The news is by your side.

Advertisement

داتا دربار کیس کے سہولت کار کو22 بار سزائے موت، ایک بار عمر قید و جرمانہ

لاہور : انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے داتا دربار دھماکا کیس کے سہولت کار ملزم کو 22 بار سزائے موت اور ایک بار عمر قید کی سزا سنادی، چار لاکھ روپے جرمانے کی ادائیگی کا بھی حکم دیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق سانحہ داتا دربار کیس پر لاہور کی خصوصی عدالت نے فیصلہ سنا دیا، دھماکا کیس کے سہولت کار ملزم محسن خان کو مجموعی طور پر22 بار سزائے موت اور ایک بار عمر قید کی سزا دے دی گئی۔

انسداد دہشت گردی کی دفعہ 7 اے ٹی اے کے تحت 11بار اور دفعہ 302 کے تحت بھی 11مرتبہ موت کی سزا کا حکم سنا دیا گیا۔

اس کے علاوہ عدالتی فیصلے میں ملزم کو 4 لاکھ روپے جرمانے کی ادائیگی کا حکم دیا گیا یہ رقم مقتولین لواحقین کو ادا کی جائے گی۔

واضح رہے کہ8مئی 2019 کو داتا گنج بخشؒ لاہور کے مزار کے باہر ایلیٹ فورس کی گاڑی پر دہشت گردوں کے خود کش حملے میں5اہلکاروں سمیت 13 افراد شہید جبکہ 30 زخمی ہوئے تھے۔ دھماکےمیں 7کلو دھماکا خیز مواد استعمال کیا گیا تھا۔ شہداء میں ایک 10 سالہ بچہ بھی شامل تھا۔

استغاثہ کے مطابق محسن کا تعلق چارسدہ کے علاقے شبقدر سے ہے اور اس نے خود کش حملہ آور کو سہولت کاری فراہم کی تھی۔

خود کش حملہ آور صدیق اللہ اور محسن خان6 مئی کو طور خم کے راستے افغانستان سے پاکستان میں داخل ہوئے تھے اور دونوں 8 مئی کو لاہور آئے تھے جہاں اُنہوں نے داتا دربار کے قریب ایک مکان میں رہائش اختیار کی۔

مزید پڑھیں : داتا دربار خود کش حملہ آور کی شناخت ، سہولت کارگرفتار

گرفتاری کے وقت خود کش حملہ آور کے سہولت کار سے بارودی مواد بھی برآمد ہوا تھا جب کہ ملزم کا تعلق کالعدم تنظیم سے ہے۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں