The news is by your side.

Advertisement

فیکٹ چیک، کیا ماسک لگانے سے انسان کی موت واقع ہوسکتی ہے؟

سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر ان دنوں چند تصاویر وائرل ہورہی ہیں جن میں بتانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ کرونا سے بچاؤ کے لیے ماسک لگانا انسانی صحت کے لیے خطرناک ہے۔

پوسٹ میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ زیادہ دیر تک ماسک لگانے کی وجہ سے انسان کو سانس کی تکلیف ہوتی ہے جس کی وجہ سے اُن کا دماغ اور خون کی روانی متاثر ہوتی ہے اور پھر اُن کے مرنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

فیس بک پر وائرل ہونے والی ویڈیو کی حقیقت کیا ہے؟

طبی ماہرین کے مطابق کرونا سے بچاؤ کے لیے مخصوص فیس ماسک لگانے کی وجہ سے سانس لینے میں معمولی سی دشواری کا سامنا ہوسکتا ہے کیونکہ منہ ڈھانپنے کی وجہ سے آکسیجن بھرپور طریقے سے اندر نہیں جاتی، یہ مسئلہ سیکڑوں میں سے گنتی کے لوگوں کے ساتھ ضرور پیش آسکتا ہے۔

یاد رہے کہ کرونا کی عالمگیر وبا نے اب تک دنیا کے ساڑھے چار لاکھ سے زائد انسانوں کی قیمتی جانوں کو نگل لیا ہے۔ ڈبلیو ایچ او اور امریکا سمیت دنیا کے ماہرین نے کرونا سے محفوظ رہنے کے لیے شہریوں کو فیس ماسک لازمی استعمال کرنے کا مشورہ بھی دیاہے۔

امریکا کے سینٹر فار ڈیزز کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ سماجی فاصلے کو برقرار رکھنا ہر کسی کے اختیار میں نہیں مگر وہ فیس ماسک پہن کر خود کو کرونا سے محفوظ رکھ سکتا ہے۔

مزید پڑھیں: کیا پاکستان میں‌ مرغیاں کرونا وائرس سے متاثر ہورہی ہیں؟

انٹرنیٹ پر وائرل ہونے والی پوسٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ سرجیکل ماسک زیادہ دیر تک لگانے یا لمبے عرصے تک استعمال کرنے کی وجہ سے انسان کے جسم میں آکسیجن کی کمی ہوتی ہے جو اُن کے خون اور دماغ کو متاثر کرتی ہے۔

یونیورسٹی آف مچیگن ہیلتھ سسٹم کے پروفیسر ہیلی پریسکوٹ کا کہنا تھا کہ  چہرے پر سرجیکل یا کپڑے کا ماسک یا این 95 لگانے کی وجہ سے آکسیجن اور کاربن ڈائی آکسائید کی کمی ضرور ہوسکتی ہے مگر اس سے ایسا کوئی نقصان نہیں کہ خون کی روانی متاثر ہو یا پھر انسان کی موت واقع ہوجائے۔

امریکا کے ماہرین نے عام عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ غیر ضروری طور پر این 95 ماسک کا استعمال نہ کریں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں