ہفتہ, مئی 16, 2026
اشتہار

ایک ہندوستانی صاحبِ مضراب اور پال کیلر

اشتہار

حیرت انگیز

یہ فنِ موسیقی، ہندوستانی تہذیب و ثقافت اور اس کے ایک دیوانے کا ایسا قصّہ ہے جو ایک امیر باپ کی اولاد تھا۔ نام اس کا پال کیلر تھا۔ یہ قصّہ پُرلطف اور دل چسپ بھی ہے جس کے اختتام پر آپ جانیں گے کہ پال کیلر نے اسلام قبول کرلیا تھا۔

یہ قصّہ داؤد رہبر کے قلم کی نوک سے نکلا ہے جو اردو دنیا میں علم و فنون کے ایک شیدائی اور مصنّف کے طور پر مشہور ہوئے۔ وہ امریکہ میں‌ رہے اور وہیں وفات پائی۔ داؤد رہبر مذاہب کے تقابلی مطالعے کے استاد تھے۔ انھوں نے انگلستان، کینیڈا اور ترکیہ کے علاوہ امریکہ کی جامعات میں بطور معلّم خدمات انجام دیں۔ انھیں شاعر، مضمون نگار اور بطور ماہرِ‌ موسیقی شہرت ملی۔ ان کی کتاب پراگندہ طبع لوگ سے یہ اقتباس پیشِ‌ خدمت ہے۔

"استاد حیدر حسین مرحوم کی ستار نوازی دلّی کے ریڈیو اسٹیشن سے نشر ہوا کرتی تھی۔ میں خاص شوق سے سنا کرتا تھا۔ ان کے انوکھے باج پر حیرت ہوتی تھی۔ ستار ایک زنانہ ساز ہے، مرحوم کے باج میں مردانہ پن تھا۔ اگر یہ کہیں کہ ان کی ستار کی ساخت سے یہ بات پیدا ہوئی تو یہ توجیہ پوری نہیں ہے۔ مردانہ تاثیر کا اصل راز ان کی ضربِ مضراب میں تھا۔”

"مرحوم کے بھانجے اُستاد محمود میرزا ۱۹۷۰ء میں بوسٹن آئے۔ یہ اُن کے پورے شباب کا زمانہ تھا۔ بوسٹن میں ان کا پہلا جلسہ ہوا تو انہوں نے کانوں میں امرت گھولا۔ یہ جان کر کہ آپ استاد حیدر حسین کے بھانجے ہیں محبت نے جوش کیا۔ آپ پانچ مہینے بوسٹن میں مقیم رہے، جے پور کے بلند آہنگ طبلہ نواز استاد فیاض خان ان کی سنگت کو ہمراہ تھے۔”

"محمود صاحب کے بوسٹن آنے کی خبر مجھ کو ٹیلی فون پر ایک انگریز نے دی جس کا نام پال کیلر ہے۔ میں اس ہوٹل میں پہنچا جہاں محمود صاحب ٹھیرے ہوئے تھے۔ وہاں پال کیلر سے بھی ملاقات ہوئی۔ باریش جوان، بے تکلف اور کھلنڈرا۔ لطیفے پر خوب ہنسنے والا۔ اس کی بیوی اور ان کا ننھا بچّہ بھی ہوٹل میں موجود تھے۔ ہوٹل سے یہ کرائے کے ایک فلیٹ میں اُٹھ آئے۔ پانچ مہینے ان سب نے بوسٹن میں گزارے۔ خوب ان سے میل جول رہا۔ پال کیلر کے جو احوال معلوم ہوئے بیان کے قابل ہیں۔”

"اس سعادت مند کا باپ لندن میں عینکوں کے ایک کارخانے کا مالک ہے اور بہت مال دار آدمی ہے۔ بیٹے یعنی پال کیلر نے پرائمری اسکول کے بعد اسکول جانا چھوڑ دیا۔ رسمی تعلیم کو خیر باد کہا۔ اس کا اُٹھنا بیٹھنا آرٹسٹوں کے درمیان رہا۔ باپ کے تمول کی وجہ سے بیٹے کی آمد و رفت خوش حال گھرانوں میں رہی۔ یوں اس کے پیشہ کا تعین ہوا۔ اس خوش حال طبقے کی سرپرستی میں اس نے مصوروں اور پیکر گروں کے آرٹ کی نمائشوں کے انتظام کرنے شروع کیے اور آرٹسٹوں کا ایجنٹ ہو کر معروف ہوا۔”

"یورپ اور امریکہ میں ۱۹۶۰ اور ۱۹۷۰ء کے درمیان ہندوستان کے رقاص اور موسیقار یکایک مقبول ہوئے۔ ستاریوں اور طبلہ نوازوں کی دھوم مچ گئی۔ محمود میرزا لندن پہنچے، لندن کے سامعین چند جلسوں میں ان کی کلا کاری سے متعارف ہوئے۔ ایک جلسے میں پال کیلر بھی موجود تھا۔”

"ستار نوازی جب اختتام کو پہنچی اور تالیوں کا شور ہوا اور سارے سامعین داد دینے کو کھڑے ہو گئے تو پردے کے پیچھے سے محمود صاحب نے نکل کر ایک دل آویز ادا کے ساتھ سَر کو دائیں طرف ذرا سا خم دے کر آداب عرض کے انداز سے داد وصول کی اور پھر پردے کے پیچھے چلے گئے۔ مجمع تالیاں بجاتا رہا اور خواہش مند رہا کہ محمود صاحب پھر درشن دیں لیکن محمود صاحب کی خودداری قائم رہی اور وہ دوبارہ داد لینے کو اوٹ سے باہر نہ آئے۔”

"پال کیلر نے اس سے پہلے پنڈت روی شنکر کے داد وصول کرنے کا انداز بھی دیکھا تھا، پنڈت جی بندگی کے ڈھنگ سے ہاتھ جوڑ کر رکوع میں جایا کرتے ہیں۔ پال کیلر کو محمود صاحب کا خوددارانہ انداز بے حد دل کش لگا۔ محمود صاحب کی شخصیت اس پر چھا گئی، اس نے محمود صاحب سے التماس کیا مجھے اپنا ایجنٹ بنا لو، محمود صاحب نے یہ خواہش رد نہ کی۔ دونوں کے درمیان اخوت کا تعلق پیدا ہوا، اس کا اثر ایسا دور رس ہوا کہ پال کیلر کلمۂ شہادت پڑھ کر مسلمان ہوا۔ اس کی بیوی اینا بیلا بھی اسلام لائی۔ دیکھیے قدرت کے کھیل کہ صاحبِ مضراب نے وہ کام کر دکھایا جو صاحبِ محراب سے نہ ہو سکا۔”

"یہ لوگ بوسٹن میں آکر ٹھہرے تو ان سے تقریباً روزانہ ملاقات ہوئی۔ کبھی ہمارے گھر پر، کبھی ان کی جائے قیام پر، کبھی کسی ریستوراں میں۔ پال کیلر کی موجودگی کی وجہ سے گفتگو انگریزی میں ہوتی۔ استادِ طبلہ فیاض خان کو انگریزی نہیں آتی تھی۔ بغیر سمجھے ہماری گفتگو کی آوازوں کے زیر و بم سے لطف اٹھاتے۔ ہم اپنے لطیفوں پر ہنستے تو قہقہہ مار کر ساتھ دیتے۔ ایک بار میں نے چھیڑ کر کہا آپ کیوں ہنسے، بات تو آپ کی سمجھ میں آئی نہیں۔ بولے، سمجھ میں نہیں آئی لیکن تھی مزے کی۔”

"نو مسلم پال کیلر کو اسلامی تہذیب کی لطافتوں کی ٹوہ لگی رہتی تھی۔ عقاید کے مسائل اس کی زبان پر نہ آئے۔ فنونِ لطیفہ اور ادبیات کے موضوعات پر باتیں ہوتیں۔ میں نے ایک روز اس سے کہا کہ اسلامی کلچر میں فنِ گفتگو کا شمار فنونِ لطیفہ میں ہونا چاہیے بلکہ اسے سرفہرست سمجھنا چاہیے۔ شرکائے بزم کی وضع قطع، جوتا اتار کر بیٹھنے کی راحت، فرش پر آسن جمانے اور پہلو بدلنے کے آداب، حفظ مراتب کے ڈرامے، تواضع کی اداکاریاں، سکوت کے احساس بھرے وقفے اور ان میں پھبتی کی سوچ، بساط پر پیچوان کا مقام، برمحل اشعار کے پٹاخے۔ تہذیب کی اس فضا کا ایسا نقشہ میں نے کھینچا کہ پال کیلر وجد میں آیا۔ سعدی، غالب، داغ اور سید انشاء جیسے اُستادانِ تکلم کے قصے بھی میں نے سنائے۔ ظاہر ہے کہ ان اذکار کے ساتھ تصوف اور تغزل کے موضوع بھی درمیان آئے۔ دم بخود ہو کر پال کیلر سنتا رہا اور اپنے مسلمان ہو جانے پر جی ہی جی میں الحمد للہ اور سبحان اللہ کہتا رہا۔ اب اس کی سمجھ میں آ رہا تھا کہ لندن میں اسٹیج پر اُستاد محمود میرزا کی جس ادا پر وہ پھڑک کے رہ گیا تھا اس کے پیچھے شائستگی کی ایک ہزار سالہ روایت ہے۔”

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں