The news is by your side.

Advertisement

‘والد نے دنیا بدل دی’، فلائیڈ کی بیٹی نے مظاہرین کو آبدیدہ کر دیا

واشنگٹن: نسلی تعصب کی بھینٹ چڑھنے والے مقتول سیاہ فام جارج فلائیڈ کی چھ سالہ بچی نے معصوم جوابوں سے لوگوں کے دل ہلا دیے۔

والد کا سایہ اٹھے کئی روز گزرنے کے باوجود بیٹی گیانا تاحال سانحہ کی حقیقت سے ناواقف ہے اور والد کے واپس گھر لوٹنے کی منتظر ہے۔

بدھ کے روز گیانا اپنی والدہ روزین واشنگٹن کے ہمراہ ‘گڈمارننگ امریکا’ پروگرام میں شریک ہوئیں تو اپنے والد کے ساتھ گزرے وقت کو یاد کرنے لگی۔

چمکتی آنکھوں اور مسکراتے چہرے کے ساتھ سوالوں کا جواب دیتے ہوئے گیانا نے کہا کہ میں اپنے بابا کو بہت یاد کررہی ہوں وہ میرے ساتھ بہت کھیلتے تھے۔

آنکھوں میں مستقبل کے خواب سجائے بچی نے بتایا کہ وہ بڑی ہو کر ڈاکٹر بننا چاہتی ہیں اور لوگوں کا خیال رکھنا چاہتی ہیں۔

گیانا کی ایک سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو بھی وائرل ہوئی ہے جس میں وہ اپنے انکل کے کندھوں پر بیٹھ کر والد کے قتل کے خلاف ہونے والے مظاہرے کو دیکھ رہی ہیں اور کہہ رہی ہیں کہ ‘بابا نے دنیا کو تبدیل کردیا’

والدہ روزین واشنگٹن کا کہنا ہے کہ انہوں نے ابھی جارج فلائیڈ کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کی پوری تفصیل سے آگاہ نہیں کیا، البتہ اسے والد کے مرنے کا بتایا ہے کہ وہ سانس نہ آنے کی وجہ سے چل بسے۔

روزین کا کہنا ہے کہ انہوں نے اب تک سفید فام پولیس اہلکار کے جارج فلائیڈ کی گردن پر رکھے گھٹنے کی ویڈیو کے کچھ ہی حصے دیکھے ہیں جنہیں دیکھ کر وہ چاہتی تھیں کہ شوہر کی مدد کر سکوں۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں