کراچی (28 جنوری 2026): سندھ بھر کے کالجوں کے انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچانے والے ٹھیکیداروں اور انجینئرز کے خلاف کارروائی کا اعلان کر دیا گیا۔
سیکریٹری کالج ایجوکیشن ندیم الرحمان میمن کی زیرِ صدارت اجلاس ہوا جس میں انہوں نے کہا کہ ناقص تعمیرات اور غیر معیاری مٹیریل سے انسانی جانوں کو خطرے میں ڈالنے والوں کو نہیں بخشیں گے، ذمہ دار ٹھیکیداروں اور افسران کو بلیک لسٹ کیا جائے گا، انکوائری اور سزا ہوگی۔
اجلاس میں طویل عرصے سے غیر حاضر افسران اور اساتذہ کے خلاف بھی فوری قانونی کارروائی کا حکم دیا گیا۔ اجلاس میں بریفنگ دی گئی کہ 36 خواتین اور 44 مرد اساتذہ و ملازمین طویل عرصے سے غیر حاضر ہیں، غیر حاضر افسران کے کیسز چیف سیکریٹری کو ارسال اور اخبارات میں اشتہار دے کر کارروائی ہوگی۔
اجلاس میں مانیٹرنگ اینڈ انسپیکشن ونگ کو ضم کر کے خود مختار مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن ڈائریکٹوریٹ قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا، کالجوں میں اساتذہ و طلبہ کی حاضری، انفراسٹرکچر اور تعلیمی معیار کی سخت نگرانی ہوگی۔
ندیم میمن نے کالجز انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ یونٹ کے قیام کیلیے جامع کانسیپٹ پیپر تیار کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ تمام ترقیاتی اسکیموں پر عملدرآمد کنسلٹنٹ فرمز کے ذریعے کیا جائے گا۔
اجلاس میں نیشنل اور انٹرنیشنل ٹینڈرنگ کے تحت کنسلٹنٹس کی تعیناتی کا فیصلہ کیا گیا جبکہ کالجوں میں پرنسپلز کی بروقت تعیناتی اور کیریئر کاؤنسلنگ پروگرام شروع کرنے کا اعلان بھی کیا گیا۔
طلبہ کی رہنمائی کیلیے ماہرین تعلیم، بیوروکریٹس اور پروفیشنلز کی خدمات حاصل کی جائیں گی۔ آؤٹ آف اسکول بچوں کیلیے ایچ ون ٹیچ ون حکمت عملی پر عملدرآمد کا فیصلہ کیا گیا۔
اجلاس میں طے ہوا کہ محکمہ کالج ایجوکیشن میں پالیسی پر عملدرآمد میں کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ سیکریٹری ندیم میمن نے کہا کہ مانیٹرنگ نظام مؤثر بنا کر صوبے میں تعلیمی معیار بہتر کیا جائے گا، کالجوں میں موبائل فون کے غیر ضروری استعمال پر پابندی کیلیے نوٹیفکیشن جاری ہوگا، تمام افسران اپنی ذمہ داریاں پوری کریں ورنہ بلا امتیاز کارروائی کی جائے گی۔
انور خان اے آر وائی نیوز کراچی کے لیے صحت، تعلیم اور شہری مسائل پر مبنی خبریں دیتے ہیں


