The news is by your side.

Advertisement

آپ کا بیٹا انتقال کرچکا ہے، بھارت میں ایک اور زندہ شخص مردہ قرار

نئی دہلی: بھارتی شہرلکھنو میں مردہ قرار دیے جانے والے مسلمان نوجوان آخری رسومات کے دوران اٹھ کر بیٹھ گیا جنہیں دیکھ کر گھر والے حیرت زدہ ہوگئے۔

بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بھارتی شہر لکھنو سے تعلق رکھنے والے 20 سالہ نوجوان شہری محمد فرقان طبیعت خراب ہونے پر اسپتال منتقل کیا گیا تھا اسپتال پہنچنے تک نوجوان بے ہوش ہوچکا تھا۔

مقامی میڈیا کا کہنا تھا کہ اسپتال انتظامیہ نے نوجوان کا 7 لاکھ روپے کا بل بنانے کے بعد اسے مردہ قرار دے دیا، فرقان کے اہلخانہ نے ڈاکٹر کی جانب سے موت کی تصدیق ہونے کے بعد رشتے داروں کو آگاہ کرنا شروع کیا تاکہ نوجوان کی آخری رسومات ادا کی جاسکیں اور آخری رسومات کے لیے مذہبی پیشوا کی خدمات طلب کیں۔

مردہ قرار دیے جانے والے شہری کی آخری رسومات روایتی طریقے سے جاری تھیں کہ غم سے نڈھال بڑے بھائی نے فرقان کے ہاتھ، پاؤں میں جنبش دیکھی اور اہلخانہ کوآگاہ کیا جس کی تصدیق اہل خانہ نے بھی کی۔

خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ اہل خانہ نے واقعے کے بعد فرقان کو آواز دی تو نوجوان نے آنکھیں کھولی جس کے بعد اسے دوبارہ اسپتال لے جایا گیا جہاں ڈاکٹرز نے اس کے زندہ ہونے کی تصدیق کردی۔

مزید پڑھیں: بھارت میں مردہ شخص پوسٹ مارٹم کے دوران جی اٹھا

یاد رہے کہ گزشتہ برس نومبر میں بھی بھارتی ریاست راجستھان میں مردہ قرار دیے جانے والے 95 سالہ بزرگ آخری رسومات میں اٹھ کر بیٹھ گئے تھے جنہیں دیکھ کر گھر والے خوف سے بھاگ کھڑے ہوئے۔

مردے کے زندہ ہونے کے بعد اہل خانہ اور علاقہ مکینوں نے اُن کے ساتھ تصاویر بنوائیں مذکورہ واقعہ 11 نومبر بروز اتوار پیش آیا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں