The news is by your side.

Advertisement

داعش نے 40 افراد کو قتل کرکے لاشیں کھمبوں سے لٹکا دیں، اقوام متحدہ

نیو یارک : اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ داعش نے چالیس عام شہریوں کو غداری کے الزام میں قتل کرکے ان کی لاشوں کو کھمبوں سے لٹکا دیا جبکہ موبائل فون کے استعمال پر لگائی جانے والی پابندی کو نظر انداز کرنے پر ایک اور شخص کو بھی موت کے گھاٹ اتار دیا۔

تفصیلات کے مطابق اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ عراق کے شمالی شہر موصل میں خود کو دولت اسلامیہ کہلانے والی شدت پسند تنظیم نے 40 عام شہریوں کو غداری کے الزام میں گولیاں مار کر ہلاک کر دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے کمشنر کے دفتر کا کہنا ہے کہ بعد میں ہلاک کیے جانے والے افراد کی لاشوں کو کئی علاقوں میں بجلی کے کھمبوں پر لٹکا دیا گیا۔اطلاعات کے مطابق مرکزی موصل میں دولت اسلامیہ کی جانب سے موبائل فون کے استعمال پر لگائی جانے والی پابندی کو نظر انداز کرنے پر ایک اور شخص کو بھی گولی مار دی گئی ہے۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ ان افراد کو خود ساختہ ’عدالتوں‘ کے حکم پر مارا گیا ہے۔ جن 40 افراد کو ہلاک کیا گیا ہے ان پر آئی ایس ایف یعنی عراقی سکیورٹی فورسز کا ’ساتھ دینے اور غداری‘ کا الزام تھا اور انھیں نارنجی کپڑے پہنائے گئے تھے جس پر یہ الفاظ درج تھے : ’غدار اور آئی ایس ایف کے ایجنٹ‘۔

اقوام متحدہ نے یہ بھی بتایا ہے کہ بدھ کی شام شمالی موصل میں غبت فوجی اڈے پر بھی 20 افراد کو ہلاک کیا گیا تھا جن پر ممکنہ طور پر معلومات مہیا کرنے کا الزام تھا۔

اقوام متحدہ نے اس کے علاوہ دولت اسلامیہ میں نوجوانوں کی بھرتی پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ بدھ کو دولت اسلامیہ کی جانب سے جاری ہونے والی ویڈیو میں بچوں کو دیکھا جا سکتا ہے کہ جاسوسی کرنے والے چار افراد کو گولیاں مار کر ہلاک کر رہے ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں