کام کرو یا نہ کرو وہ طلب کرلیتے ہیں، دانیال عزیز کی عدلیہ پر تنقید daniyal aziz
The news is by your side.

Advertisement

کام کرو یا نہ کرو وہ طلب کرلیتے ہیں، دانیال عزیز کی عدلیہ پر تنقید

اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے نجکاری اور مسلم لیگ ن کے رہنماء دانیال عزیز نے عدلیہ کا نام لیے بغیر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسپیکر صاحب کچھ بولوں تو وہ بلا لیتے ہیں، کام کرو یا نہ کرو بس وہ طلب کرتے ہیں، پاکستان کو یومیہ 15 کروڑ روپے کے نقصان کا سامنا ہے اس لیے نجکاری کا فیصلہ سب نے مل کر کیا۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کیا، دانیال عزیز کا کہنا تھا کہ ’اسپیکر صاحب آپ کو تو معلوم ہے نہ کچھ بولو تو وہ طلب کرلیتے ہیں، کام کرو تو بھی اور نہ کرو تو بھی وہ بلا لیتے ہیں جیسے مجھ غریب کو انہوں نے طلب کیا ہوا ہے۔

توجہ دلاؤ نوٹس پر اظہار خیال کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے نجکاری کا کہنا تھا کہ پاکستان کو 15 کروڑ یومیہ نقصان کا سامنا ہے، ائیرٹرانسپورٹ کا سسٹم صرف علیحدہ کیا جارہا ہے جس کے تحت وفاقی حکومت اپنے پاس 51 فیصد حصص رکھے گی، تمام لوگوں نے نجکاری کے حوالے سے قانون بنایا اب بھی اگر کسی کو اعتراض ہے تو وہ آئے اور ساری چیزیں دیکھ لے۔

مزید پڑھیں: پی آئی اے کی نجکاری رواں سال جون تک مکمل کرلی جائے گی

اُن کا کہنا تھا کہ پی آئی اے کے صرف ائیرٹرانسپورٹ بزنس کی نجکاری کی جارہی ہے باقی تمام ادارے جوں کے توں کام کرتے رہیں گے، تاثر دیا جارہا ہے کہ حکومت کا آخری سال ہے اس لیے نجکاری کی جارہی ہے مگر ایسا نہیں ہماری سیاست کا منشور عوامی خدمت ہے جسے آخری روز تک جاری رکھیں گے۔

دانیال عزیز کا کہنا تھا کہ قومی ایئرلائن کو یومیہ 15 کروڑ روپے کے نقصان کا سامنا ہے اسی باعث نجکاری کا فیصلہ اپوزیشن اراکین کی مشاورت کے بعد کیا گیا تھا، پی آئی اے کی نجکاری کے بعد انتظامی کنٹرول حکومت کے پاس رہے گا۔

یہ بھی پڑھیں: سول ایوی ایشن اتھارٹی کی جزوی نجکاری کے عمل کا آغاز

واضح رہے کہ حکومت نے پی آئی اے کی نجکاری کا فیصلہ کررکھا ہے جس پر اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت پیپلزپارٹی نے شدید احتجاج کرتے ہوئے فیصلے کی مخالفت کی اور ہر سطح پر آواز اٹھانے کا بھی اعلان کیا ہے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں