حکومت نے ایکشن نہ لیا تو بدھا روہنگیا مسلمانوں کی مدد کریں گے، دلائی لامہ dalai lama
The news is by your side.

Advertisement

میانمار حکومت نے ایکشن نہ لیا تو بدھا روہنگیا مسلمانوں کی مدد کریں گے، دلائی لامہ

نئی دہلی : چین کے مذہبی رہنما دلائی لامہ نے سان سو کے کو روہنگیا مسلمانوں کے خلاف جبر اور تشدد کو ختم کرنے کی نصیحت کرتے ہوئے برمی حکومت کو راخائن میں جاری فسادات کا پُرامن حل ڈھونڈنے کی تجویز دی ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ایجنسی میں چھپنے والے اپنے ایک آرٹیکل میں چینی بدھ مت کے چودہویں دلائی لامہ نے میانمار میں جاری تشدد کے باعث ہجرت پر مجبور 3 لاکھ سے زائد رہنگیا مسلمانوں کی حالت زار پر دکھ کا اظہار کیا.

دلائی لامہ برمی حکومت کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ سماجیات کے زریں اصولوں کو اپناتے ہوئے شناخت سے محروم روہنگیا مسلمانوں کے تنازعے کو پُرامن اور غیرجانبداری سے حل کیا جائے یہ ایک افسوسناک انسانی المیہ ہے۔

انہوں نے برمی حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ نے بدھ مت کے آفاقی پیغام کو نظر انداز کرتے ہوئے اقلیتوں کے حقوق کا پاس نہ رکھا اور روہنگیا مسلمانوں پر جبر و تشدد جاری رکھا تو یقینی طور بدھا خود روہنگیا مسلمانوں کی مدد کریں گے.

انہوں نے کہا کہ جو بدھسٹ روہنگیا مسلمانوں پر ظلم کرنے کے مرتکب ہورہے ہیں انہیں بدھا کو یاد کرنا چاہیے جن کی تعلیمات امن اور سلامتی کے سوا کچھ نہیں اور جو حقیر سے جانور پر بھی تشدد کے خلاف تھے۔

دلائی لامہ نے مزید کہا کہ کیوں کہ ایسی سرزمین پر جہاں بدھا کے ماننے والوں کی تعداد زیادہ ہو اور بدھا کے پیروکاروں کی حکومت بھی ہو وہاں ایسی نا انصافی ہونا نہایت افسوسناک ہے۔

بدھوں کے مذہبی پیشوا کا کہنا تھا کہ بدھا کے ماننے والے ملک میں کسی اقلیت کے ساتھ انسانیت سوز سلوک خود اس ملک کے اخلاقی اور مذہبی حالت زار کو بیان کرنے کے لیے کافی ہے.

انہوں نے کہا کہ ان تما حقائق کی بنیاد پر میں اپیل کرتا ہوں کہ ملک میں موجود دیگر اقلیتوں کے ساتھ برادرانہ سلوک کیا جائے، انہیں بنیادی انسانی حقوق سے محروم نہ رکھا جائے اور مفاہمت کو دوام کو بخشا جائے۔

دلائی لامہ نے مزید کہا کہ لاکھوں کی تعداد میں رونگیا مسلمان بنگلہ دیش پناہ لینے کے لیے پہنچے ہیں یہ انسانی المیہ ہے اور نہایت دکھ بھری داستان ہے اور بدھا کے پیروکار حکومت کے لیے سوچنے کا مقام ہے۔

دلائی لامہ کون ہیں ؟

تبت میں رہنے والے بدھ مت کے پیروکاروں کے روحانی شخصیت کو دلائی لاما کہا جاتا ہے اور موجودہ دلائی لاما ان کے چودہویں دلائی لاما ہیں جن کا نام  تنزن گیاتسو یا تنزن گستاؤ ہے جو 6 جولائی 1935 کو تبت کے چھوٹے سے گاؤں میں پیدا ہوئے اور دو سال کی عمر میں دلائی لاما کا رتبہ پایا وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہے اور اس وقت بھارت میں مقیم ہیں

تبت میں رہائش پذیر بدھ مت کے پیروکاروں کی اس شاخ کا خیال ہے کہ دلائی لامہ کی وفات کے تقریباً ڈیڑھ مہینہ بعد اس کی روح ایک نوزائیدہ بچے میں منتقل ہو جاتی ہے جس کی کا اشارہ دلائی لامہ اپنی موت سے قبل کر جاتے ہیں۔

چنانچہ ان ہدایات کے پیش نظر بدھ مت کے پیروکار پہلے سے نشاندہی کیے گئے خاندان کے نوزائیدہ بچے کو دلائی لامہ کی مسند اقتدار پر بٹھا دیتے ہیں، اس طریق کا آغاز  سب سے پہلے منگول بادشاہ التان خان نے کیا اور بعد ازاں منگولوں نے پانچویں دلائی لامہ گوانگ لوپ سانگ گیاتسو کو تبت کے روحانی اور سیاسی رہنماء کے مرتبے پر فائز کیا۔

یہ سلسلہ چلتے چلتے موجودہ چودہویں دلائی لامہ( تیزین گیاتسو) تک آن پہنچا ہے جو اس وقت بدھ ازم کی شاخ تبتی بدھ مت کے چودھویں دلائی لامہ ہیں اور تا حال موجودہ تبت کے سربراہ اور بدھ مت کے پیروکاروں کے موجودہ روحانی پیشوا ہیں۔

موجودہ دلائی لامہ 1950 کے بعد بھارت منتقل ہوگئے تھے ان کا موقف تھا کہ تبت ایک علیحدہ ریاست ہے جس پر چین نے قبضہ کیا ہوا ہے چنانچہ انہوں نے بھارت ہی میں اپنی ایم عارضی ریاست کا مرکزی دفتر بنا رکھا ہے جہاں سے وہ تبت اور دنیا بھر میں موجود اپنے پیروکاروں کی رہنمائی کرتے ہیں۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں