The news is by your side.

Advertisement

ڈان لیکس کیا ہے؟ ابتدا سے اختتام تک، مفصل رپورٹ

ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے حکومت کی جانب سے ڈان لیکس رپورٹ پر جاری اعلامیہ کو مسترد کرنے سے متعلق اپنی سابقہ ٹوئٹ کو واپس لیتے ہوئے کہا ہے کہ وزارت داخلہ کی جانب سے جاری نئے اعلامیے سے ’’نامکمل ‘‘چیز ’’مکمل‘‘ ہو گئی ہے اور اس حوالے سے حکومت کی کاوشوں کو سراہتے ہیں جب کہ  کسی بھی معاملے میں وزیراعظم کا فیصلہ حتمی ہے۔

اس سے قبل آج ہی وزرات داخلہ کی جانب سے ڈان لیکس انکوائری بورڈ کی سفارشات  پر عمل در آمد کے حوالے سے نیا اعلامیہ جا ری کردیا گیا جس میں کہا گیا کہ وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری راؤ تحسین خبر کی اشاعت روکنے میں ناکام رہے  ہیں جنہیں عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے جب کہ معاون طارق فاطمی کا بھی عہدہ تبدیل کردیا گیا ہے۔

یوں اس قومی سلامتی سے متعلق حساس معاملے پر عسکری اور سیاسی قیادت میں تناؤ کے دعوی داروں کو ناکامی کا سامنا کرنا پرا اور لگتا ایسا ہے کہ دونوں قیادت میں معاملات افہام و تفہیم سے طے پا گئے ہیں جس کا اعتراف خود ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھی کیا اور کہا کہ پاک فوج بھی جمہوری حکومت کی اتنی ہی تائید کرتی ہے جتنا کہ ایک عام پاکستانی کرتا ہے۔

آیئے جانتے ہیں کہ آخر یہ ڈان لیکس ہے کیا ؟ اور یہ معاملہ کب منظر عام پر آیا اور تب سے اب تک اس میں کیا کیا پیشرفت ہوئی ہیں اور کیا واقعی یہ معاملہ اپنے منطقی انجام تک پہنچ گیا ہے یا آئندہ یہ معاملہ کوئی نیا رخ اختیار کر سکتا ہے۔

ڈان لیکس ہے کیا؟


انگریزی اخبار ڈان میں صحافی سرل المیڈا کی جانب سے چھ اکتوبر کو وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والے اجلاس سےمتعلق دعوی کیا گیا کہ اجلاس میں کالعدم تنظیموں کے معاملے پر عسکری اور سیاسی قیادت میں اختلافات سامنے آئے جس پر سیاسی اور عسکری قیادت نے سخت ردعمل دیتے ہوئے قومی سلامتی کے منافی قرار دیا۔

سیاسی و عسکری قیادت کے ساتھ ساتھ دانشور طبقہ، طلبا، ملازم پیشہ افراد اورعوام نے بھی اس خبر کی اشاعت پر تحفظات کا کھل کر اظہار کیا اور ہر خاص و عام میں زیر بحث قومی سلامتی کے منافی اس خبر کو کسی نے ’’ڈان لیکس‘‘ کا نام دیا تو کہیں میمو گیٹ سے مماثلت کی بناء پر ’’نیوز گیٹ‘‘کے نام سے بھی پکارا گیا۔

وزیراعظم نے قومی سلامتی کے منافی خبر کو من گھڑت قرار دیا 


خبر کی اشاعت کے بعد اس وقت کے آرمی چیف جنرل راحیل اور آئی ایس آئی کے سربراہ رضوان اختر نے وزیراعظم سے ملاقات کی اس دورن وزیر داخلہ ، وزیر خزانہ اور وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف بھی موجود تھے۔

وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والی اس ملاقات میں قومی سلامتی سے متعلق حساس خبر کو میں گھڑت قرار دیتے ہوئے اس کے ذمہ داران کا تعین کر کے سخت کارروائی کا فیصلہ کیا گیا۔

سیاسی و عسکری قیادت کی ملاقات کے بعد جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ اجلاس کے شرکاء اس بات پر مکمل طور پر متفق تھے کہ یہ خبر قومی سلامتی کے امور کے بارے میں رپورٹنگ کے مسلمہ اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

صحافی سرل المیڈا کے بیرون ملک سفر پر پابندی لگادی گئی


قومی سلامتی کے منافی خبر کی اشاعت کے ذمہ داروں کا تعین کرنے اور قرار واقعی سزا دینے کے فیصلے کے بعد ڈان اخبار میں خبر شائع کرنے والے صحافی سرل المیڈا کے بیرون ملک سفر پر پابندی عائد کرتے ہوئے ان کا نام ای سی ایل میں ڈال دیا گیا۔

اس حوالے سے 13 اکتوبر کر پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ قومی سلامتی کے منافی خبر سے دشمن ملک کے بیانیے کی تشہیر ہوئی ہے لہٰذا اس معاملے کی مکمل تحقیقات ضروری ہے اسی لیے صحافی سرل المیڈا کے بیرون ملک جانے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔

صحافی کا نام ای سی ایل سے نکال دیا گیا


صحافتی حلقوں کی جانب سے اعتراض اٹھانے اور سرل المیڈا کی واپسی کی یقین دہانی پر انہیں امریکا میں جاری صدارتی انتخاب کی کوریج کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دے دی گئی اس بات کا اعلان وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے اسلام آباد میں اخبارات کی دو تنظیموں کونسل آف نیوز پیپز ایڈیٹرز اور آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی کے مشترکہ وفود سے ایک ملاقات میں کیا۔

کور کمانڈرز کانفرنس میں خبر پر تشویش کا اظہار کیا گیا


دوسری جانب اعلیٰ فوجی کمانڈروں کے ایک اجلاس میں قومی سلامتی سے متعلق خبر کو من گھڑت اور بے بنیاد قرار دیتے ہوئے اس پر تشویش کا اظہار کیا گیا اور خبر کی اشاعت کی مکمل تحقیقات کر کے ذمہ داروں کے خلاف سخت سے سخت کارروائی پر زور دیا گیا۔

وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید برطرف


وزیراعظم نواز شریف نے قومی سلامتی سے متعلق متنازعہ خبر کی اشاعت کی شفاف تحقیقات کے لیے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر پرویز رشید کو ان کے عہدے سے برطرف کردیا جس کا باقاعدہ اعلامیہ 29 اکتوبر کو جاری کردیا گیا۔

فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کا قیام


حکومت نے قومی سلامتی کے منافی خبر کی اشاعت کی تحقیقات کے لیے ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں سات رکنی کمیٹی تشکیل دی جو خبر کی اشاعت کے ذمہ داروں کا تعین کر کے ان کے خلاف تادیبی کارروائی کے لیے سفارشات مرتب کر کے وزارت داخلہ کے حوالے کرے گی جسے وزیرداخلہ وزیراعظم کو پیش کریں گے۔

پڑھیں : قومی سلامتی سے متعلق خبر، تحقیقاتی کمیٹی قائم

وزارتِ داخلہ کے نوٹیفیکیشن کے مطابق سات رکنی کمیٹی کی سربراہی ریٹائرڈ جج جسٹس عامر رضا خان کو سونپی گئی جبکہ دیگر ممبران میں سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ طاہر شہباز، محتسبِ اعلیٰ پنجاب نجم سعید اور وفاقی تحقیقاتی ادارے کے ڈائریکٹر ڈاکٹر عثمان انور کے علاوہ آئی ایس آئی، ملٹری انٹیلیجنس اور انٹیلیجنس بیورو کا بھی ایک ایک نمائندہ شامل ہوگا۔

فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی رپورٹ


ریٹائرڈ جج عامر رضا خان کی سربراہی میں قائم کمیٹی نے پانچ ماہ کی طویل محنت کے بعد قومی سلامتی سے متعلق خبر کی اشاعت کے ذمہ داروں کا تعین کر کے اپنی سفارشات 26 اپریل کو وزارت داخلہ کو بھیجو ادیں بعد ازاں وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار نے وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کے دوران رپورٹ پیش کی۔

 معاون خصوصی طارق فاطمی برطرف  


وزیراعظم نے کمیٹی رپورٹ کے 18ویں پیرے کی منظوری دیتے ہوئے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی سفارشات کے مطابق اپنے معاون خصوصی برائے امور خارجہ طارق فاطمی کو عہدے سے ہٹا دیا جب کہ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات پرویز رشید کو اکتوبر میں ہی فارغ کردیا گیا تھا اور ان کی جگہ مریم اورنگزیب کو وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات کا قلمدان سونپا گیا تھا۔

وزیراعظم کا رپورٹ پر عمل در آمد سے متعلق اعلامیہ


وزیر اعظم ہاؤس کی جانب سے جاری ہو نیوالے اعلامیے پر وزیراعظم کےپرنسپل سیکریٹری فوادحسن فواد کے دستخط ہیں، جس میں وزیراعظم نے پرنسل انفارمیشن افسر راؤ تحسین کی خلاف کارروائی کی بھی سفارش کی ہے اور پرنسپل سیکرٹری برائے اطلاعات راؤ تحسین کے خلاف کا رروائی انیس سو تہترکے قوانین کے تحت ہوگی جب کہ روزنامہ ڈان ظفرعباس اور خبر شائع کرنے والے سرل المیڈا کا معاملہ اے پی این ایس کے سپرد کر دیا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے حکومتی اعلامیہ مسترد کردیا


پاک فوج کے تعلقات عامہ کے ادارے آئی ایس پی آر کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری کردہ اپنے پیغام میں ڈان لیکس سفارشات پر وزیراعظم کے اعلامیے کو نامکمل قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر آصف غفور نے اپنی ٹوئٹ میں مزید کہا کہ وزیراعظم کا عملدر آمد سے متعلق اعلامیہ فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی سفارشات سے ہم آہنگ نہیں ہے اور نہ ہی اس رپورٹ کی سفارشات پر من و عن عمل درآمد کیا گیا ہے اس لیے پاک فوج اس اعلامیہ کو مسترد کرتی ہے۔

جاتی امرا میں اہم اجلاس، اہم ذمہ داری تفویض کردی


فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی سفارشات پر عمل درآمد کرانے کے لیے جاری اعلامیہ کو پاک فوج کی جانب سے ناکافی اور انکوائری بورڈ کی سفارشات سے ہم آہنگ نہ قرار دیئے جانے کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال پر مشاورت کے لیے وزیراعظم نواز شریف نے آج اپنی رہائش گاہ جاتی امرا میں وفاقی وزراء اور چند اہم رفقاء کو طلب کیا۔

زرائع کا کہنا ہے اس اجلاس میں ڈان لیکس معاملے کو احسن طریقے سے نمٹانے اور عسکری قیادت اور سیاسی قیادت کے درمیان خلاء کو دور کرنے کے لیے وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور وزیر داخلہ چوہدری نثار کو اہم ذمہ داریاں تفویض کی گئی ہیں۔

مریم نواز کی تردید 


تاہم وزیراعظم کی صاحبزادی مریم نواز نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں وزیراعظم کی جانب سے ڈان لیکس پر کسی بھی قسم کا ٹاسک دینے کی خبروں کو غلط اور بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ آج کے اجلاس میں کسی سے رابطے کرنے کے کی ذمہ داریاں تفویض نہیں کی گئی ہیں۔

ڈان لیکس میں اہم پیشرفت، سیاسی و عسکری قیادت متفق


ڈان لیکس کے معاملے میں دس مئی 2017  کا دن انتہائی اہمیت کا حامل رہا جب وفاقی وزارت داخلہ کی جانب سے ایک نیا اعلامیہ جاری کیا گیا جس نے  پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم موڑ لیا یوں جہاں آج سیاسی قیادت نے نیا اعلامیہ جاری کر کے نامکمل ںوٹیفکیشن کو از سرنو ترتیب دیا وہیں عسکری قیادت نے بھی نئے اعلامیہ کو خوش آمدید کہتے ہوئے حکومتی کاوشوں کو سراہا اور سابقہ ٹوئٹ واپس لے لی گئی۔

ڈان لیکس سے متعلق وزارت داخلہ کا نیا اعلامیہ جاری


  وزارت داخلہ کی جانب سے ڈان لیکس انکوائری کمیٹی کی سفارشات پر عمل در آمد کے حوالے سے سابقہ اعلامیہ کو منسوخ کرتے ہوئے  *نیا اعلامیہ جاری*  کیا گیا جس میں سے کہا گیا ہے کہ کمیٹی اس بات پر متفق تھی کہ وزیر اعظم کے پرنسپل انفارمیشن افسر راؤ تحسین اپنی ذمہ داریاں انجام دینے میں ناکام رہے علاوہ ازیں طارق فاطمی سے بھی معاون خصوصی کا عہدہ واپس لے لیا گیا۔

نامکمل چیز مکمل ہوگئی، ٹوئٹ واپس لیتا ہوں، ڈی جی آئی ایس پی آر


وزارت داخلہ کی جانب سے ڈان لیکس پر نئے اعلامیہ کے جاری ہونے کے بعد ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے جی ایچ کیو میں نیوز  کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نامکمل چیز مکمل ہو گئی ہے اور سیاسی قیادت نے اس حوالے سے بہترین کاوشوں کا مظاہرہ کیا اور تمام غلط فہمیاں دور کیں۔

میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ پہلے جو نوٹی فیکیشن جاری کیا تھا وہ نامکمل تھا  جو آج نئے اعلامیے کے بعد مکمل ہوگیا ہے اس لیے ٹویٹ واپس لے لیا گیا ہے۔

ڈان لیکس کے حوالے سے ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ *ملک میں فائنل اتھارٹی صرف وزیراعظم ہیں* اور وہ جو حکم دیں گے اس پر عمل کیا جائے گا جب کہ مریم نواز سے متعلق سوال ہر انہوں نے کہا کہ میں آرمی کے شعبہ اطلاعات کا ڈائریکٹر جنرل ہوں اور فوج کے تمام عہدوں سے واقف ہوں ، ان کے حوالےسے جواب دے سکتا ہوں لیکن سویلین عہدوں کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکوں گا۔

ٹوئٹ واپس لینے سے بہتر تھا کہ مستعفی ہو جاتے، اعتزاز احسن 


سینیٹ میں قائد حزب اختلاف چوہدری اعتزاز احسن نے کہا کہ لگتا ہے حکومت نے مریم نواز کو بچالیا ہے جب کہ نئے اعلامیے میں بھی پرانے ہی بکروں کو دوبارہ ذبح کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ڈان لیکس میں ہونے والی اس پیشرفت سے لگتا ہے کہ حکومت اور فوج کے درمیان معاملات طے پا گئے ہیں جب کہ میں سمجھتا ہوں کہ  ڈی جی آئی ایس پی آر کو ٹوئٹ واپس ہی لینا تھی تو اس سے بہتر تھا کہ وہ مستعفی ہی ہو جاتے۔

  ڈان لیکس پر کیا معاملات طے پائے قوم کو بتایا جائے، عمران خان


چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے ڈان لیکس پر ہونے والی نئی اور کسی حد تک حتمی پیشرفت پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ڈان لیکس محض فوج یا حکومت کے مابین کوئی مسئلہ نہیں بلکہ قومی سلامتی سے متعلق اس معاملے سے پوری قوم جڑی ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا قومی سلامتی سے متعلق خبر کی اشاعت اتنا معمولی معاملہ نہیں کہ دو فریقین طے کر لیں ایسے ہی ایک معاملے کی وجہ سے ہیلری کلنٹن کو صدارتی انتخاب میں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

عمران خان نے مطالبہ کیا کہ ڈان لیکس پر جو بھی معاملات طے پائے ہیں انہیں پوری قوم کے ساتھ شیئر کیا جائے اور ڈان لیکس انکوائری کمیٹی کی مفصل رپورٹ کو جلد از جلد شائع کیا جائے تاکہ قوم کا ایک ایک فرد اس اہم معاملے کے ذمہ داران کے بارے میں جان سکے۔

اصل مجرموں کو بچا لیا گیا، قائد حزب اختلاف خورشید شاہ کا ردعمل 


قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ ڈان لیکس وزیر اعظم ہاؤس سے لیک ہوئی اور وزیراعظم ہاؤس ہی اس کا ذمہ دار ہے لیکن ڈان لیکس میں اصل مجرموں کو بچایا جارہا ہے۔

اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ کسی ادارے کو حق نہیں پہنچتا کہ وہ آئینی حدود سے تجاوز کرے اور کسی ادارے کو دوسرے ادارے کی توہین کا حق نہیں اور اداروں کا ٹکراؤ ملک کے مفاد میں نہیں ہے اور پیپلزپارٹی ٹوئٹ نہیں اداروں کے ساتھ ہے۔

ڈان لیکس 6 اکتوبر 2016 سے 10 مئی 2017 تک کا سفر تمام 


وفاقی وزرات داخلہ کی جانب سے جاری نئے اعلامیہ میں مرکزی کرداروں کا تعین اور تادیبی کارروائی کے بعد ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے  حکومتی کاوشوں کو سراہنا اور اپنی ٹوئٹ کو واپس لینے کے بعد سے لگتا یوں ہے کہ یہ معاملہ طے پایا گیا ہے اور سیاسی و عسکری قیادت میں تناؤ کی افواہیں دم توڑ گئیں۔

ایسا لگتا ہے کہ 6 اکتوبر 2016 کو انگریزی اخبار ڈان میں قومی سلامتی سے متعلق حساس خبر کے اجراء کے بعد پیدا ہونے والی غلط فہمیاں اور کشیدگی آج 10 مئی 2017 کو دور ہو گئی ہے یوں آٹھ ماہ پر محیط اس اہم ایشو کا خاتمہ ہوگیا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں