آفاقی عشق کی لازوال داستاں – دوام -
The news is by your side.

Advertisement

آفاقی عشق کی لازوال داستاں – دوام

“جنت شاید کوئی ایسی ہی جگہ ہوگی ۔۔۔”
سوات اور کالام میں ہر سو بکھرے حسن کو دیکھ کر فاریہ بے اختیار بول اٹھی ۔۔
“لیکن اس جنتِ ارضی کو انسان کس طرح جہنم بنا رہا ہے ۔۔ اِس پر بھی غور کرو”۔۔ منتہیٰ کا مدلل جواب حاضر تھا۔
“پوائنٹ ٹو بی نوٹڈ”۔۔ فاریہ نے کسی فلاسفر کی طرح سر ہلایا ۔۔
وہ گزشتہ ایک ہفتے سے دیر ، سوات ، بالا کوٹ اور ملحقہ علاقوں کی خواتین میں اویئرنیس کمپین ( شعور و آ گہی کی مہم )چلانے کے لیےرامین ، پلوشہ ،سنبل غازی ونگ کی کئی اور لڑکیوں کے ساتھ آئی ہوئی تھیں ۔
اگرچہ وہ غازی ونگ میں نہیں تھیں پر ارمان اور ڈاکٹر عبدالحق کے اسرار پر منتہیٰ کو ساتھ آن پڑا تھا کیونکہ ایس ٹی ای کے خواتین ونگ کی شمالی علاقہ جات کے دور دراز علاقوں میں یہ پہلی کمپٔین تھی۔ان علاقوں کی خواتین شرحِ خواندگی کم ہونے کے باعث زلزلے یا سیلاب کی ہنگامی صورتحال میں احتیاطی تدابیر سے لا علم تھیں،منتہیٰ اور برین ونگ کے چند دیگر کمانڈرزکا آئیڈیا تھا کہ خواتین ممبرز گھر گھر جا کر ان میں آفات سے ازخود نمٹنے کا شعور پیدا کرنےکی کوشش کریں تاکہ وہ بروقت اپنی اور بچوں کی جان بچا سکیں۔ پچھلے تباہ کن زلزلے کے اعداد و شمار کے مطابق اموات میں بچوں اور خواتین کی تعداد سب سے زیادہ تھی۔


اسی ناول کی گزشتہ اقساط پڑھنے کے لیے کلک کریں


وہ گروپس کی صورت میں مختلف علاقوں میں علی الصبح نکل جاتیں اور سارا دن در در کی خاک چھان کر واپس کیمپس لوٹ آتیں۔
“ہم ایک لا حاصل مقصد کے پیچھے خوار ہو رہے ہیں “۔۔ کمپین کے چھٹے روز تھکی ہاری کیمپ پہنچ کر فاریہ پھٹ پڑی
“خیریت کیا ہوا ؟؟ “۔ارمان قریب ہی ایک اونچے پتھر پر بیٹھا چائے پی رہا تھا
“کیا ہوا ؟۔۔یہ پوچھیے کہ کیا نہیں ہوا ۔۔”
“ہم سارا دن بمشکل پانچ خواتین سے ملاقات کر پائے ۔۔ جس گھر پر دستک دو، وہاں خونخوار سے بڑی بڑی مونچھوں والے آدمی نکل کر ہمیں یوں مشکوک نظروں سے گھورتے ہیں۔۔ جیسے ہم داعش کی نمائندہ ہوں “۔رامین بہت اَپ سیٹ تھی
“اور جن خواتین سے ہمیں کسی نہ کسی طرح شرفِ ملاقات نصیب ہوا ۔۔ اُن کے پلے ہماری بات نہیں پڑ تی ۔۔۔ پلوشہ نےانہیں مقامی زبان میں ہر طرح سمجھانے کی کوشش کی مگر ہماری باتیں اُن کی سمجھ سے باہر ہیں “۔۔ سنبل نے بھی بھڑاس نکالی
“تو پھر ہمیں کیا کرنا چاہئے ؟؟”۔۔ ارمان نے باری باری اِن سب کے ستے ہوئے چہروں کو دیکھا
“بس ہم کل سے کمپین پر نہیں جائیں گے “۔۔ رامین نے جیسے فیصلہ صادر کیا
“گرلز اتنی جلدی ہمت ہار بیٹھی، ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں”۔ ارحم نے دانت نکالے
“ٹھیک ہے پھر کل سے آپ خود جائیے گا ، دیکھتے ہیں کتنے پانی میں ہیں آپ”۔۔ ہونہہ ۔ فاریہ کا چہرہ غصے اور تھکن سے سرخ تھا۔
“میں اس وقت گھٹنوں گھٹنوں پانی میں ہوں آپ لوگ چاہیں تو پیمائش کر سکتی ہیں۔ ارحم نے جو چشمے کے کنارے پانی میں پاؤںمیں ڈالے بیٹھا تھا “۔۔۔ فاریہ اور رامین کو مزید طیش دلایا ۔
“ہاں ٹھنڈے پانی میں پاؤں ڈالے بیٹھے ہیں ، سارا دن گرمی میں خوار ہونے پڑے گا نہ تو نانی یاد آجا ئے گی ۔”
“نانی اماں میری کب کی جنت کو سدھار چکی ہیں ، مگر یاد کرنے کے لیے کچھ اور لوگ بھی ہیں میری زندگی میں ۔ ارحم نے ایک سردآہ بھری”۔۔ “اس دشت پیمائی میں یونیورسٹی کی’’ راحتیں ‘‘اسے بہت یاد آرہی تھیں۔”
“بے فکر رہ ! جب تو واپس لوٹے گا نہ تو وہ ساری ۔ کہیں اور بندوبست کر چکی ہوں گی”۔ ارمان نے اس کے قریب جاکر ایک دھپرسید کی۔ اگرچہ منتہیٰ ان سے کچھ فاصلے پر تھی، مگر ان کی نوک جھونک اس تک پہنچ رہی تھی۔
“تو بھی کچھ لوگوں کی زیادہ فکر مت کیا کر ۔ اب ہم ان کی وجہ سے سقراط تو بننے سے رہے”۔ ارحم نے جھک کر سرگوشی کی۔تو ارمان نےکھا جانے والی نظروں سے اسے دیکھا ۔
“میم منتہیٰ”۔ “آپ کیا کہتی ہیں اس بارے میں ، کیا اتنی جلدی ہمت ہار بیٹھنا عقل مندوں کا کام ہے”۔ ارحم نے منتہیٰ کو قدرے اونچی آواز میں مخاطب کیا ۔فاریہ کا بس نا چلتا تھا کہ ارحم کا قتل کردے۔اسے معلوم تھا منتہیٰ ہارتی نہیں ہے وہ آخری حد تک جانے والوں میں سے تھی۔
“ہمارا ٹاسک لا حا صل ہر گز نہیں ہے لیکن قبل از وقت ضرور ہے ‘‘ ۔۔’’یہاں کی عورتوں میں آگاہی اور شعور بیدار کرنے سےپہلے ہمیں اِن کے مردوں کی سوچ تبدیل کرنا ہوگی ۔۔ ورنہ غالب امکان یہ ہے کہ ۔۔ اِس طرح کی کوششوں سے ہم دوست کے بجائے اِنہیں اپنا دشمن بنا لیں گے ۔۔ کیونکہ یہاں کے لوگ بیوی ہی نہیں ماں ، بہن اور بیٹی کی گردنیں بھی گاجر،مولی کی نسبت زیادہ آسانی سے کاٹتا ہے‘‘۔ فاریہ کی توقع کے بر عکس منتہیٰ کا جواب خاصہ مدلل تھا۔
رامین ، سنبل وغیرہ نے باقاعدہ تالیاں بجا کر منتہیٰ کا پوائنٹ سیلبریٹ کیا ۔
“چلیں جی ۔ کل سے ایس ٹی ای کے میل کمپین شروع ہوگی اور ہم چشمے کے ٹھنڈے پانیوں کو ناپا کریں گے”۔ فاریہ نے حساب چکتا کیا۔
ان کی نوک جھونک اب رات تک یونہی چلتی رہنی تھی، سو انہیں نظر انداز کرتا ہوا ارمان، چائے کا مگ ہاتھ میں لیئے منتہیٰ سے کچھفا صلے پر جا کر بیٹھا ۔
میرے خیال میں ہمیں کچھ دن میل اور فی میل کی مشترکہ مہم چلانی چاہیئے، اس سے ناصرف آپ لوگوں کو تحفظ اور سپورٹ ملے گی بلکہ ہمیں مستقبل میں کمپین کے لیے صحیح آئیڈیا بھی ہو سکے گا ۔
“جی ۔ لیکن میرے خیال میں اس کے ساتھ یہاں اپنے پہلے ڈیسازٹر سینٹر کا بھی آغاز کر دینا چاہیئے ۔ اس سے ایک تو یہاں کے لوگوں کا ہم پر اعتماد بڑھے گا ، اور دوسرے مقامی افراد کی بھرتی سے ہم گھر گھر جانے کی زحمت سے بچ جائیں گے۔ لوگوں
کو ایک جگہ جمع کرکے کینوینس کرنا زیادہ آسان بھی ہے اور فائدہ مند بھی” ۔
ارمان نے اسکی بات ختم ہوتے ہی اثبات میں سر ہلایا ۔
************
ان کے پاس وقت کم تھا کیونکہ خواتین ممبران کا زیادہ عرصے تک ان علاقوں میں قیام ممکن نہیں تھا ، سو ارمان نے چند ساتھیوں کے ساتھ مل کر اگلے تین روز میں کرائے پر ایک نیم خستہ گھر لے کر آفس بنانے کی تیاریاں شروع کیں ۔
پہلے مرحلے میں انھیں لوگوں کو یہاں جمع کرکے اپنے مقاصد سے آگاہ کرنا تھا جس کے لیے زیادہ دفتری لوازمات کی ضرورت نہیں تھی ۔
اگلے روز ارمان ناشتے کے بعد اپنا لیپ ٹاپ لیے بیٹھا پریزینٹیشن بنا رہا تھا ۔۔کہ بھاری بھرکم جسامت والا ایک شخص اچانک وارد ہوا ۔ ان کے کچھ ساتھی گروپس کی صورت میں گھر گھر مہم پر روانہ ہوچکے تھے جبکہ باقی ابھی کیمپس میں تھے۔
“اسلام و علیکم ‘‘۔ “میرا نام خوشحال ہے “۔۔نو وارد نے تعارف کروا کر خوشدلی سے مصافحہ کے لیے ہاتھ بڑھایا ۔ ارمان نے ہاتھ ملاتے ہوئے اسے بغوردیکھااس کا صاف اردو لہجہ چونکا نے والا تھا ۔ کیونکہ وہ دیکھنے میں مقامی لگتا تھا۔
“کیا مجھے آپ کے اس آفس کے قیام اور مقاصد کے متعلق کچھ معلومات مل سکتی ہیں ؟؟”
ارمان نے کافی دیر تک پوسٹرز اور لیپ ٹاپ پر سلائیڈز کی مدد سے خوشحال خان کو مکمل بریف کیا ۔ اس کی چھٹی حس جو ہمیشہ سےبہت تیز رہی تھی، ایک دفعہ پھر کہتی تھی یہ بندہ مستقبل میں ان کے بہت کام آنے والا ہے ۔
“میں اسی علاقے کا رہائشی ہوں لیکن تعلیم اور ملازمت کے سلسلے میں مختلف شہروں میں قیام رہا ہے۔۔گذشتہ ہولناک زلزلے کے بعد میں یہاں لوٹا تو میرے آبائی گھر سمیت سب کچھ فنا ہو چکا تھا ۔ تب سے میں وقتاَ فوقتاَ یہاں آ کر آفت زدہ لٹے پٹے اپنے رشتہ داروں کی کچھ مدد کر جایا کرتا ہوں ۔ مجھے بہت خوشی ہے کہ جو کام ہماری حکومت کرنے میں ناکام رہی ۔ اسےکرنے کا بیڑہ اب عوام نے اٹھایا ہے‘‘۔
“میرا بھر پور تعاون آپ کے ساتھ ہے”۔۔ اپنا وزیٹنگ کارڈ ارمان کو تھماتا ہوا وہ شخص جا چکا تھا ۔
ارمان نے کرسی واپس سنبھالتے ہوئے ایک نظر کارڈ پر ڈالی، پھر زور سے اچھلا ۔
“خوشحال خان‘‘ ۔ “وہ کراچی سٹاک ایکسچینج کا ایک معروف تاجر تھا ۔”
************
شام ڈھلے جب سارے ساتھی تھکے ہارے کیمپس واپس لوٹے تو اس روز چائے کے ساتھ کچھ ہلکے پھلکے لوازمات بھی ان کے تھے ۔
“یاہو۔۔ ٹریٹ۔۔ “۔فاریہ اور ارحم نے ایک ساتھ نعرہ لگایا
“ارمان بھائی زندہ باد “۔۔ رامین کب کسی سے پیچھے رہنے والی تھی ۔ جب سے گھر کے عیش و آسائش چھوڑ کر نکلے تھے سادہ کھاناہی مل رہا تھا۔
“ویسے یہ ٹریٹ ہے کس خوشی میں ۔۔؟؟”۔ صہیب نے پورا سموسہ منہ میں ٹھونستے ہوئے دیدے نچائے، بھوک سے سب کا برا حال تھا ۔
“یہ ہمارے ایک نئے خیر خواہ کی طرف سے دی گئی ٹریٹ ہے ۔آج رات کے کھانے پر ہم ان کے گھر پر مدعو ہیں “۔ ارمان نے ان کو ساری تفصیل بتائی۔
فاریہ، رامین اور پلوشہ نے ایک ساتھ زوردار نعرہ لگایا۔ چلو یہاں کوئی کام کا بندہ تو ملا ۔
“تم لوگوں نے اگر یہی حرکتیں کرنی ہیں تو ہم تمہیں ہر گز ساتھ نہیں لے کر جائیں گے “۔منتہیٰ نے تنبیہی نظروں سے انہیں گھورتے ہوئے ڈانٹا۔
ارحم اور شہریار نے بمشکل اپنا اونچا قہقہہ ضبط کیا۔۔ ورنہ خدشہ تھا کہ ان کو بھی بین کر دیا جاتا ۔
“آپی۔ اب کیا ہم خوش بھی نہیں ہوسکتے۔؟ “۔رامین نے منہ بسورا ۔
“خوش ہونے کا یہ کونسا انداز ہے؟؟ “۔۔”تم لوگ اپنے گھر کے بیڈروم میں نہیں بیٹھی ہوئیں ۔ سمجھیں۔۔”
ارمان نے دلچسپی سے ساری لڑکیوں کے اترے چہروں کو دیکھا ۔پھر ایک گہری نظر منتہیٰ پر ڈالی۔
وہ کیمپس کے قریب پہاڑی جھرنے کے ٹھنڈے پانی میں اپنے دود ھیا پاؤں ڈالے بیٹھی تھی ۔۔۔ دن بھر کی کوفت اور تھکن سے اُس کا سپید چہرہ قدرے سرخ تھا ۔۔۔ ارمان اُسے دم بخود دیکھے گیا ۔
“اور زندگی میں کچھ لمحے آتے نہیں۔۔ بلکہ دلوں پر وارد ہوتے ہیں ۔۔ ایسا ہی ایک لمحہ اُس روز ارمان یوسف کی زندگی میں بھی آیا تھا ۔ وہ جھرنے سے کچھ فاصلے پر ایک اونچے پتھر پر بیٹھا ہوا تھا پھر بھی کوئی پھوار سی اُسے شرابور کرتی چلی گئی تھی۔”
“وہ بے خبر تھا ۔۔آج جو بیڑیاں اُس نے با خوشی اپنے پاؤں میں بندھوائی ہیں اب اُسے تا عمر ان کا اسیر رہنا تھا ۔”

تم نے دیکھی نہیں عشق کے قلندر کی دھمال
پاؤں پتھر پہ بھی پڑ جائے تو دُھول اڑتی ہے

جاری ہے

***********

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں