The news is by your side.

Advertisement

بھارت: قانونی جنگ لڑنے کے بعد دلت دلہا گھوڑے پر سوار ہوکر دلہنیا لے آیا

نئی دہلی: اترپردیش کے رہائشی دلت دلہا کو گھوڑے پر بارات لے جانے کے لیے قانونی جنگ لڑنا پڑی، بالآخر دلت دلہا گھوڑے پر سوار ہوکر دلہنیا لے آیا۔

تفصیلات کے مطابق نام نہاد سیکولر بھارت کا مکروہ چہرہ ایک بار پھر دنیا کے سامنے آگیا، اترپردیش کے علاقے کازگنج میں دلت دلہا سنجے جاتیو کو گھوڑے پر سوار ہوکر بارات نکالنے کے لیے طویل قانونی جنگ لڑنا پڑی، عدالت سے اجازت ملنے کے بعد بالآخر دلہا گھوڑے پر سوار ہوکر دلہنیا لے آیا۔

سنجے جاتیو کو انتہا پسند ہندو انتظامیہ نے گھوڑے پر سوار ہوکر بارات لے کر جانے کی اجازت دینے سے صاف انکار کرتے ہوئے دھمکیاں بھی دیں تاہم دلت دلہا نے ہار نہیں مانی اور عدالت سے رجوع کیا، عدالت نے سنجے جاتیو کے حق میں فیصلہ سنادیا۔

سنجے گھوڑے پر سوار بارات لے کر قریبی گاؤں دلہن کو لینے گئے، عدالتی حکم پر بارات کی حفاظت 150 پولیس اہلکاروں نے کی، جن میں 10 پولیس انسپکٹرز، 22 سب انسپکٹرز، 35 ہیڈ کانسٹیبلز، 100 کانسٹیبلز شامل تھے۔

ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کازگنج آر پی سنگھ کا کہنا تھا کہ اگر کوئی شخص بارات لے جانے میں رکاوٹ پیدا کرے گا تو پولیس کارروائی کرے گی، پولیس کو بارات میں مہمان کے طور پر بھیجا جارہا ہے۔

بارات میں شریک ایک خاتون شیتل کماری سے جب یہ پوچھا گیا کہ گھوڑے پر بارات لے جانے کے لیے اتنا خطرہ کیوں مول لیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ہمیں ہمارا منصفانہ حق چاہئے تھا، بھارت ایک آزاد ملک ہے اور یہاں کا قانون سب کو برابر کے حقوق دیتا ہے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات  کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں