The news is by your side.

Advertisement

مردہ قرار دیا گیا قیدی پوسٹمارٹم سے چند لمحے قبل زندہ ہوگیا!

اسپین کی ایک جیل میں بے ہوش ہونے والے قیدی کو مردہ قرار دیدیا گیا لیکن اسپتال میں پوسٹمارٹم سے چند لمحے قبل وہ زندہ ہوگیا۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق اسپین کے علاقے ولابونا میں واقع آسٹوریاس جیل میں قیدی گونزالو مونڈویا جمنیز کو بے ہوش دیکھ کر پولیس گارڈ نے اس کی اطلاع جیل حکام کو دی جس کے بعد اسے اوویڈو کے انسٹی ٹیوٹ آف لیگل میڈیسن لے جایا گیا۔

ہسپانوی جیل کے ترجمان کے مطابق اسپتال میں دو ڈاکٹروں نے قیدی کی موت کی تصدیق کی جس کے بعد عدالت نے ایک فرانزک ڈاکٹر بھیجا جس نے قیدی کی موت کی حتمی تصدیق کی۔

رپورٹ کے مطابق ڈاکٹروں نے قیدی میں سائنوسس کے آثار دیکھے اور آکسیجن کی کمی کی وجہ سے جلد کی تبدیل ہوتی رنگت کا مشاہدہ کیا۔

مردہ قرار دیے جانے کے بعد جمنیز کی لاش کو اسپتال کے مردہ خانے میں رکھ دیا گیا جہاں بیگ میں اچانک اس کے دل نے دھڑکنا شروع کردیا۔

اطلاع ملنے پر فرانزک ڈاکٹر نے بیگ سے کان لگا کر سنا تو اسے بھی دل دھڑکنے اور سانس لینے کی آواز واضح سنائی دی جس پر اس نے فوراْ بیگ کھولا تو قیدی میں زندگی کی علامات تھیں۔

رپورٹ کے مطابق جمنیز اپنے پوسٹ مارٹم سے چند لمحے قبل ہی ہوش میں آیا کیونکہ اس کے جسم پر قلم سے ان جگہ نشانات لگے ہوئے تھے جہاں سے پوسٹمارٹم کرنے والے ڈاکٹروں نے اس کا جسم چیرنا تھا۔

ڈاکٹروں کی اس سنگین غلطی کے بعد قیدی جمنیز کو دوسرے اسپتال منتقل کردیا گیا جہاں اطلاعات کے مطابق اس کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

ہسپانوی جیل ترجمان کے مطابق دلچسپ بات یہ ہے کہ قیدی کے اہلخانہ کو بھی اس کے انتقال کی خبردے دی گئی تھی۔

واضح رہے کہ اسی طرح کا ایک واقعہ کینیا میں بھی کچھ عرصہ قبل پیش آیا تھا جہاں ایک شخص مردہ خانے میں اس وقت بیدار ہوا جب کارکن اس کے جسم سے خون نکالنے کی تیاری کررہے تھے۔

مذکورہ شخص کی شناخت 32 سالہ پیٹر کیگن کے نام سے ہوئی تھی اور اس نے ہوش میں آتے ہی چیخنا شروع کردیا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں