آفاقی عشق کی لازوال داستاں – دوام -
The news is by your side.

Advertisement

آفاقی عشق کی لازوال داستاں – دوام

شہریار کے سوا تمام ونگ کمانڈر اور ان کے وائس کمانڈر ز کو میں ابھی اسی وقت ان کے عہدوں سے برطرف کررہی ہوں ۔
منتہیٰ کی گونجیلی آواز نے کانفرنس روم کے پن ڈراپ سائلنس کو توڑا ۔
ہنگامی میٹنگ کا آغاز ہو چکا تھا جس میں ڈاکٹر عبدالحق نے منتہیٰ کی درخواست پر خصوصی طور پر شرکت کی تھی جبکہ ارمان یوسف کے لئے سپیشل سکائپ بندوبست ارحم تنویر نے کیا تھا ۔
“مس منتہیٰ آپ اتنے بڑے فیصلے کی وجہ بتانا پسند کریں گی “۔۔؟؟ ۔۔”اورشہریار کیوں نہیں ۔۔؟”۔۔غازی ونگ کے وائس کمانڈر صہیب میر نے قدرے ناگواری سے پوچھا
“مسٹر وائس کمانڈر”۔۔”مجھ سےوجہ پ وچھنے سے پہلے کیا آپ یہ بتانا پسند کریں گے کہ جن عہدوں سے برطرفی آپ کو اتنی کِھل رہی ہے۔۔ وہ کس کے دم سے ہیں ؟؟ ۔۔یقیناٌ فاؤنڈیشن کے دم سے نہ”۔
“تو جب اس پر کڑا وقت آیا ہر طرف فیک نیوز ۔ویڈیوز ۔۔ یہاں تک کے چند گھنٹے میں فاؤنڈیشن کے ختم ہوجانے تک کی نیوزوائرل ہو گئی اُس وقت کہاں تھے آپ لوگ”۔۔؟؟؟۔۔منتہیٰ کی گرج کسی شیرنی سے کم نہیں تھی ۔


اسی ناول کی گزشتہ اقساط پڑھنے کے لیے کلک کریں


“ہمارا ارمان اور اُس کی فیملی کے پاس موجود ہونا ضروری تھا ۔۔ وہ ہمارا جگری یار ہے۔۔اور ۔۔اور ۔۔پھر چند گھنٹوں میں آپ سب صورتحال سنبھال چکی تھیں ” صہیب میر کے آخری الفاظ خود اس کی زبان کا ساتھ نہیں دے پائے تھے
منتہیٰ نے ایک غضب ناک نظر صہیب پر ڈالی ۔۔ پھر ڈاکٹر عبدالحق کی طرف مڑی
Sir, would you please settle this issue ??
Yeah, you are doing that right .. go ahead …
ڈاکٹر عبدالحق کے فیصلے کے بعد سب کو سانپ سونگھ چکا تھا ۔
منتہیٰ نے تیزی کے ساتھ نئے ونگ کمانڈرز کے نام اناؤنس کیے۔ارمان کے صحت یاب ہونے تک آپریشن کمانڈ اُس نے اپنے پاس رکھی تھی جبکہ باقی تمام ونگز میں وہ نچلے درجے کے کارکنان کو کمانڈ ہیڈ تک لائی تھی ۔
ارمان نے گہرا سانس لے کر سر تکیے پر ٹکایا ۔ اس کا فیصلہ سو فیصد درست تھا ۔ اِس سے موجودہ صورتحال میں مایوس کارکنان ایک دفعہ پھر پرجوش ہوکر سر گرم ہو جاتے ۔
“منتہیٰ کیا میں پوچھ سکتی ہوں کہ تم نے شہریار جہانگیر کو کیوں فارغ نہیں کیا “۔۔؟؟
میٹنگ کے اختتام پر فاریہ نے ڈرتے ڈرتے وہ سوال داغ ہی دیا جو اُن سب کے دماغوں میں بہت دیر سے کلبلا رہا تھا ۔۔
منتہیٰ نے کھا جانے والی نظروں سے فاریہ کو دیکھا ۔۔پھر نظریں جھکائے بیٹھے شہریار کو ۔۔
“کیونکہ اِن کے ونگ کی باری کچھ دن بعد آئے گی ‘‘۔۔دُرشتی سے جواب دیتی وہ کانفرنس روم سے جا چکی تھی۔
ارمان سمیت اُن سب نے بھر پور قہقہہ لگایا ۔

۔۔””منتہیٰ دستگیر اور کسی کو بخش دے ۔۔۔ نا ممکن

*************

حالات معمول پر آتے ہی ارسہ کی شادی کا معاملہ دوبارہ زیرِغور تھا ۔ چند دن بعد گھر کی چھوٹی سی تقریب میں فواد نے اِرسہ کونازک سی ڈائمنڈ رِنگ پہنا ئی ۔
فواد خاصہ گڈ لوکنگ اور ہنس مکھ تھا ۔دو بہن بھائی اور والدین پر مشتمل چھوٹی سی فیملی تھی ۔ اِرسہ آج کل ہواؤں میں تھی۔
شادی کی تاریخ پہلے رامین اور پھر منتہیٰ کے سمسٹر امتحانات کے باعث تین مہینے بعد کی رکھی گئی تھی اور دادی کو ہول اٹھ رہےتھے کہ بڑی بیٹی کی موجودگی میں چھوٹی کی شادی ہونے جا رہی تھی ۔
جبکہ منتہیٰ اِن سب چکروں سے بے نیاز سٹڈیز اور فاؤنڈیشن کے درمیان گھن چکر بنی ہوئی تھی ۔
لیکچر کے دوران سر یوسف نے اُس کی تھکی تھکی حالت خاص طور پر نوٹ کی ۔۔
“منتہیٰ آپ آفس میں میرے پاس آئیے۔”
“اوکے سر ۔۔ چکراتے دماغ کے ساتھ وہ سر یوسف کے آفس پہنچی۔۔”
“آؤ بیٹھو” ۔۔ سر نے بغورُ اسے دیکھا ۔
“منتہیٰ مجھے کچھ دن سے آپ ٹھیک نہیں لگ رہیں “۔۔۔ کیا کوئی مسئلہ ہے ؟؟
“نتھنگ سر۔۔ بس مصروفیت بڑھ گئی ہے ۔۔”
“تو مصروفیت کو کم کرو ۔۔ کچھ دن اور ہیں ارمان انشاء اللہ جوائن کرلے گا ۔ تب تک پراجیکٹس وغیرہ کو ملتوی کردو ۔”۔۔منتہیٰ انہیں اپنی بیٹی کی طرح عزیز ہو گئی تھی ۔
“اوکے سر “۔۔ وہ مسکرائی
“ڈیٹس اے گڈ گرل “۔۔
“سر مجھے کچھ ٹاپکس ڈسکس کرنے تھے “۔۔۔اٹھتے اٹھتے اسے یاد آہی گیا
ڈاکٹر یوسف نے ایک کڑی نظر اس پر ڈالی۔۔ پھر کچھ سوچ کر نرم ہوئے ۔۔ وہ اس کی لرننگ میڈنس سے واقف تھے۔
“ٹھیک ہے کسی دن ڈسکس کریں گے ۔۔ ابھی تمہیں آرام کی ضرورت ہے گھر جاؤ اور سکون سے لمبی نیند لو ۔”
گہری سانس لیتی ہوئی منتہیٰ ان کے آفس سے نکلی ۔۔اور پھر کئی روز تک اس نے واقعی ڈٹ کر آرام کیا ۔
اس دفعہ ویکلی میٹنگ میں مکمل صحت یاب ہونے کے بعد ارمان کی واپسی متوقع تھی۔ دو ماہ بعد ایس ٹی ای واپسی کو اُن سب نے مل کر سیلبریٹ کرنے کا پورا پروگرام بنایا ہوا تھا ۔
یونیورسٹی سے نکل کر فاریہ نے دو بوکے خریدے۔ “ایک سفید ٹیولپ اور دوسرا لال گلاب ۔”
“یہ دو بوکے کیوں لیے ہیں”۔؟؟؟۔۔ منتہیٰ حیران ہوئی
“ایک تمہارے لیے۔۔ پیسے بعد میں دے دینا “۔۔ فاریہ نے جتایا
“میں نے تمہیں کہا تھا جو تم نے لیا ہے ۔۔ ہونہہ”
“تو تم ارمان بھائی کو بوکے نہیں دوگی “۔۔ اُسے شاک ہوا
“ہر گز نہیں “۔۔ کورا جواب آیا
فاؤنڈیشن آفس پہنچتے ہی منتہیٰ بوا ئز کے ایک گروپ کی طرف بڑھ گئی جو کافی دیر سے اُس کا ہی انتظار کر رہے تھے ۔
فاریہ بڑبڑاتی ہوئی کانفرنس روم پہنچی ۔
“ویلکم بیک ارمان بھائی” ۔۔ اُس نے بیک وقت دونوں بوکے اُسے تھمائے ۔
“یہ دوسرا بُوکے کس کی طرف سے ہے”۔۔ ؟؟۔۔ ارحم نے آنکھیں نچائیں ۔۔
“یہ بھی میری طرف سے ہی ہے “۔۔ فاریہ نے زچ ہو کر دَھپ سے رامین کی ساتھ والی سیٹ سنبھالی جو اپنے کالج سے سیدھی یہیں آئی تھی ۔۔۔
“لیکن ہماری پلاننگ کے مطابق تو یہ کسی اور نے دینا تھا نہ”۔۔ ارحم نے فاریہ کی طرف جھک کر سر گوشی کی
“ہماری ساری پلاننگز ایک محترم ہستی ہمیشہ تہس نہس کرتی آئی ہیں اور کرتی رہیں گی”۔۔ فاریہ نے جلے دل کے پھپولے پھوڑے
“مگر وہ محترم ہستی نظر ہی نہیں آرہیں “۔۔ارحم نے ارد گرد دیکھا ۔۔منتہیٰ ، فاریہ کے ساتھ نہیں تھی ۔۔
کچھ بوائز باہر اس کے منتظر تھے وہ سیدھی ان کے ساتھ میٹنگ روم گئی تھی۔۔
وہ سب مزے سے چائے اور ریفریشمنٹ اُڑا رہے تھے ۔۔ جب ڈاکٹر عبدالحق ، منتہیٰ اور کچھ بوائز کے ساتھ اندر داخل ہوئے
“ویلکم بیک مائی بوائے “۔۔۔ وہ بہت گرم جوشی کے ساتھ ارمان سے ملے ۔۔
“امید کرتا ہوں کہ سب کچھ بہت جلد معمول پر آجائے گا۔”
یہ کوہاٹ یونیورسٹی کے سٹوڈنٹس نے اپنے کچھ کمپیوٹرپراجیکٹ منتہی کے ساتھ ڈسکس کیے ہیں ۔۔ انہیں فوری طور پر جی آئی ایسونگ کی تمام سہولیات فراہم کریں ۔تا کہ ان کے پراجیکٹس کو جلد از جلد آگے بڑھایا جاسکے۔ارمان کوکچھ تفصیلات بتا کر ڈاکٹرعبدالحق جا چکے تھے اور ان کے ساتھ کوہاٹ یونیورسٹی کے سٹوڈنٹس بھی ۔۔
“کسٹ کے نام پر شہریار کو اَچھو لگا “۔۔۔ اف۔۔” مارے گئے ۔۔”
ہاتھ میں پکڑی فائلز کو ٹیبل پر رکھتے ہوئے منتہیٰ نے اُن سب کو گھورا ۔۔ “اگر آپ لوگوں کی ریفرشمنٹ ختم ہو گئی ہو تو ۔۔ ہم کچھ کام کی بات کر لیں ۔۔۔۔؟؟
“وہ سب اپنی جگہ اٹینشن ہوئے ۔۔ پہلی شامت کس کی آتی ہے”۔۔ ؟؟؟
Sheheryar Jahangir, you are fired right now.
“اور میرا خیال ہے کہ آپ مجھ سے ریزن پوچھنے کی حماقت ہر گز نہیں کریں گے “۔ منتہیٰ نے تھیکی نظروں سے شہریار کو گھورا
“اوکے میم “۔۔۔ شہریار کی نگاہیں جھکی تھیں ۔۔”یقیناٌ اس سے کوتاہی ہوئی تھی “۔
پھر منتہیٰ نے کچھ فائلز ارمان کی طرف بڑھائیں یہ کسٹ اور این ای ڈی یونیورسٹی کراچی کے سٹوڈنٹس کی پراجیکٹ فائلزہیں۔۔”اب ان کو آپ خود ڈیل کریں “۔
“میڈ م کیا میں ایک سوال پوچھنے کی جسارت کر سکتا ہوں “۔۔؟؟ ۔۔صہیب کی مداخلت پر منتہیٰ نے اسے تند نظروں سے گھورا
“غازی ونگ کی کمانڈ ارمان کے پاس ہی ہے یا آپ اُسے بھی بر طرف کر چکی ہیں “۔؟؟ صہیب کا لہجہ خاصہ تھیکا تھا
“مسٹر صہیب میر”۔ “ارمان یوسف کو غازی اللہ تعالیٰ نامزد کر چکا ہے ۔۔ میری کیا مجال ہے اِس فیصلے کے سامنے ۔۔ منتہیٰ شدیدطیش میں آئی ۔۔۔ ارمان یوسف کا مقابلہ کرنے کے لیے ابھی آ پ کو بہت کچھ سیکھنا ہے ۔۔ بہت سی آزمائشوں سے گزرناہے ۔۔سمجھےآپ” ۔۔۔ اُس نے غصے سے سامنے کھلی فائل بند کی ۔
اور کانفرنس ہال میں گونجنے والی پہلی تالی صہیب میر ہی کی تھی ۔ ان سب نے بہت دیر تک ٹیبل اور ڈیسک بجا کرارمان کو خراجِ تحسین پیش کیا ۔
ارمان کے لبوں پر بہت گہری دلکش مسکراہٹ اتری ۔۔۔” بالاآخر ۔۔۔ بلاآخر ۔۔ منتہیٰ نے تسلیم تو کیا ۔۔۔”
منتہی کچھ جُز بُز ہو کر جانے کے لیے اٹھی ۔۔ “اگلے ماہ میرے سمسٹر ایگزامز ہیں اور پھر کچھ ذ اتی مصروفیات۔۔۔میں اب ویکلی میٹنگز میں کچھ عرصے تک شریک نہیں ہو سکو گی “۔۔۔ چلو رامین اُس نے بہن کو اٹھنے کا اشارہ کیا
Ma’am, we will miss you sooooo much …!
ارحم تنویر کی آواز پر اُس کے بڑھتے قدم تھمے ۔۔۔ جس کے چہرے پر تاؤ دلانے والی مسکراہٹ تھی
Don’t worry Arham Tanveer, .. We will meet soon …
“تب تک فیصلہ کر لینا “۔۔۔ خلافِ مزاج منتہیٰ کے لبوں پر گہری مسکراہٹ تھی۔
“کیسا فیصلہ میم ۔۔؟؟۔۔” ارحم حیران ہوا
“یہی کہ اگر میرے ہاتھوں قتل ہوئے تو شہادت کے اعزاز سے محروم ہو جاؤ گے ۔
Bcoz I gonna do that with solid reason….!!
“میری چوائس بہرحال سیکنڈ آپشن ہی ہوگی”۔ ارحم نے پیچھے سے ہانک لگائی
منتہیٰ غضب ناک ہوکر پلٹی ۔۔ مگر اُس کے کچھ کہنے سے پہلے ہی ارمان نے اپنے ہاتھ میں پکڑا پین کھینچ کر ارحم کو مارا ۔۔۔وہ بھی آخری حد کا ڈھیٹ تھا ۔!!
رامین۔ اَرحم کو مُکا د کھاتے ہوئے بہن کے پیچھے لپکی ۔۔۔ اب سارا راستہ اُس کی شامت آنی تھی ۔
منتہیٰ کے جانے کے بعد وہ سب بہت دیر تک ہنستے رہے ۔
“خیر ارمان بھائی۔ بُوکے تو آپ کو نہیں ملا مگر آج آپ کی تعریف ضرور ہو گئی ۔۔ بہت بہت مبارک ہو “۔ فاریہ نے ارمان کو چھیڑا
And credit goes to me …
صہیب نے کالر جھاڑے ۔
“وہ سب نا جانے آج کیا کھا کر آئے تھے۔۔۔۔ منتہیٰ پہلی دفعہ بری طرح زَ چ ہوئی تھی ۔۔”

*************

“لال بھاری شرارہ ، نفیس گولڈ جیولری اور عمدہ میک اپ ۔۔ ارسہ دلہن کے روپ میں ما شاء اللہ قیامت ڈھا رہی تھی ۔۔”
جبکہ منتہیٰ ہلکے کام والے ریڈکرتا پاجامہ میں آج بھی سادہ تھی ۔۔ فاریہ اور رامین کے شدید اسرار کے باوجود اس نے میک اپ تو دور کی بات بال بھی نہیں کھولے تھے۔
ڈاکٹر یوسف کی ٹیبل پر وہ اُن کو سلام کرنے گئی۔۔ تو خلافِ توقع ارمان بھی اُن کے ساتھ تھا ۔۔
“یہ کیوں ٹپک پڑا ہے” ۔۔؟؟۔۔ وہ بد مزہ ہو کر کچھ اونچا بڑ بڑائی
“کیونکہ اُنہیں اِنوائٹ کیا گیا تھا “۔۔ فاریہ قریب ہی کہیں موجود تھی ۔
“جی نہیں”۔” ابو نے صرف سر یوسف اور اُ ن کی وائف کو اِنوائٹ کیا تھا “۔۔۔ ۔ وہ منتہیٰ ہی کیا جو کسی کے مان لے۔
“تمہاری اطلاع کے لیے عرض ہے کہ ارمان بھائی کو رامین نے ہی نہیں خود اِرسہ نے بھی سپیشل اِنویٹیشن دیا تھا ۔”
“ویسے تم نے نوٹ کیا ۔۔آج ان کی خاصی گہری نگاہیں ہیں تم پر “۔۔ شرارت سے دیدے نچا کر فاریہ بھاگی ۔
اور آج ایک فاریہ نے ہی نہیں ارمان کے ساتھ بیٹھے اُس کے ممی ، پاپا نے بھی اس کی نظروں کی پسندیدگی نوٹ کی تھی۔ منتہیٰ کے کمر تک جھولتی گھنے بالوں کی چوٹی آج ارمان نے پہلی دفعہ دیکھی تھی ۔
“مجھے دیوانہ کرنے کے لیے تو آپ کا یہ گھناجنگل ہی کافی ہے “۔ ارمان کی بہکتی نظریں بار بار ایک ہی طرف اٹھ رہی تھیں ۔
رخصتی کے بعد رات دیر گھر پہنچ کر مریم کچن میں کافی بنا نے لگیں تو ڈاکٹریوسف وہیں ان کے پاس چلے آئے۔
“مبارک ہو تمہارے بیٹے نے افلاطون بیوی ڈھونڈ لی ہے “۔۔ مریم نے کافی پھینٹتے ہوئے اُنہیں مبارک باد دی
ڈاکٹریوسف ہنسے ۔۔ “کیسی لگی تمہیں منتہیٰ ؟؟؟”
“اچھی ہے ۔۔ سادہ مزاج ہے اور سلجھی ہوئی” ۔۔۔ مریم کو واقعی منتہیٰ پسند آئی تھی ۔۔۔” لیکن تم نے نوٹ کیا ارمان کو اُس نے لفٹ تک نہیں کرائی ۔۔”
“بھئی اچھی لڑکی جب مرد کی اپنی ذات میں پسندیدگی محسوس کرتی ہے ۔۔ تو خود ہی اپنے خول میں بند ہوکر چھپ جاتی ہے۔”
“تمہیں یاد نہیں جب میں آتا تھا ۔۔۔ تم ڈھونڈنے سے بھی کہیں نہیں ملتی تھیں “۔۔ یوسف کو اپنا وقت یاد آیا ۔۔۔
اور اُن کے اِن الفاظ پر کچن کی طرف بڑھتے ارمان کے قدم تھمے ۔۔ “یہ لو سٹوری۔۔ تو اسے آج تک پتا ہی نہیں تھی۔۔”
“جی نہیں میں کوئی آ پ سے نہیں چھپتی تھی ۔۔ مجھے تو کچھ پتا بھی نہیں تھا “۔۔۔مریم اَنجان بنیں
“لو میں تو ماموں کے گھر آتا ہی تمہارے لیے تھا “۔۔۔ یوسف نے شرارت سے اُن کا ہاتھ تھاما ۔۔
اُسی وقت ارمان کا سیل تھرتھرایا ۔۔۔” اَرحم کالنگ “۔۔۔اس نے زیرِ لب ایک موٹی گالی سے نوازکر سیل سائیلنٹ پر ڈالا
“یہ ہمیشہ غلط وقت پر ہی کال کرتا ہے “۔۔۔ ہونہہ ۔۔ پھر قدم اندر بڑھائے
“یہ تم چھپ کے کیا سن رہے تھے “۔۔ ممی نے اُس کی چوری پکڑی
“ممی سچ میں میرے گناہگار کانوں نے کچھ بھی نہیں سنا ۔۔۔ ویسے کیا کوئی خاص بات تھی “۔۔ ؟؟
“ارے نہیں۔۔ ہم بس ذرا مریم اور منتہیٰ کا موازنہ کر رہے تھے “۔۔ ڈاکٹر یوسف نے اُس پر گہری نظر ڈالی ۔۔
“اچھا تو پھر کتنی باتیں ایک جیسی ملیں آپ لوگوں کو “۔۔؟؟؟۔۔ وہ بھی کم ڈھیٹ نہیں تھا
“جتنی تمہارے اِن گناہ گار کانوں نے سنیں “۔۔ ممی نے اُس کا کان کھینچا ۔۔
ارمان کافی کا سپ لے کر ہنسا ۔۔ “چلیں پھر لگے رہیں آپ دونوں” ۔۔ “گڈ لک “۔۔ وہ جانے کے لئے اٹھا
“ارمان”۔ پھر ہم جائیں منتہیٰ کے گھر” ۔۔؟؟ ۔۔ مریم نے اُسے پیچھے سے پکارا
“ممی آپ کا دل چاہ رہا ہے تو ضرور جائیں ۔۔۔ واہ، کیا تجاہلِ عارفانہ تھے”۔۔ ڈاکٹر یوسف ہنسے
“میں پروپوزل لے کر جانے کی بات کر رہی ہوں “۔۔ مریم نے اسے آ نکھیں دکھائیں
“اُوہ اچھا “۔۔ “پھر مٹھائی ساتھ لے کر جائیے گا خالی ہاتھ نہیں جاتے “۔۔۔ اُس نے مڑے بغیر ہانک لگائی
“یہ کچھ زیادہ ہی ڈھیٹ نہیں ہو گیا “۔۔ مریم کو تاؤ چڑھا ۔
“ہاں۔ اپنے باپ پر گیا ہے نہ “۔۔۔یوسف نے شرارت سے دوبارہ ان کا ہاتھ تھاما ۔۔
“تم سے بہت شریف ہے وہ “۔۔ مریم نے غصے سے ہاتھ چھڑایا ۔۔
اور یہ بات تو ڈاکٹر یوسف بھی مانتے تھے ۔۔۔”پسندیدگی یامحبت ۔۔ ارمان جس سٹیج پر بھی تھا ۔۔ وہ منتہیٰ کا بے انتہا احترام کرتا تھا ۔۔”

*************

رامین نے ڈرتے ڈرتے منتہیٰ کے کمرے میں جھانکا ، جو سٹڈی ٹیبل پر لیپ ٹاپ کھولے کھٹا کھٹ ٹائپ کرنے میں بزی تھی
“آپی “۔۔رامین کی مرَی مرَی آواز بمشکل نکلی
“آپی وہ” ۔۔۔ منتہیٰ نے مڑ کر بغور اُسے دیکھا ۔۔ کیا بات ہے رامین ؟؟۔۔ لہجہ نرم تھا ۔۔ رامین کو حوصلہ ہوا
“ارمان بھائی کی کال ہے ۔۔و ہ کہہ رہے آپ سے کچھ ضروری بات کرنی ہے”۔۔ رامین نے بشمکل تھوک نگلا
منتہیٰ کی مٹھیاں بھنچی۔۔ چہرے پر سختی دَر آئی ۔۔ “کہہ دو میں مصروف ہوں۔۔”
“آپی وہ کہہ رہے اُنہوں نے ضروری بات کرنی ہے ۔۔”
“کہہ دو ۔۔میٹنگ میں کریں بات ۔۔”
“آپی آپ کب سے میٹنگ میں نہیں جا رہی “۔۔۔ رامین نے اسے جتایا
منتہیٰ نے غصے سے گھور کر سیل اُس کے ہاتھ سے چھینا ۔۔ “جی فرمائیے”۔۔ انداز پھاڑ کھانے والا تھا
“اسلام و علیکم “۔۔ “رامین کا موبائل اُسے واپس کر دیجئے ۔۔ میں آپ کے نمبر پر کال کرتا ہوں ۔۔ ارمان کا انداز ہمیشہ کی طرح شائستہ تھا “۔۔ منتہیٰ نے بہت غصے سے سیل کی سکرین کو گھورا ۔
“کیا ہوا ؟؟۔۔ “رامین نے حیرت سے دیدے پھاڑے
ٹھیک اُسی وقت منتہیٰ کے سیل پرکال آئی ۔۔۔ رامین نے کچھ سمجھتے ہوئے بھاگ نکلنے میں ہی عافیت سمجھی
“ہیلو منتہیٰ” ۔۔ “اِٹس می ۔۔ ارمان یوسف ۔۔ پلیز میرا نمبر سیو کر لیں”۔
“کیوں؟؟۔۔”۔ اُسی بدلحاظی سے جواب آیا
“کیونکہ آپ کو کبھی ضرورت پڑ سکتی ہے “۔۔۔ انداز بدستور خوشگوار تھا
“آپ کی اطلا ع کے لیے عرض ہے کہ تمام ونگ کمانڈرز کے نمبرز میرے پاس سیو ہیں” ۔۔ منتہیٰ کا لہجہ برفیلا تھا
“اوہ آئی سی” ۔۔ “آئی تھوٹ ۔۔ خیر مجھے آپ سے ایک پراجیکٹ کے بارے میں رائے لینی تھی “۔۔آپ کافی عرصے سے ویکلی میٹنگز سے بھی غائب ہیں ۔”یو نو واٹ کہ مون سون سیزن شروع ہونے والا ہے اور پنجاب کو سب سے زیادہ خطرہ دریائےستلج پر سیلاب سے ہوتا ہے جہاں سے انڈیا اپنے دریاؤں کا اضافی پانی چھوڑتا ہے “۔۔۔ ارمان نے کچھ ٹہر ٹہر کر منتہیٰ کوتفصیلات بتائیں۔۔
“پھر کیا سوچا ہے آپ لوگوں نے “منتہیٰ نے پوچھا۔۔؟؟
“یہ کام برین ونگ کا ہے منتہیٰ ۔۔ اور ونگ کمانڈر آ پ ہیں “۔۔ اب کے ارمان کا لہجہ کچھ درشت ہوا
“تو آپ ونگ کمانڈر تبدیل کر دیں “۔۔ اُس کا انداز اب کچھ اور خشک ہوا۔
“منتہیٰ”۔۔ ارمان کو جیسے کرنٹ لگا ۔۔ “کیا ہوا ہے آپ کو ۔۔کوئی بات بری لگی ہے”۔۔ ؟؟۔۔ وہ سمجھنے سے قاصر تھا
“ونگ کمانڈر کی حیثیت سے میں اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کر پائی ۔۔۔اس لیے آپ کسی اور کو کمانڈر بنا دیں” ۔۔اس کی آوازمیں اب بھی برف کی سی ٹھنڈک تھی۔۔!!
“کس کو بنا دوں “۔۔؟؟
“اگر ارمان یوسف ایک ہی ہے تو منتہیٰ دستگیر کا بھی کوئی نعم البدل ہمارے پاس نہیں ہے ۔ ۔ آپ کل سے میٹنگز میں آئیں گی ۔۔سمجھیں آپ “۔۔ انتہا ئی دُرشتی سے جھڑک کر ارمان کال کاٹنے لگا تھا کہ دوسری جانب سے آوا زآئی
“ورنہ”۔۔؟؟
“ورنہ “۔۔ ارمان ایک لمحے کو رکا ۔۔۔” ورنہ ہم آپ کے گھر آکر میٹنگ ارینج کریں گے اینڈ۔ یو نو نہ ۔۔ کہ ارحم اور فاریہ ہی نہیں ہم باقی ونگ کمانڈرز بھی کچھ کم ڈھیٹ نہیں ہیں ۔۔”
“جی آئی نو دیٹ ویری ویل ۔۔۔ ہونہہ ”
“تو پھر آپ آرہی ہیں یا ہم آئیں” ۔؟؟۔۔ ارمان نے زیرِ لب مسکراہٹ کے ساتھ پوچھا
دوسری طرف کچھ دیر خاموشی رہی ۔۔ پھر منتہیٰ گویا ہوئی ۔۔۔”دریائے چناب پر میری ریسرچ مکمل ہے ۔ میں آپ کو اس کی فائل میل کر رہی ہوں ۔۔”
“کوئی ضرورت نہیں ہے مجھے آپ کی میل کی “۔۔ بہت غصے سے جواب دیکر ارمان کال کاٹ چکا تھا
منتہیٰ نے شانے اچکائے ۔۔ پھر کچھ سوچتے ہوئے میل باکس لاگ اِن کر کے ۔۔ ارمان کو ای میل کی ۔۔ وہ مطمئن تھی ۔
اگلے روز شام کو وہ یونیورسٹی سے کچھ لیٹ گھر پہنچی ۔۔ اندر داخل ہوتے ہی ٹھٹکی
فاریہ ، پلوشہ ، ارحم ، صہیب میر ، شہریار، رامین ۔۔ وہ سب گھر کے چھوٹے سے لان میں جانے کب سے ڈیرہ ڈالے بیٹھے تھے ۔۔ان میں ارمان نہیں تھا ۔
اُس نے بہت تعجب سے ابو کودیکھا جن کے چہرے پر خوشگوار مسکراہٹ تھی ۔
پھر اَرحم چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا اُس کی طرف آیا ۔۔” جو بہنیں ، بھائیوں سے خفا نہ ہوں میں سمجھتا ہوں ۔کہ وہ بہنیں ہی نہیں ہوتیں ۔۔ یہ روٹھنا منانا تو آپس کا مان ہوتا ہے ۔۔۔ آپ سو دفعہ بھی ناراض ہوں ۔۔ ہم منانے آتے رہیں گے ۔”
اس نے ہاتھ میں پکڑا خوبصورت سا بُوکے اس کی طرف بڑھایا ۔
فاروق صاحب نے منتہیٰ کے شانے پر ہاتھ رکھ کر کہا ۔۔ “دیکھو تمہیں کتنے سارے بھائی ایک ساتھ ملیں ہیں”۔۔
اور کچھ سوچتے ہوئے منتہیٰ نے بُوکے تھاما۔
“یا ہووووووو”۔۔۔۔ رامین سمیت اُن سب کا مشترکہ نعرہ اس قدر جاندار تھا کہ اندر گہری نیند سوئی ہوئی منتہیٰ کی دادی ہڑبڑا کر اٹھیں اور ہولتی ہوئی باہر کو لپکیں۔
رات منتہیٰ کپڑے پریس کر رہی تھی کہ موبائل تھر تھرایا ۔۔۔ اُس نے سکرین دیکھی ۔۔
“ارمان یوسف کالنگ “۔۔ بیل جاتی رہی۔۔ دونوں ہی ڈھٹائی کا عالمی ریکارڈ اپنے نام کر نے کے دَر پر تھے ۔۔
کوئی ساٹھویں بیل پر زَچ ہو کر منتہیٰ نے کال ریسیو کی ۔۔ “ہیلو ”
اور دوسری طرف ارمان نے بے اختیار بہت گہرا سانس لیا ۔۔ “یہ دلِ مضطر اس کا کیا حشر کرنے والا تھا”۔۔ ؟؟؟
“ویل کم بیک منتہیٰ “۔۔
“میں ابھی میٹنگ میں گئی نہیں ہوں “۔۔ حسبِ توقع خشک جواب آیا
ارمان ہنسا ۔۔۔ “چلی جائیں گی انشا ء اللہ ۔۔ مجھے آپ کی میل پر کچھ پوائنٹس ڈسکس کرنا تھے ۔۔ میں نے ہائی لائٹ کر کے آپکومیل بیک کی ہے۔۔”
“جی۔ دیکھ چکی ہوں ۔۔”
“اوکے دیٹس گڈ ۔۔ پھر وضاحت کرتی جائیں۔۔ میں پچھلے تین روز سے چناب کے سائٹ ایریا پر ہوں ۔۔۔”
دریائے ستلج اور اس سے ملحقہ پنجاب اور سندھ کے وہ تمام علاقے جو عمو ماٌ مون سون سیزن میں سیلاب کی زد میں آتے ہیں کافی عرصے سے منتہیٰ کا ٹارگٹ تھے اور ان کے بارے میں اس کا پلان تقریباٌ مکمل تھا ۔۔ اس نے اپنے سامنے پڑے نوٹ پیڈ پر
ایک نظر ڈالی۔
ارمان نے جو پہلا پوائنٹ ہائی لائٹ کیا تھا وہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی مکمل نشاندہی تھا تاکہ جی ایس ونگ سے ان کے بارے میں مکمل معلومات لے کر سٹرٹیجی بنائی جا سکے۔
پاکستان میں دریائے سندھ کا طاس ایک وسیع رقبے پر پھیلا ہوا ہوا علاقہ ہے جس کے گرد بسنے والی پنجاب اور سندھ کی آ بادی سیلاب سے شدید متاثر ہوتی ہے مگر ہماری حکومتوں کی غفلت اور کوتاہی کا یہ عالم ہے کہ ہر دو تین برس بعد جب مون سون سیزن اپنی جوبن پر آتا ہے یا بھارت اضافی پانی دریائے ستلج میں چھوڑتا ہے ۔ اور بھپرے ہوئے سیلابی ریلے آبادی اور کھڑی فصلوںروندتے ہوئے گزر جاتے ہیں تب بھی دوسری جگہ آباد کاری کے لیے مناسب بندوبست نہیں ۔۔کیا جاتا اور سیلابی پانی اتر جانے کے بعد یہ مفلوک الحال ہاری انہی تباہ شدہ گھروں اور زمینوں کو آباد کرنے کے لیے لوٹ آتے ہیں ۔ کہ حکومت کی طرف سے راشن کی مہربانیاں صرف سیلا ب کے دنوں میں کی جاتی ہیں پھر چاہے لوگ فاقوں سے مرتے رہیں۔ کسی کے گھر میں ہفتوں چولہا نہ جل سکے ۔ کوئی ماں اپنے بھوک سے بلکتے معصوم بچوں کے ساتھ کنویں میں چھلانگ لگا لے ۔یا کوئی لاچار باپ سرِراہ پورے خاندان پر مٹی کا تیل چھڑ ک کر سب کو نذرِآتش کردے ، وہ کسی کا دردِسر نہیں ہوتے ۔
ہمارے اربابِ اختیار بے حسی کے مخملی تکیوں پر سر دھرے میٹھی نیندوں کے مزے لیتے رہتے ہیں ۔

*************

بہت دیر بعد ارمان نے کال بند کر کے گھڑی دیکھی ۔۔۔ یک دم جیسے اسے کرنٹ لگا ۔۔
“ایک گھنٹہ ۔۔ پورا ایک گھنٹہ ان کی بات ہوئی تھی ۔۔۔ ”
“تو گلیشیئرز کی برف اَب پگھلنے لگی ہے ۔۔۔۔گڈ لک ارمان یوسف “۔۔اس نے خود کو داد دی ۔
اگرچہ دو دن سے وہ سخت اذیت میں تھا ، اس گرمی، شدید حبس اور مچھروں کی بہتات کے ساتھ بمشکل رات کٹ رہی تھی۔ ان عذابوں سے نمٹنے کے لیے انہوں نے کچھ انتظامات بھی کیے تھے۔ مگر منتہیٰ سے طویل گفتگو کے بعد وہ تکیے پر سر رکھتے ہی یوں مزے سے سویا جیسے اس سے ا چھی نیند تو پہلے کبھی آئی ہی نہ تھی۔
رات کوئی تین بجے کا وقت ہوگا۔ جب کسی نے ارمان کو جھنجوڑ کے جگایا ، وہ عموماََ بہت الرٹ سوتا تھا اور ہلکی سی آہٹ پر بھی جاگ جاتا تھا ۔مگر اس روز ایسی گہری نیند تھی ۔۔اور اس نیند میں وہ حسین سپنا ۔۔
’’ایک بے انتہاء خوبصورت وادی میں صرف وہ دونوں تھے۔ارمان اور منتہیٰ ۔ایک ساتھ ہاتھ میں ہاتھ ڈالے۔۔قدم سے قدم ملاتے وہ جھیل کے نیلگوں پانیوں کی جانب بڑھ رہے تھے۔۔ کہ یکدم جھنجوڑے جانے پر لمحوں میں سارا فسوں ہواؤں میں بکھرتاچلا گیا ۔ آنکھیں کھول کر ارمان کو یہ ادراک کرنے میں کچھ لمحے لگے کہ جو کچھ وہ دیکھ رہا تھا ۔۔وہ خواب تھا ۔حقیقت نہ تھی ۔اور خواب تو تتلیوں کی مانند ہوتے ہیں جن کے پیچھے بھاگنا اور ان کا تعاقب کرنا تو اچھا لگتا ہے مگر جنھیں مٹھیوں میں قید نہیں کیا جاتا۔نازک آبگینے ہوتے ہیں جو ذرا سی ٹھیس پر چکنا چور ہوجاتے ہیں ۔پھر لاکھ چاہو بھی تو ایک دفعہ ٹوٹا سلسلہ کسی طور جوڑا تھوڑی جا سکتاہے۔‘‘
“نعمان “۔خیریت ؟؟۔ “اس وقت کیوں جگایا ہے”۔؟؟۔ ارمان نے حیرت سے سامنے کھڑے ساتھی سے پوچھا جس کے چہرے پر ہوائیاں اڑی ہوئی تھیں ۔
“نہیں سر”۔ “بالکل بھی خیریت نہیں ہے۔ حکومت کی طرف سے وارننگ جاری کی گئی ہے کہ انڈیا نےگزشتہ روز دریائے ستلج میں بہت زیادہ پانی چھوڑا ہے اور چند گھنٹوں میں ایک بڑے سیلابی ریلے کی آمد متوقع ہے۔۔ مسجدوں سے اعلان کروا کر فوری انخلا کروا یا جا رہا ہے”۔ نعمان نے تیزی سے اسے ساری صورتحال سے آگاہ کیا ۔
ارمان نے سختی سے آنکھیں بھینچی۔۔”ایک دفعہ پھر ڈیزاسٹر ان کی پلاننگ کا ستیا ناس کرتے ہوئے وقت سے پہلے آدھمکا تھا۔ ۔ جی آئی ایس ونگ کی رپورٹ کے مطابق فی الوقت بھارتی دریاؤں میں اونچے درجے کا سیلاب نہ تھا ‘ سو ان کے پاس چند ہفتے تھے ۔”
اگلے روز کا سورج دریائے ستلج ملحقہ آبادی پر قیامت ڈھاتا ہوا طلوع ہوا تھا ۔ایک بڑے سیلابی ریلے نے کیا کم تباہی مچائی تھی کہ شام تک ایک اور ریلے کی آمد کی خبر گویا تازیانہ ثابت ہوئی ۔

جاری ہے
*************

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں