The news is by your side.

Advertisement

ڈیڈ لائن ختم! غیرملکیوں کی مشکلات میں اضافہ

ریاض: سعودی وزارت افرادی قوت و سماجی بہبود آبادی کا کہنا ہے کہ مملکت میں مختلف شعبوں میں سعودائزیشن کیلئے دی گئی ڈیڈ لائن ختم ہوگئی ہے۔

عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب میں 2 اکتوبر تک ہوٹلوں، کافی شاپس، بقالوں اور مالز میں سعودائزیشن کی مقررہ ڈیڈ لائن تھی جو ختم ہوگئی اب اگر مذکورہ شعبوں میں خاص شرح کے تحت تارکین وطن کی جگہ مقامیوں کو نوکریاں نہیں دی گئیں تو ایکشن لیا جائے گا۔

سعودی وزارت افرادی قوت کا کہنا ہے کہ مملکت میں سعودائزیشن کے مطابق سعودیوں کو روزگار کے زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کرنے کے لیے مختلف شعبوں میں غیر ملکی کارکنوں کی جگہ مقامیوں کی تقرری لازمی ہے۔

وزارت کی جانب سے 2 اکتوبر2021 تک ریسٹورانٹس، کافی شاپس ، بقالوں اور مرکزی مارکیٹوں میں مرحلہ وار سعودی کارکنوں کے تقرر کے لیے دی جانے والی پہلی مہلت ختم ہوگئی، ہر شعبے کے لحاظ سے سعودائزیشن کی شرح مقرر کی گئی ہے، کہیں 20 فیصد تو کہیں 40 جبکہ ایسی مراکز بھی ہیں جہاں 10 فیصد مقامی ملازمین ہونا لازمی ہے۔

سعودی عرب میں کافی شاپس اور آئس کریم کی دکانوں کے لیے 30 فیصد سعودائزیشن ہوگی جبکہ مالز میں مذکورہ دکانیں ہونے پر 50 فیصد کے حساب سے سعودائزیشن طے ہے۔

سعودی حکومت کی نئی پابندیاں، غیرملکی مشکل میں پھنس گئے

اسی طرح فوڈ ٹرک جن میں آئس کریم اور مشروبات فروخت کرنے والے شامل ہیں ان کے لیے 100 فیصد سعودائزیشن لازمی ہے یہ قانون بلا استثنی مملکت کے تمام علاقوں میں نافذ کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ سعودائزیشن سے مستثنی شعبے کیفے ٹیریا ، فیکٹریوں، ہسپتالوں، اسکول کینٹین، رہائشی ہوٹلوں اور فرنشڈ اپارٹمنٹس کی کینٹین (باورچی خانوں میں کام کرنے والے ) ہوں گے۔ حکام کا کہنا ہے کہ مملکت میں سعودی شہریوں کو زیادہ سے زیادہ روزگار کے مواقع فراہم کرنا بنیادی ہدف ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں