The news is by your side.

Advertisement

انسانی اسمگلنگ: گاڑی کے ڈیش بورڈ سے نوجوان برآمد

میڈرڈ : ہسپانوی پولیس نے براعظم افریقہ سے یورپ انسانی اسمگلنگ کی کوشش ناکام بناتے ہوئے مراکش اور اسپین کی سرحد پر ایک گاڑی کے ڈیش بورڈ میں 17 سالہ نوجوان کو برآمد کرلیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق وہ بہت حیران کن اور چوکا دینے والا لمحہ تھا جب پولیس نے ایک گاڑی کے ڈیش بورڈ سے کم عمر نوجوان کو برآمد کیا جسے اسپین اسمگل کیا جارہا تھا۔

گاڑی کی پوشیدہ جگہ بہت چھوٹی تھی جس میں کم عمر لڑکے کو ایسے انداز میں چھپایا گیا کہ اس کی جان جاسکتی تھی اور قریب تھا کہ اس کا دم گھٹ جاتا۔

اسپین کے شمال مغربی سرحد کو افریقی ملک مراکش سے ملتی ہے کے گارڈز نے فوری طور پر طبی عملے کو مدد کےلیے بلایا تاکہ متاثرہ لڑکے کو فوری طبی امداد فراہم کی جاسکے۔

لڑکے کی برآمدگی کا چوکا دینے والا انکشاف انسانی اسمگلنگ کی تازہ لہر کے دوران ہوا ہے جس میں انسانی اسمگلر تارکین وطن کو گاڑیوں (تارکین وطن کو گاڑی کے انجن اور سیٹ کے اندر، اور ڈگی میں بھی چھپایا جاتا ہے) میں چھپا کر یورپ پہنچاتے ہیں۔

گزشتہ برس نومبر میں سرحدی پولیس نے دو نوجوان تارکین کو مراکش سے اسپین اسمگل کرنے کے دوران ڈیش بورڈ اور عقبی سیٹ کے اندر سے برآمد کیا تھا، جن کی عمریں 19 اور 17 برس تھیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ حالیہ کیس میں ایک شخص اور خاتون کو انسانی اسمگلنگ کے جرم میں حراست میں لیا گیا تھا جو جیل میں ہیں۔

میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ مراکشی جوڑے کی گاڑی پولیس نے روکی تو وہ مشکوک لگ رہے تھے جس کے بعد سرحدی گارڈز نے خصوصی آلات (جو پوشیدہ افراد کے دل کی ڈھڑکن کو پکڑتا ہے) کی مدد سے لڑکے کو برآمد کیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ڈیش بورڈ سے برآمد کیے جانے والے 17 سالہ لڑکے کا تعلق مالی سے ہے۔

افریقہ سے یورپ اسمگل کیے جانے والے افراد کو مختلف اور خطرناک طریقوں سے اسمگل کیا جاتا ہے، اور انسانی اسمگلنگ کے اس خطرناک عمل کے دوران کئی مرتبہ تارکین وطن جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں.

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں