The news is by your side.

Advertisement

وکیل بنتے ہی بیٹی نے باپ کے قاتل کو سزا دلوا دی

ڈھاکہ: بنگلہ دیش میں اپنے والد کے قاتلوں کو سزا دلوانے کے لیے سرگرداں بیٹی کو 16 سال بعد انصاف مل گیا، عدالت نے ملزمان کو سزائے موت اور عمر قید سنا دی۔

بین الاقوامی میڈیا کے مطابق بنگلہ دیشی شہر راج شاہی کے رہائشی پروفیسر طاہر احمد 17 فروری 2006 کو لاپتہ ہوگئے تھے، 2 دن بعد ان کی لاش ایک مین ہول سے برآمد ہوئی۔

بعد ازاں پولیس نے مقتول کی یونیورسٹی کے 6 ساتھی اساتذہ کو ان کے قتل کے الزام میں گرفتار کیا لیکن مرکزی ملزم جلد ہی ضمانت پر رہا ہوگیا۔

مقتول کی بیٹی شگفتہ اس وقت قانون کی تعلیم حاصل کر رہی تھیں۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ ایک کرمنل کیس تھا چنانچہ حکومتی وکلا اس کی پیروی کر رہے تھے، ملزمان نے بھی 15 سے 16 وکلا کی خدمات حاصل کر رکھی تھیں۔

سنہ 2013 میں ہائی کورٹ نے 2 ملزمان کو سزائے موت اور 2 کو عمر قید سنائی، تاہم ملزمان نے سزا کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کردی۔

اب 9 سال بعد ایپلیٹ بینچ نے ملزمان کی اپیل خارج کر کے سزا پر عملدر آمد کا حکم دیا ہے۔

شگفتہ کا کہنا ہے 16 سال کے دوران وہ ایک تھکا دینے والی جدوجہد اور اذیت سے گزری ہیں، لیکن وہ خوش ہیں کہ بالآخر ان کے والد کو انصاف مل گیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں