The news is by your side.

Advertisement

ستّر کی دہائی میں‌ بھی لیاری کی ایک گلی میں ایسا ہی شور سنا تھا!

تحریر: شہناز احد

یہ ستر کی دہائی کے آخری برسوں کی، شاید 78 یا 79 کی بات ہے۔ رمضان کا مہینہ اور گرمیوں کا موسم تھا۔ سحری کا وقت تمام ہو چکا تھا۔

لیاری کی مساجد سے فجر کی اذان سنائی ہی دی تھی کہ ایک زور دار دھماکا ہوا۔ فضا گرد و غبار سے اٹ گئی اور ہر طرف شور سنائی دینے لگا۔ قریبی گھروں اور عمارتوں کے لوگوں کی چیخ و پکار زور پکڑتی گئی اور لوگ معاملے کی سنگینی کو بھانپ کر اُس سمت دوڑے جہاں سے گرد و غبار اٹھتا دکھائی دے رہا تھا۔ تھوڑی دیر میں گلیاں بھر گئیں اور آہ و بکا شروع ہو گئی۔ ایک عمارت زمیں‌ بوس ہوگئی تھی۔

یہ حادثہ لیاری کی مسان روڈ کے اطراف میں کسی گلی میں پیش آیا تھا۔

جائے حادثہ پر مقامی لوگ جمع تھے، وہ مدد کرنا چاہتے تھے، بھاگ دوڑ بھی کر رہے تھے۔ وہ بہت کچھ کرنا چاہتے تھے، لیکن بے بس تھے۔ بھاری ملبا، بجلی کے تار ٹوٹ جانے کے باعث گلیوں میں اندھیرا تھا اور ہر طرف خوف چھایا ہوا تھا۔ ملبے میں دبے ہوئے لوگوں کی آہ و بکا سنائی دیتی تو لوگ بے اختیار زندگی کی تلاش میں‌ نظریں دوڑاتے، آواز کی سمت کا تعین کرنے کی کوشش کرتے، لیکن کسی کی سمجھ میں یہ نہیں آرہا تھا کہ کیسے مدد کریں اور کیا کریں؟

اس وقت اس شہر میں دو ہی رفاہی تنظیمیں تھیں جو ایسے مواقع پر آگے بڑھ کر کام کرتی تھیں۔

دن کی روشنی پھیلی تو خبر بانٹوا میمن جماعت اور ایدھی کے دفتر تک بھی پہنچ گئی۔ اس زمانے میں ٹیلی فون عام نہ تھا۔ زیادہ تر خبریں سینہ بہ سینہ، شام کے اخبار یا رات کے خبر نامے سے عوام تک پہنچتی تھیں۔

یہ بڑی اور ایک بری خبر تھی کہ جیتے جاگتے انسانوں سے بھری ایک چار منزلہ عمارت نہ صرف یہ کہ بیٹھ گئی تھی، بلکہ آدھا دن گزر جانے کے باوجود وہاں امدادی کارروائیاں شروع نہ ہوسکی تھیں۔

اس علاقے کی گلیاں اتنی تنگ تھیں کہ امدادی کارروائی کے لیے کوئی بڑی گاڑی ان میں داخل نہیں ہوسکتی تھی۔

صبح سے شام ہوگئی تھی۔ عمارت کے ملبے میں دبے انسانوں کی آوازیں دھیمی پڑتی جارہی تھیں۔ دن کے ساتھ ساتھ دَم نکلتا جا رہا تھا۔

اپنی مدد آپ کے تحت علاقہ مکینوں نے اپنے ہاتھوں سے تھوڑا بہت ملبا اٹھایا اور زندگی کو ڈھونڈنے کی کوشش کرتے رہے۔

رات کا اندھیرا پھیلنے لگا تو پاکستان آرمی نے اس علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور جوانوں نے ملبا ہٹانا شروع کر دیا۔

بجلی بند تھی اور لالٹینوں اور گیس کی لائٹوں کے سہارے رات بھر کام جاری رہا اور صبح ہوگئی۔

اب شہر میں خبر پھیل چکی تھی اور جائے حادثہ پر تماش بینوں کی آمدورفت بھی شروع ہوچکی تھی۔ قانون کے رکھوالے ان سے بھی نبرد آزما تھے۔

وہ گلیاں اتنی تنگ تھیں کہ ملبا ہٹا کر وہیں ایک طرف نہیں‌ رکھا جاسکتا تھا، کیوں کہ اس سے راستہ بند ہوجاتا اور امدادی کارروائیوں میں مزید مشکل پیش آتی۔ اس لیے ملبے کو ٹرالیوں میں‌ ڈال کر دور کھڑے ٹرکوں میں بھرا جارہا تھا۔

اگر مجھے صحیح یاد ہے تو شاید دو دن کے بعد ملبے تلے دبا کوئی فرد نظر آیا تھا۔

ایک ہفتہ زندگی کی امید میں مردہ جسم ملبے سے نکالے جاتے رہے اور ملبا صاف کرنے میں ہفتوں لگے۔

اس حادثے کے بعد اپنی ذمہ داریوں اور فرائض سے غفلت اور کوتاہی برتنے والوں کو سدھر جانا چاہیے تھا، اس میں ہم سب کے لیے بہت سارے سبق تھے۔

اب چالیس سال بعد پھر ایک بلڈنگ گری تو وہ حادثہ یاد آگیا۔ اخباری نمائندے اپنی رپورٹوں میں‌ حادثے کی وجہ اور حقائق بیان کرنے کے ساتھ ساتھ متعلقہ اداروں کو ایک اہم اور سنگین مسئلے کی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کرتے رہے۔

آج اسی لیاری میں لگ بھگ وہی منظر دیکھ رہی ہوں۔ آج بھی ملبے تلے انسان اسی طرح دبے ہوئے ہیں جب کہ اس شہر کا ایک منتظم موجود ہے، ادارے ہیں، جمہوری دور میں صوبے کا چیف منسٹر اور شہر کو میئر بھی میسر ہے، بلدیہ اور بلدیاتی نمائندے بھی ہیں، صوبائی اسمبلی میں عوامی نمائندے بھی ہیں۔ عدالتیں بھی اپنا کام کررہی ہیں اور….

لیاری کے درد میں ڈوبی پیپلز پارٹی ہی صوبے کی حکم راں جماعت ہے۔

کے ڈی اے نامی ادارہ بھی سانسیں لے رہا ہے۔ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کا ہاتھی بھی یہاں جھومتا ہوا دیکھا جاسکتا ہے، لیکن اس شہر کا کوئی پرسان حال نہیں۔

ہر ادارہ “کرونا” ہے، لاعلاج اور اپنوں ہی کے لیے مہلک ثابت ہورہا ہے۔

 


(بلاگر صحافتی، سماجی تنظیموں کی رکن، کڈنی فاؤنڈیشن آف پاکستان کی عہدے دار ہیں۔ مختلف معاشرتی مسائل اور صحتِ عامہ سے متعلق موضوعات پر لکھتی ہیں)

Comments

یہ بھی پڑھیں