The news is by your side.

’میں مجرم نہیں‘ وارنر بورڈ پر برس پڑے

آسٹریلیا کے سینئر بلے باز ڈیوڈ وارنر بورڈ کی پالیسیوں پر برس پڑے۔

ڈیوڈ وارنر نے آسٹریلیا کی ٹیموں میں قائدانہ کردار سے تاحیات پابندی کو ختم کرنے کے لیے درخواست دینے کے موقع فراہم کرنے کا خیرمقدم کیا ہے لیکن انہوں نے اس عمل کو ترتیب دینے میں وقت لینے پر کرکٹ بورڈ پر بھی تنقید کی۔

اوپننگ بلے باز وارنر پر ایک سال کے لیے ایلیٹ گیم اور 2018 میں قیادت کے عہدوں پر تاحیات پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ انھیں نیو لینڈز بال ٹیمپرنگ اسکینڈل میں اہم کردار ادا کرنے پر پابندی کا فیصلہ سنایا گیا تھا۔

کرکٹ آسٹریلیا (سی اے) کی جانب سے انٹیگریٹی کوڈ میں تبدیلیوں کی منظوری کے بعد سابق ٹیسٹ نائب کپتان اب قیادت کی پابندی پر نظرثانی کی درخواست کر سکتے ہیں تاکہ کھلاڑیوں اور عملے کو طویل مدتی پابندیوں سے نجات کے لیے درخواست دی جا سکے۔

وارنر نے کہا کہ ڈرا آؤٹ کا عمل ان کے لیے "تکلیف آمیز” تھا، اور اس کا موازنہ ان چار دنوں سے کیا گیا جب بورڈ نے 2018 میں ان پر پابندی لگانے کے لیے لیا جب بال ٹیمپرنگ اسکینڈل سامنے آیا۔

وارنر نے پیر کو آسٹریلوی میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ مایوس کن ہے کہ جب آپ 2018 میں کوئی فیصلہ کرتے ہیں تو صرف چار دن میں سناتے ہیں جب کہ ریلیف کے مرحلے کو 9 ماہ لے لیے۔

کرکٹ آسٹریلیا وارنر پر پابندی ختم کرنے کو تیار

ان کا کہنا تھا کہ "میں مجرم نہیں ہوں،” آپ کو کسی مرحلے پر اپیل کا حق ملنا چاہیے میں سمجھتا ہوں کہ انہوں نے پابندی لگا دی ہے لیکن کسی پر تاحیات پابندی لگانا میرے خیال میں یہ قدرے سخت ہے۔

وارنر نے کہا کہ میں ٹیم میں قائد کی حیثیت رکھتا ہوں، چاہے کچھ بھی ہو آپ کو میرے نام کے آگے C (کپتان) یا VC (نائب کپتان) دیکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔

وارنر کو اکثر آسٹریلیائی سیٹ اپ میں ایک غیر اعلان شدہ رہنما کے طور پر بیان کیا جاتا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں