The news is by your side.

Advertisement

دارالصحت اسپتال کی غفلت کا معاملہ، اسپتال عملے کے 3 ارکان زیر حراست

کراچی: دارالصحت اسپتال میں غفلت کے سبب مفلوج ہونے والی 9 ماہ کی بچی نشوا کے معاملے پر پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے اسپتال عملے کے تین ارکان کو حراست میں لے لیا۔

تفصیلات کے مطابق دارالصحت اسپتال میں عملے کی غفلت سے 9 ماہ کی بچی نشوا کے مفلوج ہونے کے معاملے پر شارع فیصل پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے خاتون سمیت اسپتال عملے کے 3 ارکان کو حراست میں لے لیا۔

شارع فیصل پولیس نے دارالصحت اسپتال کے عملے سے پوچھ گچھ کی، زیر حراست عملے میں سینئر منیجر قادر، نرس ثوبیہ اور میل نرس شاہ زیب شامل ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل ایس پی گلشن اقبال طاہر نورانی نے متاثرہ بچی کے والد کو دھمکیاں دیتے ہوئے کہا تھا کہ مقدمہ درج کرانے سے کچھ بھی نہیں ہوگا۔

ایس پی طاہر نورانی کہہ رہے تھے کہ آپ کو بتا رہا ہوں آخر میں نقصان آپ کا ہی ہوگا، وہ بار بار نشوا کے والد کو ڈرانے کی کوشش کرتے رہے، مقدمے کے بعد ہم زیادہ سے زیادہ سوالات کریں گے اور کچھ نہیں ہوگا۔

مزید پڑھیں: دارالصحت اسپتال کیس: بچی کے والد کوپولیس کی دھمکیاں

کراچی پولیس چیف ڈاکٹر امیر شیخ نے ایس پی گلشن اقبال طاہر نورانی کی مبینہ دھمکیوں کا نوٹس لیتے ہوئے ان کو انکوائری تک کام کرنے سے روک دیا ہے۔

یاد رہے کہ یہ واقعہ گزشتہ روز سامنے آیا تھا،نشوا نامی بچی جس کی عمر 9 ماہ ہے ، اس کے والد قیصر کا کہنا تھا کہ اسپتال نے تصدیق کی کہ بچی کو غلط انجکشن کی وجہ سے اس کی طبیعت بگڑ گئی۔ نشوا ایک ہفتے تک وینٹی لیٹرپراسپتال میں ہی ایڈمٹ رہی اور گزشتہ رات جب وینٹی لیٹر ہٹایا گیا تو بچی پیرالائز ہوچکی تھی۔

اسپتال انتظامیہ کی جانب سے نشوا کے اہل خانہ کو تحریری طور پر یقین دہانی کرا دی گئی تھی ، انتظامیہ کا کہنا تھا کہ بچی کے اہل خانہ جہاں بھی علاج کرانا چاہیں اخراجات دارالصحت اسپتال اٹھائے گا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں