The news is by your side.

Advertisement

نواب حسن علی خاں امیرؔ کو منانے کے لیے لکھا گیا ایک خط

اردو ادب میں مکتوب نگاری کو ایک موضوع کے طور پر خاص اہمیت دی گئی ہے اور اپنے زمانے کے مشاہیر اور نابغہ روزگار شخصیات کے درمیان رابطے کی اس تحریری شکل کو باقاعدہ موضوع بنایا گیا ہے۔ اردو کے عظیم شاعر مرزا غالب کے خطوط کو سرفہرست رکھتے ہوئے ان کی زبان، روز مرّہ کے الفاظ کا بے تکلّف استعمال اور مکتوب نگاری کی دیگر خصوصیات پر بہت کچھ لکھا گیا ہے۔ اسی طرح اردو کے استاد شاعر مرزا داغ دہلوی کے خطوط بھی مشہور ہیں۔

داغ کے خطوط میں بھی ان کی زندگی سے متعلق بے شمار واقعات، حادثات، خواہشات، مختلف درباروں سے ان کی وابستگی، ان کے معاشقوں کا تذکرہ، عزیز شاگردوں کا احوال، اردو زبان و بیان اور شاعری کے بارے میں‌ کئی باتیں‌ پڑھنے اور سیکھنے کو ملتی ہیں۔ یہاں‌ ہم ان کے ایک ایسے ہی خط کو موضوع بنارہے ہیں‌ جس میں‌ انھوں نے اپنے ایک رفیق سے پیدا ہونے والی کسی رنجش یا غلط فہمی کو دور کرنے کی کوشش کی ہے۔

نواب حسن علی خاں امیرؔ، حیدر آباد (دکن) کے شرفا میں شمار ہوتے ہیں اور جب داغ ؔ حیدر آباد پہنچے تو امیر بڑے عیش و عشرت کی زندگی بسر کر رہے تھے۔ کہنے کو داغ کے شاگرد تھے، لیکن شاگردی سے زیادہ دوستی و محبّت کا رشتہ رہا۔

آخری وقت تک خانگی معاملات میں بھی خاندان کے ایک فرد کی حیثیت سے داغ کے ساتھ رہے۔ 1902ء کے شروع میں کسی وجہ سے امیر ؔ نے داغ سے ناراض ہوکر ان کے یہاں آنا جانا بند کردیا تو دیکھیں کہ داغ ؔ نے کن الفاظ میں انھیں مدعو کیا۔

نواب صاحب!
صاحب عالم بہادر کہتے ہیں کہ کل صبح پتنگوں کے پیچ ہیں۔ بغیر نواب صاحب کی تشریف آوری کے کچھ نہیں ہو سکتا۔ مجھ کو خبر نہیں تھی کہ پیچ تو وہاں لڑیں گے اور دلوں میں پیچ مجھ سے پڑیں گے، مردِ خدا! یہ کیا بات ہے آپ نے یک لخت ملاقات کم کر کے کیوں ترک کردی۔

میں نے کوئی بات بغیر آپ کے مشورے کے نہیں کی، مصلحتِ وقت نہیں چھوڑی جاتی، آپ کو حسبِ معمول روز آنا چاہیے۔ ماحضر یہیں تناول فرمانا چاہیے اور اگر یہاں کھانا کھانا گوارا نہیں تو بہتر ہے نہ کھائیے۔ مجھ کو بھی نہ کھلائیے، آئیے، آئیے تشریف لائیے۔

داغ 25، جنوری 1902ء (شب)

اس کے باوجود نواب امیر کے نہ آنے پر اپنے ذاتی رشتے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دوسرے ہی خط میں لکھتے ہیں۔

نواب صاحب آپ تو بیٹھے بٹھائے کلیجے میں نشتر چبھو دیتے ہیں۔ یہ فقرہ کیوں کر دل دوز اور جگر فگار نہ ہو کہ اب مجھے روز کی حاضری سے معاف فرمایا جائے۔ مجھ سے جو کچھ ہوا دانستہ نہیں ہوا۔ حجاب (داغ دہلوی کی ایک محبوبہ) جیسی ہزار ہوں تو تمہارے خلوص، تمہاری محبّت پر نثار۔ تم سے کیا پردہ ہے، اور تم سے کیا چھپا ہے۔

(ڈاکٹر محمد کاظم، دہلی کے ایک مضمون سے خوشہ چینی)

Comments

یہ بھی پڑھیں