ڈیوڈ میتھیوز ایک برطانوی مستشرق تھے جن کی اردو زبان و ادب میں دل چسپی اس قدر بڑھی کہ انھوں نے میر انیس اور اقبال کا ترجمہ کیا اور مقالے تحریر کیے۔ معروف محقق اور نقاد پروفیسر فتح ملک لکھتے ہیں کہ پروفیسر رالف رسل کے بعد اردو ادب کا بڑا ماہر ڈاکٹر ڈیوڈ میتھیوز تھے۔
ڈیوڈ میتھیوز نے اُردو زبان ۱۹۶۰ء کی دہائی کے وسط میں سیکھنا شروع کی۔ اس کی ابتدا ہندوستانی اور پاکستانی طلبا کے ساتھ خالصتاً لسانیاتی شوق کی بنیاد پر اُس وقت ہوئی جب وہ کیمبرج یونیورسٹی میں قدیم یونانی تاریخ کی تحقیق میں مصروف تھے۔ ڈیوڈ میتھیوز نے پہلی مرتبہ ۱۹۶۸ء میں پاکستان اور بھارت کا سفر کیا جس کا مقصد اہلِ علم و ادب سے ملاقات کرنا اور اردو زبان و ادب سے اپنی زبان میں تراجم کرنا تھا۔ اس زمانہ میں میتھیوز یونیورسٹی آف لندن کے اسکول آف اورینٹل اینڈ افریکن اسٹڈیز کے لسانیات کے شعبے کے استاد تھے۔ یونیورسٹی میں برصغیر کے مختلف ممالک کے طلبا زیرِ تعلیم تھے جن کی وجہ سے میتھیوز کو اردو سیکھنے اور ادب کا مطالعہ کرنے کا شوق ہوا۔ وہ کراچی میں بھی قیام پذیر رہے اور جب وہ اردو زبان میں کسی اجنبی سے گفتگو کرتے تو وہ یہ جان ہی نہیں پاتا کہ اس کے سامنے ایک انگریز کھڑا ہے۔
یہاں ہم کینیڈا میں اردو زبان و ادب کے فروغ کے لیے کوشاں رہنے والے، ادبی تحقیق اور تصنیف و تالیف کے حوالے سے معروف اشفاق حسین کے مجموعۂ مضامین "تھوڑی سی فضا اور سہی” سے اس مضمون کے چند منتخب پارے نقل کررہے ہیں جو انھوں نے ڈیوڈ میتھیوز کی اردو زبان سے محبت اور ان کے تحقیقی کام سے متعلق تحریر کیا تھا۔ وہ لکھتے ہیں:
مجھے یاد آتا ہے کہ ایک بار لکھنؤ میں مجاز سیمینار اور مشاعرے کا انعقاد ہوا تھا۔ باہر سے آنے والے تمام لوگ جن میں برطانیہ سے پروفیسر ڈیوڈ میتھیوز اور افتخار عارف اور کینیڈا سے میں بھی شامل تھا۔ ہم سب لوگوں کو دہلی سے لکھنؤ بذریعہ ریل سفر کرنا تھا۔ دہلی سے ہمارے ساتھ سفر کرنے والوں میں پروفیسر گوپی چند نارنگ اور پروفیسر شارب ردولوی بھی تھے۔ دہلی سے لکھنؤ تک کا یہ سفر رات بھر کا تھا اور اس سارے راستے جہاں اور بہت سی باتیں ہوئیں وہیں خاص طور سے ڈیوڈ سے عمر خیام کی یہ رباعی بھی سنی گئی جس کی اب ایک خاص اہمیت ہو چکی تھی۔
درس و تدریس کی پیغمبری ملنے کا یہ واقعہ ۱۹۶۵ء کا ہے لیکن اس کے صرف ایک سال کے بعد پروفیسر ڈیوڈ میتھوز کا تبادلہ لندن یونیورسٹی کے پاکستان ہندوستان اور سیلون کے شعبے میں ہو گیا۔ اور یہاں سے ڈیوڈ کے اس سفرِ عشق کا باقاعدہ آغاز ہوا جسے دنیا اردو زبان کے نام سے جانتی ہے۔ انہوں نے نہایت سنجیدگی اور مسلسل محنت سے اردو زبان و ادب اور اس کی تاریخ کا مطالعہ کیا اور اس زبان کے دامن کو وسیع سے وسیع تر کرنے میں اپنی بھرپور صلاحیتوں کا استعمال کیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج جہاں کہیں بھی اردو کے حوالے سے کوئی عالمی اجتماع ہوتا ہے وہاں پروفیسر ڈیوڈ میتھیوز کے افکار و خیالات جاننے کے لیے انہیں ضرور مدعو کیا جاتا ہے۔ کہتے ہیں کسی بھی زبان و ادب کا مطالعہ صرف کتابوں کے ذریعے بھی کیا جاسکتا ہے، لیکن اس زبان کے بولنے والوں کے درمیان گھل مل کر جو زبان و بیان کی باریکیاں سمجھ میں آسکتی ہیں وہ خالی مطالعے سے نہیں آسکتیں۔ ڈیوڈ نے بھی لندن کی تعلیمی فضا کو ایک سال کے لیے خیر باد کہا اور ۱۹۶۸ء اور ۱۹۶۹ء کے دوران پاکستان اور ہندوستان کے سفر پر چل پڑے۔ کراچی، لاہور، دہلی، لکھنؤ اور بمبئی کے گلی کوچوں سے آشنائی حاصل کی۔ دوسری بار ۱۹۷۳ء میں پھر انہوں نے ان ہی گلی کوچوں کی خاک چھانی۔ اس بار جب وہ کراچی آئے تو میں کراچی یونیورسٹی میں زیرِ تعلیم تھا اور وہیں پروفیسر جمیل اختر خان صاحب کی معرفت میری ان سے پہلی ملاقات ہوئی۔
ایک بار بہت عرصے کے بعد جب میں نے لندن میں ان سے اس ملاقات کا ذکر کیا تو انہوں نے ہنستے ہوئے کہا کہ جی ہاں جمیل اختر خان صاحب سے میرے بہت ہی قریبی تعلقات تھے۔ ڈیوڈ نے بتایا کہ اپنے پہلے سفر میں جب وہ کراچی یونیورسٹی پہنچے تو صدر شعبۂ اردو نے اپنے شعبہ کے ایک نوجوان استاد جمیل اختر خان صاحب سے ان کا تعارف کروا دیا اور کہا کہ جب تک تم کراچی یونیورسٹی میں ہو یہ تمہاری مکمل رہنمائی کریں گے۔ ڈیوڈ دوسری صبح خوش خوش ان سے ملنے کے لیے شعبۂ اردو میں پہنچ گئے۔ وہاں کئی گھنٹے انتظار کرنے کے بعد جب وہ آئے تو کہنے لگے کہ آج وہ کسی کو نہیں پڑھائیں گے۔ ڈیوڈ نے مجھے بتایا کہ وہ پھر دوسرے دن شعبۂ اردو میں پہنچ گئے تاکہ پروفیسر جمیل اختر خان سے ملاقات کر کے اپنا آئندہ لائحہ عمل طے کر لیں، مگر اُس دن تو وہ شعبے میں بالکل ہی نہیں آئے۔ تیسرے دن وہ پھر ان کا بڑی دیر تک انتظار کرتے رہے اور جب وہ پہنچے تو ڈیوڈ نے نہایت سعادت مندی سے کہا کہ جناب میں آپ کا بہت دیر سے انتظار کر رہا ہوں۔ جمیل صاحب نے بغیر کسی جھجھک کے جواب دیا کہ وہ تو خیر ٹھیک ہے مگر مجھے افسوس ہے کہ میں آج بھی آپ کو نہیں پڑھا سکوں گا۔ بے چارے ڈیوڈ جو انگلستان کے نظم و ضبط کے ماحول میں پلے بڑھے تھے اس مشرقی طرزِ ادا پر خاصے حیران ہوئے اور ان کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا۔ ان کی حیرانی کو دیکھتے ہوئے پروفیسر موصوف نے کہا کہ آخر آپ کا مسئلہ کیا ہے۔ ڈیوڈ نے نہایت معصومیت سے جواب دیا "میں چاہتا ہوں کہ مجھے اردو زبان اچھی طرح سے آجائے اور اس سلسلے میں مجھے آپ کی مدد چاہیے۔ انہوں نے ڈیوڈ سے مسکراتے ہوئے کہا کہ اگر زبان ہی سیکھنی ہے تو چلو میرے ساتھ جبیز ہوٹل چلو وہاں بہت سے دوستوں سے ملاقات ہو جائے گی اور وہیں گپ شپ کے دوران تمہیں زبان بھی اچھی طرح سے آجائے گی۔ نوجوان ڈیوڈ کو اس بات پر حیرانی تو بہت ہوئی لیکن ان کے لیے اس دوستانہ آفر میں دلکشی کا بہت سا سامان بھی پوشیدہ تھا، سو انہوں نے دل ہی دل میں اس سے پورا پورا فائدہ اٹھانے کا فیصلہ کر لیا۔ اس سے اچھی اور کیا بات ہوسکتی تھی کہ چائے خانوں میں وقت بھی گزارا جائے، لوگوں سے گپ شپ بھی کی جائے اور یونیورسٹی کے ریکارڈ میں حاضری بھی لگتی رہے، یعنی رند کے رند رہے ہاتھ سے جنت نہ گئی والا معاملہ تھا۔ ویسے کچھ ہی دنوں بعد ڈیوڈ اور جمیل صاحب کے آپس میں دوستانہ مراسم ہو گئے اور پھر ڈیوڈ نے ان کے گھر ہی بسیرا کر لیا اور زبان کے رموز سے گھریلو ماحول میں آشنائی حاصل کی۔
آج میں یہ سوچتا ہوں کہ وہ بیسویں صدی کا زمانہ تھا۔ اگر ڈیوڈ میتھیوز جانِ عالم کے لکھنؤ میں پیدا ہوئے ہوتے تو یہ کام کسی امراؤ جان ادا کے کوٹھے پر اور زیادہ بہتر طور پر انجام دیا جا سکتا تھا۔ لیکن اب جب میں انہیں اس قدر صاف شستہ اور بامحاورہ اردو بولتے، لکھتے اور پڑھتے ہوئے دیکھتا ہوں تو مجھے یقین سا ہونے لگتا ہے کہ کسی زبان کا اصل علم صرف یونیورسٹی اور کالج کے بند کمروں ہی میں نہیں بلکہ اس کو حاصل کرنے کے لیے در در کی خاک بھی چھاننی پڑتی ہے اور پھر بقول ڈیوڈ انہوں نے تو اردو زبان سے محبت کی خاطر در در کی خاک ہی نہیں چھانی ہے بلکہ گھاٹ گھاٹ کا پانی بھی تو پیا ہے۔
در در کی خاک چھاننے کے حوالے سے مجھے ڈیوڈ کے سنائے ہوئے دو دل چسپ واقعات بھی یاد آ رہے ہیں۔ ایک بار وہ لندن میں ہندی فلم دیکھنے کے لیے اپنے ایک انگریز دوست کے ساتھ سینما ہال کے باہر کھڑے ہوئے تھے اور پان کی گلوری ان کے منہ میں تھی۔ قریب کھڑے ہوئے دو ایشیائی لڑکوں نے کہا، ابے یار یہ گورا تو سالا پان بھی کھا رہا ہے۔ کوئی اور ہوتا تو شاید طیش میں آجاتا مگر ڈیوڈ نے بڑی خندہ پیشانی سے جواب دیا کہ ابے یہ گورا صرف پان ہی نہیں کھاتا بلکہ زبان بھی تمہاری ہی طرح بولتا ہے۔ یہ سن کر ان دونوں لڑکوں پر تو جیسے گھڑوں پانی پڑ گیا۔ صاف اور شستہ اردو بولنے کا ایک اور دل چسپ واقعہ لاہور میں بادشاہی مسجد کے سامنے پیش آیا۔ ڈیوڈ کسی کانفرنس کے سلسلے میں لاہور گئے ہوئے تھے اور جاپان سے آئے ہوئے ایک اور مہمان اردو پروفیسر کے ساتھ شہر کی سیر میں مصروف تھے۔ ڈیوڈ کو جاپانی بالکل نہیں آتی تھی اور جاپانی پروفیسر کو انگریزی میں بہت زیادہ مہارت نہ تھی، لہذا دونوں آپس میں اردو ہی میں بات کر رہے تھے۔ ایک سیدھے سادے لہوریے نے بڑی معصومیت کے ساتھ پوچھا کہ آپ ایک انگریز ہیں اور وہ دوسرا جاپانی ہے تو پھر آپ لوگ آپس میں اردو میں کیوں بات کر رہے ہیں۔ ڈیوڈ نے اصل بات بتائی تو اس نے بڑے فخر سے کہا اچھا اب میں سمجھا اردو واقعی ایک بین الاقوامی زبان ہے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


