The news is by your side.

مردہ مچھلیوں سے بحری جہازوں کا ایندھن بنانے کی تیاری

اوسلو: ناروے کی سب سے بڑی کروز آپریٹر کمپنی سمندری آلودگی میں کمی اور کلائمٹ چینج سے نمٹنے کے لیے مردہ مچھلیوں سے جہازوں کا ایندھن بنانے کا ارادہ رکھتی ہے۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ بحری جہازوں کے لیے زہریلا فیول آئل استعمال کرنے کے بجائے ماہی گیری کی صنعت میں بچ جانے والی مچھلیوں اور دیگر نامیاتی اجزا کو ملا کر بائیو گیس بنائی جائے گی۔

کمپنی کے چیف ایگزیکٹو کا کہنا ہے کہ جسے دوسرے لوگ مسئلہ سمجھتے ہیں اسے ہم ایک حل اور ایک ذریعے کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس طرح سے حاصل ہونے والے ایندھن کے استعمال سے ان کی کمپنی دنیا کی پہلی کمپنی بن جائے گی جو بحری جہازوں کو فوسل فری ایندھن سے چلائے گی۔

مزید پڑھیں: دنیا کا سب سے بڑا بحری جہاز آلودگی میں اضافے کا سبب

کمپنی کے ترجمان کے مطابق مذکورہ منصوبے پر عملدر آمد سنہ 2019 کے آخر تک شروع ہوجائے گا۔ کمپنی سنہ 2021 تک اپنے تمام جہازوں کو اسی ایندھن پر منتقل کر کے ماحول دوست بنانے کا ارادہ رکھتی ہے۔

ناروے میں ماہی گیری اور جنگلات کی بہت بڑی صنعت ہے جس سے بڑی مقدار میں نامیاتی کچرا حاصل ہوتا ہے۔

دوسری جانب کروز شپ کمپنیوں کو ماحول کی تباہی کا بڑا ذمہ دار بھی قرار دیا جاتا ہے۔ ایک تحقیق کےمطابق ایک بڑے بحری جہاز کا ایندھن سمندر میں روزانہ اتنی ہی آلودگی پیدا کرتا ہے جتنی سڑک پر 10 لاکھ گاڑیاں روزانہ کی مقدار میں پیدا کرتی ہیں۔

ناروے میں ٹرانسپورٹ کے کئی ذرائع پہلے ہی ماحول دوست توانائی پر منتقل کیے جاچکے ہیں۔ نارو ے سنہ 2026 تک اپنے تمام بحری جہازوں کے لیے بھی صفر اخراج کا ہدف رکھتا ہے۔

ناروے میں پہاڑوں سے گھرا ایک تنگ راستہ فیورڈ جو بحری جہازوں کی اہم گزرگاہ ہے، یونیسکو کی عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں بھی شامل ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں