The news is by your side.

Advertisement

آفاقی عشق کی لازوال داستاں – دوام

لوگوں کو محفوظ مقامات پر پہنچانے کے لیے پاک آرمی کے ہیلی کاپٹرز استعمال کیے جارہے تھے۔ اگرچہ ایس ٹی ای کے پاس اب تک ایسی کوئی سہولت موجود نہیں تھی مگر پھر بھی پچھلے تباہ کن سیلاب کی نسبت اب ان کے پاس کارکنان کی ایک بڑی تعداد اور ایک مکمل میڈیکل ونگ بھی موجود تھا‘جس میں پنجاب بھر کے میڈیکل کالجز کے طلبا و طالبات شامل تھے۔
’’ کیا ہر دفعہ ڈیزاسٹر ایک نئے طریقے سے ہماری سال بھر کی کوششوں پر پانی پھیرتا رہے گا ۔؟؟‘‘
سیلاب کی تباہ کاریوں کے چند دن بعد ہنگامی میٹنگ میں غازی ونگ کی موجودہ وائس کمانڈر امینہ علیم یہ سوال پوچھے بغیر نہیں رہ سکی۔
اس کی طرح کئی اور ونگ کمانڈرز اور متحرک کارکنان شدید مایوسی کا شکار تھے۔
ڈاکٹر عبدالحق اور ارمان کی بے ساختہ نگاہیں منتہیٰ کی جانب اٹھیں ۔اتنی جلدی ناامیدی اور ایسے مایوسانہ کمنٹس پر وہ سب سے پہلے آڑے ہاتھوں لیتی تھی مگر ابھی وہ لاتعلق سی اپنے آئی پیڈ پر مصروف رہی۔۔شاید اس لیے کہ وہ گذشتہ دو ماہ سے میٹنگز سے غائب تھی۔
“مس امینہ! قدرتی آفات صرف پاکستان ہی نہیں پوری دنیا کا مجموعی المیہ ہیں اور المیے رونما ہوتے رہتے ہیں ، ان پر نا امید ہوکر دل چھوڑ بیٹھنا بذد ل لوگوں کا کام ہے، اگر آپ ایک ونگ کمانڈر ہوکر اس طرح کی باتیں کریں گی تو کارکنان پر اس کے بہت برےاثرات مرتب ہوں گے۔اس وقت ہم سب کو ہمت اور حوصلے کے ساتھ اپنی عوام کا سہارا بننا ہے”۔۔ ڈاکٹر عبدالحق نے اسےرسان سے سمجھایا ۔
“مجھے معلوم ہے سر۔ مگر اس سب کے باوجود مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ قدرتی آفات انسان کے کنٹرول سے باہر ہوتے جارہے ہیں، چاہے امریکی ریاستوں میں تباہی و بربادی کی داستانیں رقم کرتے ٹورناڈو ہوں ۔ چین‘ بنگلا دیش ‘ پاکستان اور بھارت میں کثرت سے آنے والے سیلاب یا انڈونیشیا ، نیپال اور جاپان میں وسیع انفرا سٹرکچر کی تباہی کا باعث بننے والے زلزلے۔۔ترقی یافتہ ممالک بھی اپنے تمام تر وسائل کے باوجود ان کے سامنے بے بس ہیں


اسی ناول کی گزشتہ اقساط پڑھنے کے لیے کلک کریں


“مس امینہ۔ ہم ہاتھ پر ہاتھ دھر کر نہیں بیٹھ سکتے ۔۔ اپنے محدود وسائل کے ساتھ جو کچھ بھی ممکن تھا ہم نے اپنی عوام کے لیے کیا ہے اور ہم کرتے رہیں گے”۔۔پہلے ڈاکٹر عبدالحق اور اب ارمان کی سرزنش پر امینہ کچھ جز بز ہوئی۔یہ ارمان ہی تو تھا جس کےہمہ وقت ساتھ پر امینہ آج کل ہواؤں میں تھی ۔
“سر! ہمارے اعداد و شمار کے مطابق صرف اٹھارہ گھنٹوں میں سینکڑوں کیوسک پانی کا ریلا گذرا جو گذشتہ پچیس برس کے دوران کسی بھی سیلابی ریلے کی ریکارڈ تعداد ہے۔اندازاََ پچاس دیہات اور وسیع رقبے پر کھڑی فصلیں تباہ ہوئی ہیں جن سے ملکی جی ڈی پی پر گہرے منفی اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے”۔ شہریار نے اپنی رپورٹ ڈاکٹر عبدالحق کو پیش کی ۔
“منتہی ٰ یہ رپورٹ آگے کی پلاننگ میں آپکے بہت کام آئے گی” ۔۔ انہوں نے ایک سرسری نظر ڈال کر وہ منتہیٰ کی جانب بڑھائی۔
“سر! میرا خیال ہے کہ برین ونگ کو کمان کی تبدیلی کی اشد ضرورت ہے ۔ موجودہ سنگین صورتحال کی ایک بڑی وجہ برین ونگ کی غفلت ہے ۔۔ میں آج کوئی دو ماہ بعد ونگ کمانڈر کو میٹنگ میں دیکھ رہی ہوں “۔۔ امینہ کی توپوں کا رخ تبدیل ہوا۔
مس امینہ! میں آپ کی بات سے سو فیصد متفق ہوں اور یقیناََ یہ جان کر آپ کو خوشگوار حیرت ہوگی کہ کمان کی تبدیلی کا مشورہ میں بہت دن پہلے دے چکی ہوں۔ آپ لوگ کسی بھی ذہین اور فعال کارکن کو ہیڈ نامزد کر سکتے ہیں۔ جہاں تک موجودہ صورتحال کا تعلق ہے تو میں اپنی مکمل رپورٹ بمع تفصیلی کمنٹس سیلاب سے دو روز قبل ارمان یوسف کو دے چکی تھی ۔”
“اس کے علاوہ میں یہ بتانا ضروری سمجھتی ہوں کہ ہم میں سے اکثریت اس غلط سوچ کی حامل ہے کہ قدرتی آفات سے لڑنے کےلیئے وسیع ذرائع اور وسائل کی ضرورت ہے۔۔ اگر آپ طاقتور دشمن کے سامنے نہتے ہوں تو یقیناًمدد کے لیے اپنے دوستوں کو پکارتے ہیں اور پتا ہے کیا کہ ہمارا دوست کوئی اور نہیں اسی کرۂ ارض کا قدرتی سسٹم اور ماحول ہے۔ ہمارے سامنے اپنےدوست ملک چین کی مثال ہے کہ کس طرح انہوں نے ماحول دوست پالیسیز اور پلاننگ کے ذریعے بہت تھوڑے عرصے میں سیلاب سے نمٹنے کی سٹرٹیجی بنائی ۔”
“سر میں اس حوالے سے ایک پریذینٹیشن بنائی ہے جو میں دکھانا چاہوں گی “۔۔ منتہیٰ نے ڈاکٹر عبدالحق سے اجازت چاہی۔
چند لمحوں بعد کانفرنس ہال کے بڑے سے پراجیکٹر پر منتہی ٰ کی پریزینٹیشن پلے ہو چکی تھی۔
“ماحول دوست سسٹم، جنگلات کے کٹاؤ کی روک تھام اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں درخت لگاؤ مہم کا آغاز ۔۔جو چند سال بعد سیلاب کے لیے قدرتی ڈھال ثابت ہونگے۔۔ایک مکمل فلڈ ایکشن پروگرام۔۔اور دستیاب وسائل کی تمام علاقوں میں مساوی تقسیم۔۔ شمالی علاقہ جات کی طرح پنجا ب اور سندھ کے دور دراز مقامات میں وارننگ سسٹم اور ڈیزاسٹر سینٹرز کا قیام ۔۔ غرض یہ کہ کوئی ایسا نکتہ نہ تھا جو بیان نہ کیا گیا ہو۔”
پریزینٹیشن ختم ہوتے ہی فاریہ نے معنی خیز نگاہوں سے امینہ کی جانب دیکھا ۔۔ مگر یہ کیا اس کی سیٹ خالی تھی۔۔”وہ جاچکی تھی”۔
اس نے سامنے بیٹھے ارحم کو اشارہ کیا تو اس نے پوری بتیسی دکھائی ۔۔
’’ بچی بھول گئی تھی کی پنگا کس سے لے رہی ہے ۔ہماری آئرن لیڈی سے ۔‘‘۔ ارحم نے شہریار کی جانب جھک کر سرگوشی تو اس نےبمشکل اپنا قہقہہ ضبط کیا ۔۔
اور اس وقت ارحم ‘ فاریہ‘ شہریار اورارمان ہی نہیں ڈاکٹر عبدالحق کے چہرے پر بھی بہت دلکش مسکراہٹ تھی۔
’’ منتہیٰ دستگیر سے جیتنا کسی صورت ممکن نہ تھا ۔‘‘
**************
سیلاب کی ہنگامی صورتحال سے کسی حد تک نکلتے ہی ارمان نے پی ٹی سی ایل میں ریسیڈنٹ ہیڈکے طور پر ذمہ داریاں سنبھال لیں۔
ڈاکٹر یوسف مرتضیٰ کسی گہری سوچ میں غرق تھے جب اجازت لےکر منتہیٰ اندر داخل ہوئی ۔ ۔
“سر میں نے آپ کو ڈسٹرب تو نہیں کیا “۔۔؟؟؟
“باپ بیٹیوں سے کبھی ڈسٹرب نہیں ہوتے “۔۔ “یو آر اَیور ویلکم “۔ ۔۔۔
“سر مجھے ایم آئی ٹی کے سکالرشپ پر آپ کی تھوڑی سی راہنمائی درکار تھی ۔۔”
منتہیٰ پچھلے کچھ عرصے سے فارن یونیورسٹیز سے پی ایچ ڈی کے سکالر شپ کی کوششوں میں لگی ہوئی تھی۔ہارورڈ ، ایم آئی ٹی اور ییل دنیا کی قدیم ترین اور بہترین یونیورسٹیز میں شمار کی جاتیں ہیں جن میں تعلیم حاصل کرنا پاکستان کے ہرقابل
سٹوڈنٹ کا خواب ہے ۔۔ جتنی اعلیٰ یہ یونیورسٹیز ہیں اِنکا انتظام بھی اتنا ہی شاندار ہے ۔۔سٹوڈنٹس اگر باصلاحیت ہو تو یہ سکالر شپ اور امدادکے ذ ریعے اِس طرح تعاون کرتے ہیں کہ وہ ہر حال میں اپنی ڈگری لے کر نکلتا ہے ۔
منتہیٰ بھی ایم آئی ٹی کے سکالرشپ پر ہارورڈیونیورسٹی کے سکول آف آرٹس اینڈ سائنس میں ایڈمیشن کی تگ و دو میں لگی ہوئی تھی اور اسی سلسلے میں کچھ معلومات لینے آئی تھی ۔
لیکن ڈاکٹر یوسف کسی اور ہی سوچ میں تھے۔۔ ایک گہری سانس لیتے ہوئے انہوں نے ڈائریکٹ بات کرنا کی صحیح سمجھا ۔
“منتہیٰ بیٹا “۔۔ “میں اور مریم آپ کے گھر آنا چاہتے ہیں کسی روز” ۔۔؟؟
“موسٹ ویلکم سر ۔۔ آپ کا گھر ہے ضرور آئیں “۔۔ منتہیٰ کی آواز میں گرم جوشی تھی۔
“بیٹا ہم چاہتے ہیں کہ آپ کو اپنے گھر لیں جائیں ۔۔ اور یقین جانئے کہ یہ خواہش ارمان سے کہیں زیادہ میری اپنی ہے ۔۔”
ڈاکٹر یوسف کی جہاندیدہ نظریں اس کے چہرے پر تھیں ۔جو آنکھیں پھاڑے انہیں دیکھ رہی تھی ۔۔
“مجھے یقین ہے کہ آپ کے والدین کی طرف سے انکار نہیں ہوگا ۔۔ اس لئے میں آپ کی مرضی معلوم کرنا چاہتا ہوں ۔۔ اب آپ جائیں۔۔ مجھے سوچ کر جواب دیجئے گا ۔۔۔”
منتہیٰ مرے مرے قدموں سے باہر لان تک آئی۔۔ایم آئی ٹی سکالر شپ کا سارا جوش و خروش جھاگ کی طرح بیٹھ چکا تھا ۔۔
“یہ تیری شکل پر کیوں بارہ بج رہے ہیں” ۔۔”خیریت “۔۔؟۔۔ فاریہ اس کا لٹکا منہ دکھ کر ٹھٹکی ۔۔
“کیا ہوا سر یوسف نے ڈانٹا ہے کیا “۔۔؟؟
“نہیں “۔۔منتہیٰ نے گھنٹوں کے گرد ہاتھ لپیٹ کر منہ چھپایا ۔۔ فاریہ ایک دفعہ پھر ٹھٹکی۔۔ “دال میں ضرور کچھ کالا ہے”۔۔
“دیکھ پیاری “۔۔” میں جلد ہی پیا دیس سدھارنے والی ہوں ۔۔ آخری سمسٹر، نو سال کا ساتھ ہے ۔۔ مجھ سے مت چھپا”۔۔فاریہ کی اپنے کزن کے ساتھ شادی فائنل ایگزیمز کے بعد طے تھی ۔۔۔
“سر ۔۔ کہہ رہے تھے۔۔ پروپوزل لے کے آنا چاہتے ہیں “۔ منتہیٰ کو آخر کسی سے تو شیئر کرنا ہی تھا ۔
“پروپوزل “۔۔؟؟؟۔۔ فاریہ نے دیدے پھاڑے۔۔
“ارمان بھائی کا پروپوزل تمہارے لیے” ۔؟؟۔۔ فاریہ خوشی سے چلائی ۔۔
منتہیٰ نے اپنا لٹکا ہوا منہ اثبات میں ہلایا ۔۔
“یہ تو اتنی خوشی کی بات ہے نہ۔۔ پھر منہ کیوں لٹکایا ہے” ۔؟؟
“سر کی تو تم دیوانی ہو ۔۔ اور ان کا بیٹا تمہارا دیوانہ ہے “۔۔ فاریہ نے اسے شرارت سے چھیڑا ۔۔۔
اِس سے پہلے کہ منتہیٰ اسے ایک زور دار دھپ لگاتی ۔۔ اُن کے کچھ اور کلاس فیلوز وہاں آ چکے تھے۔۔ سو وہ خون کے گھونٹپی کے رہ گئی۔
**************
پھر چند ہی روز میں رشتہ طے کر کے منگنی کی تاریخ رکھ دی گئی ۔۔ اگرچہ سب کی خواہش تھی کہ منگنی سادگی سے چھوٹے فنکشن میں کی جائے ۔ لیکن سیو دی ارتھ کے لئے اس کے دو بانی کمانڈرز کا ملاپ ایک بہت بڑا ایونٹ تھا ۔۔ ڈاکٹر عبدالحق سمیت بہت سی نامور شخصیات نے اس محفل کو رونق بخشی تھی ۔
“دادی ٹھیک ہی کہتی تھیں۔۔ جو لڑکیاں ہمیشہ سادہ رہتی ہیں اُن پر پھر ٹوٹ کر روپ آتا ہے ۔۔ منتہیٰ کو ہاتھ میں گجرے پہناتے ہوئے رامین نے سوچا ۔
’’ میرون گولڈن کام والا فراک اور چوڑی دار پاجامہ ، ہلکی گولڈ جیولری ، ہاتھوں میں ڈھیر ساری چوڑیاں اور گجرے‘‘۔۔ منتہی ٰاپنے منگنی فنکشن پر یقیناٌ قیامتیں ڈھا رہی تھی ۔۔ ارمان نے دیکھا ۔۔ تو بس نظر ہٹانا ہی بھول گیا ۔
“ابے”۔۔ “نظر لگائے گا کیا “۔۔؟؟ ۔ارحم نے اسے ٹھوکا دیا ۔۔۔ تو جیسے وہ حال میں واپس آیا ۔۔ ممی ، پاپا بغور اس کی کیفیت کو نوٹ کر رہے تھے وہ قدرے جھینپا۔۔
“ڈارک بلیک سوٹ ‘ میرون لائنر ٹائی ‘ اُس کی گریس فل پرسنالٹی جو ہر جگہ چھا جایا کرتی تھی ‘ آج منتہیٰ کے ساتھ بیٹھ کرمکمل تھی ۔’’بے شک وہ ایک دوسرے کے لیے ہی بنائے گئے تھے۔‘‘
فنکشن سے گھر لوٹ کر بہت رات کو تھکن سے نڈھال ‘ منتہیٰ نے تکیے پر سر رکھ کر خود کو ٹٹولا ۔” کیا وہ خوش تھی “۔۔۔؟؟
“ہاں میں بہت خوش ہوں کیونکہ یہ میرے بڑوں کا فیصلہ ہے “۔۔ اُس نے مطمئن ہوکر آنکھیں موندیں۔۔۔
تب ہی اس کا سیل تھرتھرایا۔۔” ارمان کالنگ” ۔۔
“یہِ اس نے لیٹ نائٹ کیوں کال کی ہے “۔۔؟؟ منتہیٰ کا پارہ چڑھا ۔۔ حسبِ عادت چالیسویں بیل پر کال ریسیو کی ۔ ارمان اب عادی ہوتا جا رہا تھا ۔۔۔
“ہیلو “۔۔ “ٹائم دیکھا ہے آپ نے “۔۔ ؟؟ ۔۔انداز پھاڑ کھانے والا تھا۔۔
“جی ایک بج کر پانچ منٹ اور پندرہ سیکنڈ” ۔۔ ارمان نے انتہائی سکون سے ٹائم بتایا
“ٹائم مجھے بھی پتا ہے۔۔ یہ وقت ہے کسی کو کال کرنے کا “۔۔؟؟
“وہ میں آپ کو منگنی کی مبارکباد دینا بھول گیا تھا “۔۔ ارمان نے وضاحت کی
“بادام کھایا کریں آپ “۔۔ ٹھک سے جواب آیا
“بادام “۔۔ ارمان نے بمشکل اپنا قہقہہ ضبط کیا ۔
“اچھا کتنے بادام کھایا کروں روز “۔۔؟؟ ۔۔وہ خاصہ محفوظ ہوا تھا
“جتنے دل چاہے۔۔ کھا لیں “۔۔ اس نے جل کر جواب دیا
“ہمم”۔۔ “لیکن یہ بھی تو ہوسکتا ہے کہ۔۔ میں زیادہ بادام کھا جاؤں اور میری میموری کچھ زیادہ ہی بوسٹ کر جائے”۔۔ ارمان نےخدشہ ظاہر کیا ۔
“تو کیا ہوا ۔۔ آپ آئن سٹا ئن کا آئی کیو ریکارڈ توڑ دیجئے گا “۔۔حسبِ توقع جلا کٹا جواب حاضر تھا
“ہمم”۔۔ “لیکن یہ بھی تو ممکن ہے کہ آج جن لوگوں کو میں بھول گیا ۔۔ میموری بوسٹ کے بعد وہ لوگ مجھے کچھ زیادہ یاد آنے لگ جائیں “۔۔ ارمان کے لہجے میں بے پناہ شرارت تھی ۔۔
منتہیٰ نے غصے سے گھور کر سیل کی سکرین دیکھی ۔۔ “پھرِ اس میں بادام کا قصور نہیں ۔۔ آپ کی میموری میں کوئی ٹیکنیکل فالٹ ہے ۔ہونہہ ۔۔”
“اچھا تو پھر مجھے کیا کرنا چاہئے “۔۔۔؟؟ ۔۔تیزی سے سوال آیا
“کسی سائیکاٹرسٹ یا نیورولوجسٹ کو دکھائیں آپ ۔۔ ”
“گڈ”۔۔” تو پھر کب کا اپائنمنٹ دی رہی ہیں آپ “۔۔؟؟
“ہیں”۔۔؟؟ “کیا مطلب کیسا اپائنمنٹ”۔۔؟؟ منتہیٰ حیران ہوئی
“مجھے اپنے میموری فالٹ کے لئے آپ سے اچھا سائیکاٹرسٹ اور کون ملے گا ۔۔”
“مل جائے گا ۔۔ گوگل کر لیں ۔۔ اور پلیز مجھے سونے دیں “۔۔ مینا کی کجراری آنکھیں نیند سے بوجھل تھیں
“اُوکے ٹھیک ۔۔ آپ سوئیے۔۔ اور وہ جو آئن سٹائن آئی کیو ریکارڈ والا آپشن ہے نہ‘ اُس سے میں دست بردار ہوتا ہوں”۔۔”آپ کے لئے “۔۔۔
“میرے لئے کیوں “۔۔؟؟۔۔ منتہیٰ کا پارہ پھر چڑھنے کو تھا ۔
“اِس لئے کہ آپ مجھ سے بہتر ڈیزرو کرتی ہیں ۔ یہ ریکارڈ بھی آپ توڑیں اور مزید نئے بنائیں ۔ میرا بھرپور تعاون تا عمر آپ کے ساتھ رہے گا “۔ مضبوط لہجے میں جواب دے کر ارمان کال کاٹ چکا تھا
منتہیٰ نے ایک لمحے کو سیل کی سکرین دیکھی ۔۔” وِل سِی ۔۔ارمان یوسف ۔۔ چند ہی منٹوں بعد وہ گھری نیند میں تھی ۔۔
“لیکن اُس رات ۔۔ ارمان کو بہت مشکل سے نیند آئی تھی ۔۔۔”
**************
سیو دی ارتھ کا ریموٹ سینسنگ اور جی آئی ایس ونگ ،این ای ڈی یونیورسٹی کراچی کے جیو انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کے تعاون سےایک ایسے پراجیکٹ پر کام کا آغاز کر چکا تھا جس سے زیرِ زمین ہی نہیں ۔ زمین کے انوائرمنٹ اور آئینوسفیئر میں تیزی سے ہونے والی تبدیلیوں پر ریسرچ کر کے ان پر قابو پانے کے لیے کوئی ٹیکنیک ڈیویلپ کی جا سکے ۔
اس پراجیکٹ کو این ای ڈی یونیورسٹی کے سینئر اساتذہ کے ساتھ ڈاکٹر عبدالحق بذاتِ خود ہیڈ کر رہے تھے اور ہمیشہ کی طرح منتہی ٰانکی معاون تھی ۔
انجینئرنگ فیلڈ میں نا ہونے کے باوجود۔۔ منتہیٰ جس طرح پھرتی اور کامیابی کے ساتھ کسی بھی ٹیکنالوجی کی گہرائی تک پہنچ کر اس کا بھرپور تجزیہ کر کے نئے پوائنٹس سامنے لاتی تھی اُس سے این ای ڈی یونیورسٹی کے اساتذہ بھی حیران تھے ۔
ایک سو بیس کا آئی کیورکھنے والی یہ لڑکی گزشتہ چار پانچ سال سے ٹیکنالوجی کےُ ان رازوں کی تلاش میں سرگرداں تھی ۔۔ جو ایک طرف ہارپ کی حیرت انگیز نا قابلِ بیان سرگرمیوں کے پردے فاش کرتے تھے تو دوسری طرف امریکہ ، یورپ ، آسٹریلیا سمیت دنیا بھر میں قدرتی آفات کی تیزی سے بڑھتی ہوئی شرح کی اندرونی خفیہ کہا نیوں کے امین بھی تھے ۔
ایشیائی باشندوں کی اکثریت تو ابھی تک ’ہری کین کترینہ ‘کی پسِ پردہ کہانیوں سے ہی نا بلد ہے ۔۔ جبکہ چیم ٹرائلز‘ آرٹیفیشل پلازمہ‘ ہارپ رنگز‘دراصل دنیا کی نظر سے پوشیدہ وہ خفیہ حقیقتیں ہیں ۔ جو بڑھتی ہوئی گلوبل وارمنگ کا اصل سبب ہیں۔۔ جن سے ایک طرف انٹارکٹیکا کے گلیشیئرز تیزی کے ساتھ پگھل
کر پورے براعظموں کو غرقِ آب کرنے کے در پر ہیں ، تو کہیں سورج سوا نیزے پر آکر دماغوں کے اندر خون کو بھی کھولائےدے رہا ہے ۔۔، کہیں شدید گرمی نظامِ زندگی مفلوج کر دینے کے در پر ہے ۔۔، تو کہیں طوفان، ٹورناڈوز ، سونامی اورسیلاب بستیوں پر بستیاں اجاڑ رہے ہیں ۔
’’یہ پیاری زمین اللہ تعالیٰ کی اپنوں بندوں پر بے پایاں رحمت ہی نہیں ، انمول انعام بھی تھی ۔جو انسانی سرگرمیوں کے سبب بہت تیز ی کے ساتھ ایک ایسے آتشیں گولے میں تبدیل ہوتی جا رہی ہے جو کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے ۔۔ اور ناسا شاید اسی صورتحال کو بھانپ کر دوسرے سیاروں ، کہکشاؤں پر کمندیں ڈال کر زمین جیسے کسی سیارے سپر ارتھ کی تلاش میں سرگرداں ہے، سائنس اور ٹیکنالوجی کی یہ ترقی ان جینیئس مائنڈز کو اربوں ، کھربوں نوری سالوں کے فاصلے پر واقع کہکشا ؤں تک لے گئی ہے ۔لیکن اِن کے کند شیطانی ذہنوں میں اتنی سی بات نہیں سماتی کہ زمین جیسا کوئی سیارہ ڈھونڈے کے بجائے اِسے ہی کیوں نہ محفوظ بنا لیا جائے ۔‘‘
’’اور منتہیٰ دستگیر کا مشن ابھی ادھورا تھا”۔۔ “اُس نے زمین کو اِن نا خداؤں سے بچانے کا عزم کیا تھا “۔۔ وہ ایک بھرپور پلان تشکیل دے چکی تھی ۔۔وہ دیوانی لڑکی اوکھلی میں سر دینے جا رہی تھی ‘ جہا ں خطرات بے پناہی تھے‘ لیکن اُسے لڑنا تھا ۔‘‘

جاری ہے
*************

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں