۔

عبدالمجید قریشی اپنی تصنیف "کتابیں‌ ہیں‌ چمن اپنا” میں لکھتے ہیں کہ داغ کی چار پانچ الماریاں کتابوں سے بھری ہوئی تھیں‌۔ کتب خانے کی فہرست مجلّد تھی۔ مرزا صاحب اپنے احباب اور شاگردوں کو کتابیں مستعار بھی دیتے رہتے، لیکن اُن کا اندراج ایک علاحدہ رجسٹر میں کر دیتے۔ اس رجسٹر کی تنقیح ہر دوسرے تیسرے مہینے ہوتی رہتی اور اگر کوئی کتاب کسی کے پاس رہ جاتی تو تقاضا کر کے منگوا لیتے۔

شعرائے متاخرین میں داغؔ کو ایک بلند مرتبہ اور اپنے دور کا اہم شاعر تسلیم کیا جاتا ہے۔ انھوں‌ نے قلعۂ معلّی کی ٹکسالی زبان میں شاعری کی اور اپنی شاعرانہ صلاحیتوں کا اظہار اس طرح کیا کہ اردو غزل ان کے یہاں بوجھل تراکیب اور بھاری بندشوں سے آزاد ہوکر سلاست، سادگی و پُرکاری کا نمونہ بن گئی۔ داغ کا کلام ایک کیفیت اور گداز پیدا کرتا ہے جسے تاثیرِ سخن کہہ سکتے ہیں۔ گو کہ داغ دہلوی اس عہد کے دوسرے شعرا آتشؔ، ذوقؔ اور غالبؔ کے ہم پلّہ نہیں ہوسکے مگر ان کے شاعرِ خداداد ہونے میں کوئی شک نہیں ہے۔ ان کا ہر شعر پُراثر ہے۔

کہتے ہیں کہ داغ حقیقت پسند تھے، حسن پرست بھی اور عاشق بامراد بھی! ان کی حسن پرستی اور ان کے عشق کسی سے ڈھکی چھپی بات نہ تھی۔ کلکتے کی طوائف منی بائی حجاب پر داغ کے مر مٹنے کا بہت چرچا ہوا اور اسے مخمور سعیدی نے اپنے ایک مضمون میں یوں رقم کیا ہے۔ "زندگی میں جانے کتنی طوائفوں سے داغ کے مراسم رہے ہوں گے لیکن ان کا کوئی دیرپا نقش داغ کے روز و شب پر نظر نہیں آتا۔ یہ دیرپا نقش صرف کلکتے کی منی بائی حجاب نے چھوڑا جسے وہ ہمیشہ اپنے دل میں بسائے رہے۔”

"حجاب کو داغ نے آخری بار 3 جولائی 1882ء کو کلکتے میں الوداع کہا تھا۔ پھر وہ کچھ ایسے حالات سے دوچار رہے کہ حجاب سے ملاقات کی کوئی صورت نہیں نکال سکے۔ 1899ء میں انہوں نے نظام حیدرآباد کے ساتھ کلکتے کا سفر بھی کیا لیکن غالباً نظام کے معمولات کی پابندی کی وجہ سے انہیں حجاب سے ملاقات کی مہلت نہیں ملی۔ اس وقت تک کوئی حسّے صاحب حجاب کو پردہ نشیں بھی بناچکے تھے۔ داغ کے اس سے مل نہ سکنے کی ایک وجہ یہ بھی رہی ہو گی۔”

"داغ کی حجاب سے ملاقات چاہے نہ ہو سکی ہو لیکن حجاب تک یہ خبریں ضرور پہنچی ہوں گی کہ داغ والیِ دکن کے ساتھ کلکتے آئے ہیں اور رئیسانہ ٹھاٹ باٹ کے ساتھ آئے ہیں۔ اس کے دل میں بھی پرانی یادوں نے انگڑائی لی ہوگی۔ چنانچہ اس نے داغ کے ساتھ مراسلت کا رابطہ قائم کیا اور ان کے ایما پر حسّے صاحب سے طلاق لے کر داغ کے پاس حیدرآباد جانے کا فیصلہ کرلیا۔”

"دسمبر 1898ء میں داغ کی اہلیہ فاطمہ بیگم کا انتقال ہوگیا تھا۔ عجب نہیں کہ انہوں نے حجاب سے یہ وعدہ بھی کیا ہو کہ وہ اس سے نکاح کر لیں گے۔ اس خیال کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ دہلی دربار( جنوری 1903ء) سے داغ، جو نظام کی ہمراہی میں تھے، واپس ہوئے تو ان کے ورودِ حیدر آباد کے فوراً بعد کسی نے ان سے پوچھا کہ آخر اب آپ کیوں حجاب سے نکاح کرنا چاہتے ہیں، آپ کی بتیسی مصنوعی ہے، سر اور داڑھی کے بال خضاب سے رنگے جاتے ہیں۔ تو داغ نے کہا کہ مجھے اپنی کبر سنی کا احساس ہے، لیکن میری مسہری آج بھی ایک نو عروس کی مسہری معلوم ہوتی ہے۔ رنگین جالی کے پردے ہیں، جن پر گوٹا لگا ہوا ہے اور انگوری بیل کی جھالر بھی لہرا رہی ہے۔ یہ سب روا ہے تو منی بائی حجاب میرے لیے کیوں ناجائز کر دی جائے۔ اس سے پہلے داغ نے اپنے بے تکلف دوستوں کی ایک محفل میں یہ سوال بھی اٹھایا تھا کہ کیا حسّے صاحب سے طلاق کے بعد حجاب کو عدت میں بیٹھنا ہوگا؟”

"داغ نے 3 جولائی 1883ء کو حجاب کو کلکتے میں خدا حافظ کہا تھا۔ اٹھارہ انیس برس کے بعد انہوں نے 18 یا 19 جنوری 1903ء کو اسے حیدرآباد میں خوش آمدید کہا۔ انہوں نے حجاب کے قیام کے لیے ایک مکان کا انتظام کر دیا اور اس کی ماہانہ تنخواہ بھی مقرر کردی جو سیّدہ جعفر کے بیان کے مطابق ابتدا میں ساٹھ روپے تھی، پھر سو روپے کر دی گئی۔”
(بحوالہ: داغ دہلوی، حیات اور کارنامے، دہلی اردو اکادمی، صفحہ 56)

رفیق مارہروی نے داغ کے اپنی محبوباؤں اور واقفانِ حال کے نام خطوط کو یکجا کیا تھا اور اسے ‘خطوطِ داغ’ کا نام دیا تھا۔ وہ اس مجموعہ میں ایک جگہ لکھتے ہیں، "حجاب کا ہاتھ کھلا ہوا تھا۔ یہ رقم اس کی ضرورتوں کی کفالت کے لیے ناکافی تھی۔ وہ مزید رقم کا مطالبہ کرتی ہو گی۔ داغ نے اپنے ایک عزیز شاگرد میر حسن علی خاں کو ایک بار لکھا تھا: "حجاب کی ضرورتیں پوری نہیں ہوتیں، آئے دن سر گرداں رہتی ہے۔”

"حجاب حیدر آباد پہنچی تو اس پر مذہب کا رنگ چڑھ چکا تھا اور وہ صوم و صلٰوۃ کی پابند تھی۔ رمضان کے علاوہ بھی روزے رکھنے لگی تھی اور اوراد و وظائف سے بھی شغف پیدا ہوگیا تھا۔ میر یٰسین علی خاں نے، جنہوں نے اس وقت حجاب کو دیکھا تھا، اس کا حلیہ یوں بیان کیا ہے: "کوئی 40، 45 کا سن ہوگا۔ رنگ صاف، آنکھیں بڑی بڑی، ناک اونچی، بالوں پر خضاب چڑھا ہوا، پتلے پتلے لب، میانہ قد، اونچی پیشانی، مانگ پھٹی پھٹی سی، تنگ اطلس کا پاجامہ، مغزی ٹکا ہوا لانبا کرتا اور اس پر سفید اوڑھنی۔ پاؤں میں دہلی کی جوتی اور دونوں ہاتھوں کی پتلی پتلی انگلیوں میں انگوٹھیاں۔”(بحوالہ: نگار، جنوری 1953ء)

حجاب یہی توقع لے کر آئی تھی کہ داغ اس سے نکاح کریں گے۔ اس نے آنے سے پہلے ہی داغ کو لکھ دیا تھا کہ "جب تک نکاح نہیں کر لوں گی، تمہارے سامنے نہیں آؤں گی۔ میں نے یہ تمام جھگڑا اس لیے نہیں کیا کہ شرعی باتوں کی خلاف ورزی کروں۔ تم اس بھروسے میں نہ رہنا کہ میں تمہارے سامنے آؤں۔”

داغ کے روزنامچہ نگار کا بیان ہے، ”ایک طوائف کی ایسی دنیا بدلی ہے کہ کوئی وقت وظیفے سے خالی نہیں ہے۔ مرزا صاحب فرما رہے تھے کہ دو چار برس میں ولیہ ہوجائیں گی۔” (مؤرخہ 22 جنوری 1903ء)

لیکن داغ حجاب کو اس رنگ میں دیکھنا نہیں چاہتے تھے۔ انہوں نے جا نماز اور تسبیح بھجوانے کا حجاب کا مطالبہ پورا کرتے ہوئے یہ بھی کہلا بھیجا کہ ”جب تک تمہارے اوراد و وظائف نہیں چھوٹیں گے، اس وقت تک تم انسان نہیں بن سکتیں اور جب تک انسان نہ بن سکو، اس وقت تک میرے کام کی نہیں ہوسکتیں۔”

حجاب نے کچھ دن انتظار کیا کہ داغ اس کی راہ پر آجائیں۔ ادھر داغ نے بھی نباہنے کی اپنی سی کوشش کی مگر دونوں ہی ناکام رہے۔ داغ سے مایوس ہو کر حجاب اگست 1904ء میں کلکتے واپس چلی گئی۔

تمکین کاظمی "معاشقۂ حجاب و داغ” میں لکھتے ہیں:
"یہ صرف وضع داری اور دل لگی تھی۔ اس جذبۂ تفریح کو محبت سے دور کا بھی واسطہ نہ تھا۔ دونوں طرف سے ایک ہی جذبہ کار فرما تھا۔ داغ اپنی دولت و ثروت اور عزّت و امارت کا نقش حجاب کے دل پر بٹھانا چاہتے تھے اور حجاب کی نظر داغ کی دولت پر تھی۔”

لیکن کم از کم داغ کے دل میں حجاب کے لیے نرم گوشہ ضرور تھا۔ حجاب کے کلکتے چلے جانے کے بعد داغ زیادہ زندہ نہیں رہے، لیکن جب تک رہے، اسے ماہانہ کچھ بھجواتے رہے۔”

مرزا فخرو کے انتقال کے بعد داغ اور ان کی والدہ کو قلعۂ معلّیٰ‌ چھوڑنا پڑا۔ داغ تو حیدرآباد دکن کے ہوگئے اور وہیں وفات پائی۔ ان کے انتقال کی تاریخ بعض ادبی تذکرہ نویسوں نے 17 مارچ لکھی اور بعض جگہ 16 فروری بتائی گئی ہے۔ لیکن سنِ وفات 1905ء ہے۔ داغ نے حضور نظام (دکن) سے وظیفہ بھی پایا۔ دکن میں ان کا بڑا احترام کیا جاتا تھا۔ اسی شہر کی مشہور مکّہ مسجد میں‌ شاعر داغ دہلوی کی نمازِ جنازہ پڑھی گئی تھی۔

نظام دکن کے علاوہ داغ کو مختلف ریاستوں کے نواب اور امراء کی جانب سے بھی وظیفہ ملا کرتا تھا۔ دکن میں داغ کا ایک دل چسپ امتحان لیا گیا اور ان پر نظام نے جو انعام و اکرام کیا، وہ صدق جائسی کے قلم سے ملاحظہ کیجیے:

"سرکار مرحوم ایک وسیع میدان میں کرسی پر رونق افروز تھے۔ اسٹاف کے تمام امرا دست بستہ دائیں اور بائیں کھڑے تھے۔ چابک سوار شاہی اصطبل کے گھوڑوں پر شہ سواری کے کمالات دکھا رہے تھے۔ سرکار مرحوم بہ نگاہ غور ایک ایک کے ہنر کو ملاحظہ فرما رہے تھے۔ ایک سرکش گھوڑا اپنے چابک سوار کو بہت تنگ کر رہا تھا۔ چابک سوار اپنے فن میں ایسا ماہر تھا کہ میخ کی طرح اس کی پیٹھ پر جما بیٹھا تھا۔

یکایک سرکار مرحوم داغ کی طرف متوجہ ہوئے، فرمایا۔ ”کیوں داغ! تم بھی کبھی گھوڑے پر بیٹھے ہو؟“

انھوں نے ہاتھ باندھ کر عرض کیا کہ ”جوانی میں خانہ زاد بیٹھا ضرور ہے، مگر اس کو مدتیں گزریں، زمانہ ہوگیا۔“

ارشاد ہوا۔ ”اچھا آج ہمیں اپنی شہ سواری دکھاﺅ۔“

داغ نے عرض کیا، ”بہت خوب“ سرکار کے اشارے پر وہی بدلگام سرکش گھوڑا حاضر کیا گیا، بے چارے داغ صاحب ﷲ کا نام لے کر سوار ہوئے۔ ادھر انھوں نے باگ ہاتھ میں لی، اُدھر سرکار کے اشارے پر چابک سوار نے گھوڑے کو چابک رسید کی۔ چشمِ زدن میں داغ صاحب زمین پر قلابازیاں کھا رہے تھے اور گھوڑا تھا کہ آندھی کی طرح جنگل کی طرف بھاگا جا رہا تھا۔

پہلے داغ صاحب اٹھائے گئے، پھر سولہ چابک سوار اپنے گھوڑوں پر اس کے تعاقب میں جنگل کی طرف بھاگے، داغ صاحب کے چوٹ نہ آئی تھی، گرد جھاڑ کر سرکار مرحوم کے سامنے حاضر ہوئے، سرکار کا ہنسی کے مارے بُرا حال تھا۔ جب خوب جی بھر کے ہنس چکے تو فرمایا۔

”تم بہت اچھا سوار ہوئے، میں تمہیں چابک سواروں کا افسر مقرر کروں گا۔“ داغ صاحب آداب بجا لائے۔

پوچھا، ”ہماری ریاست میں کتنے دن سے ہو؟“

انھوں نے عرض کیا۔ ”دس سال سے۔“

سرکار نے مہاراجا بہادر (مہا راجا سرکشن پرشاد) کی طرف دیکھا۔ انھوں نے ہاتھ باندھ کر سَر جھکایا۔

ارشاد ہوا، ”ہم نے داغ کو ایک ہزار ماہانہ پر شاعرِ دربار مقرر کیا۔ ان کی دس برس کی تنخواہ ایک ہزار روپے ماہانہ کے حساب سے ابھی ابھی ان کو دے دو۔“ یہ حکم دے کر اپنے خیمے میں تشریف لے گئے۔

دوسرے دن بارہ بجے سارے شہر نے دیکھا کہ بنڈیوں (چھکڑوں) پر داغ صاحب کی دس سال کی تنخواہ لدی ہوئی پولیس کے دستے کی حفاظت میں داغ کے گھر جارہی ہے۔”

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں