کشمیری حریت پسند دہشت گرد قرار، ڈان اخبار بھارتی زبان بولنے لگا -
The news is by your side.

Advertisement

کشمیری حریت پسند دہشت گرد قرار، ڈان اخبار بھارتی زبان بولنے لگا

کراچی: ڈان گروپ کی کشمیری حریت پسندوں کے خلاف مہم سے ادارے کا چہرہ ایک بار پھر عیاں ہوگیا۔

تفصیلات کے مطابق ملک دشمن خبروں، نوازشریف کامتنازع انٹرویو نشر کرنے کے بعد ڈان اخبارکا نیا پاکستان دشمن روپ سامنے آگیا، صحافت کی علمبرداری کا دعویٰ کرنے والے ادارے نے کشمیری حریت پسندوں کو دہشت گرد قرار دے دیا۔

حریت رہنما سید علی گیلانی نے ڈان اخبار کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم دہشت گرد نہیں ہیں‘۔

مزید پڑھیں: ڈان لیکس کا مواد عالمی ذرائع سے حاصل کیا

یاد رہے کہ انگریزی اخبار ڈان میں صحافی سرل المیڈا کی جانب سے چھ اکتوبر2017 کو وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والے اجلاس سےمتعلق دعوی کیا گیا تھا کہ اجلاس میں کالعدم تنظیموں کے معاملے پر عسکری اور سیاسی قیادت میں اختلافات سامنے آئے ہیں جس پر سیاسی اور عسکری قیادت نے سخت ردعمل دیتے ہوئے اس خبر کو قومی سلامتی کے منافی قرار دیا تھا۔

بعد ازاں ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے حکومت کی جانب سے ڈان لیکس رپورٹ پر جاری اعلامیہ کو مسترد کرنے سے متعلق اپنی سابقہ ٹوئٹ کو واپس لیتے ہوئے کہا تھا کہ وزارت داخلہ کی جانب سے جاری نئے اعلامیے سے ’’نامکمل ‘‘چیز ’’مکمل‘‘ ہو گئی اور اس حوالے سے حکومت کی کاوشوں کو سراہتے ہیں۔

وزیراعظم نے قومی سلامتی کے منافی خبر کو من گھڑت قرار دیا

خبر کی اشاعت کے بعد سابق آرمی چیف جنرل راحیل اور آئی ایس آئی کے سربراہ رضوان اختر نے وزیراعظم سے ملاقات کی اس دورن وزیر داخلہ ، وزیر خزانہ اور وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف بھی موجود تھے۔

مزید پڑھیں: قومی سلامتی کمیٹی نے نوازشریف کا بیان متفقہ طور پر مسترد کردیا

وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والی اس ملاقات میں قومی سلامتی سے متعلق حساس خبر کو من گھڑت قرار دیتے ہوئے اس کے ذمہ داران کا تعین کر کے سخت کارروائی کا فیصلہ کیا گیا۔

بعد ازاں ڈان اخبار نے ہی سابق وزیراعظم میاں محمد نوازشریف کا ممبئی حملوں سے متعلق متنازع انٹرویو نشر کیا تھا جس میں انہوں نے ممبئی حملوں میں ملوث افراد کا تعلق پاکستان سے بتایا تھا البتہ قومی سلامتی کی کمیٹی نے نوازشریف کے بیان کو متفقہ طور پر مسترد کردیا تھا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں