The news is by your side.

Advertisement

ڈان لیکس میں قصور واروں کو سزا نہیں دی گئی، ظفر اللہ جمالی

کراچی: سابق وزیراعظم پاکستان ظفر اللہ جمالی نے کہا ہے کہ جمہوریت میں وزرائےاعظم کے استعفے معمول کی بات ہے، ڈان لیکس میں جن لوگوں کو سزا ملنی چاہیے تھی انہیں چھوڑ دیا گیا۔

اے آر وائی نیوز کے پروگرام ’’سوال یہ ہے‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی ظفر اللہ جمالی نے کہا کہ ملک کی بڑی سیاسی جماعتیں اپنے لوگوں کو ٹرائل میں ڈال کر خود کو محفوظ رکھتی ہیں کیونکہ ہمارے یہاں سیاسی کھیل اسی طرح کھیلا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ڈان لیکس میں جن لوگوں کو سزا ملنی چاہیے تھی انہیں نہیں ملی، مسلم لیگ ن حکومت میں ہونے کے باوجود اداروں سے جنگ کررہی ہے جس کی وجہ سے پاکستان دنیا بھر میں بدنام ہورہا ہے۔

ختم نبوت ﷺ کے قانون میں ترمیم لوگوں کا ردعمل دیکھنے کے لیے کی گئی، جمالی

ظفر اللہ جمالی نے کہا کہ ختم نبوت ﷺ کے قانون میں ترمیم لوگوں کا ردعمل دیکھنے کےلیے کی گئی تھی، حکومت کو یہ حرکت نہیں کرنی چاہیے تھی کیونکہ کوئی بھی مسلمان ختم نبوت ﷺ پر چھیڑ چھاڑ برداشت نہیں کرسکتا۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ  ختم نبوت ﷺ کا معاملہ سامنے آیا تو  بیمار ہونے کے باوجود آج اسمبلی کے اجلاس میں پہنچا اور اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا، اگر اسمبلی میں بات کرنا شروع کرتا تو طوفان کھڑا ہوجاتا۔

ظفر اللہ جمالی نے شریف برادران کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت میں ہونے کے باوجود آپ جنگ کررہے ہیں، اداروں سے جنگ نہیں بلکہ انہیں مضبوط کرنا چاہیے، اگر نوازشریف نے میرے مشورے پر عمل کیا ہوتا اور وہ اچھے وزراء کو سامنے لاتے اس طرح کی صورتحال پیدا نہیں ہوتی۔

ویڈیو دیکھیں

مسلم لیگ ن کے رکن اسمبلی نے مزید کہا کہ نوازشریف کو مشورہ دے کر اپنا فرض پورا کردیا ہے کیونکہ جمہوریت میں وزرائے اعظم کے استعفے عام بات ہے مگر نوازشریف کو اپنی سربراہی کی فکر تھی۔


اگرآپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اوراگرآپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں ۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں